یمن کے مظلوم مسلمانوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے جیکب آباد میں احتجاجی مظاہرہ، پاکستان یمن کے مسلمانوں سے لڑنے کے لئے فوج نا بھیجے۔ دو مسلمان ملکوں کی لڑائی میں ثالثی کا کردار ادا کرے۔
جیکب آباد(رپورٹ: اے جی بلوچ) ملک گیر یومِ احتجاج کے موقع پر آج امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آئی ایس او) کے زیرِ اہتمام مرکزی امام بارگاہ و جامع مسجد امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے یمن کے مظلوم مسلمانوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے احتجاجی جلوس نکالا گیا اور مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے کی قیادت مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی، آئی ایس او ضلع جیکب آباد کے صدر برادر اظہار الحسن، بزرگ شیعہ رہنما سید لعل شاہ بخاری، نثار احمد ابڑو، نظیر حسین جعفری اور دیگر رہنماؤں نے کی۔ شرکاء نے ’’الموت لأمریکا، الموت لإسرائيل‘‘ کے نعرے لگائے۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ یمن کے مسلمان طویل عرصے سے جنگ، بمباری اور انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ یمن کے عوام فلسطین کے مظلوموں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، اس لیے ان کے خلاف امریکا اسرائیل اور آل سعود مل کر نفرت انگیز پروپیگنڈہ اور فوجی کارروائی کر رہے ہیں۔ پاکستان کو امریکی سازش کو سمجھنا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں پاک فوج سے محبت ہے، یہ پاکستان کے عوام کی فوج ہے اور اس کا بنیادی فریضہ وطن کا دفاع ہے۔ پاکستان کو کسی صورت یمن کے مظلوم عوام کے خلاف جنگ میں شریک نہیں ہونا چاہیے۔ حرمین شریفین کا مقدس نام استعمال کر کے آل سعود کے مجرمانہ کردار کی پشت پناہی قبول نہیں۔ حکومت پاکستان کسی ایسے فیصلے سے گریز کرے جس سے مسلم ممالک میں تصادم بڑھے اور پاکستان میں فرقہ واریت کو ہوا ملے۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے حکومت، عسکری قیادت اور وزارتِ خارجہ سے مطالبہ کیا کہ یمن کے معاملے پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بحث کرائی جائے، پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے اور پاکستانی فوج کو یمن کے خلاف کسی جنگی کارروائی میں شریک نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جنگ کا حصہ بننے کے بجائے مسلم ممالک کے درمیان امن، اتحاد اور سفارتی مفاہمت کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔
اس موقع پر آئی ایس او ضلع جیکب آباد کے صدر برادر اظہار الحسن نے کہا کہ یمن کے مظلوم عوام سے اظہارِ یکجہتی ہمارا دینی اور انسانی فریضہ ہے۔ پاکستان کی نوجوان نسل مظلوم یمنی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ پاکستان کو کسی نئی علاقائی جنگ کا حصہ بنانے کے بجائے امن اور انسانی امداد کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جائے۔ انصار اللہ یمن اور حوثیوں نے ہمیشہ عشق رسول ﷺ کے تقاضے پورے کئے ہیں ان سے مکہ اور مدینہ منورہ کو کوئی خطرہ نہیں۔ اصل خطرہ اسرائیل سے ہے۔
شرکاء نے یمن کے مظلوم عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں قومی مفاد، مسلم اتحاد اور علاقائی امن کو ترجیح دے۔
