میڈیکل ایجوکیشن کا تجارتی روپ: مسیحا، سرمایہ کاری اور غریب عوام

​از قلم: چوہدری احمد بیوروچیف (ڈیرہ غازی خان)

​ملک میں تعلیمی و طبی اخراجات کے حوالے سے گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں ایک انتہائی سنجیدہ اور فکر انگیز بحث جاری ہے۔ اس بحث کی بنیاد ایک صارف شیخ گلفام کا وہ تلخ جملہ بنا جس میں انہوں نے لکھا:

​”جس ملک میں میڈیکل کالج کی سالانہ فیس بیس لاکھ روپے ہو، وہاں مسیحا نہیں قصائی ہی پیدا ہوتے ہیں!”

​یہ محض ایک جذباتی بیان نہیں بلکہ اس تلخ حقیقت کی نشاندہی ہے کہ طب جیسا مقدس پیشہ اب غریب کی پہنچ سے دور ہو کر ایک خالص تجارتی صنعت بن چکا ہے۔ جب ایک طالب علم اور اس کا خاندان ڈاکٹر بننے کے لیے کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کرتا ہے، تو عملی میدان میں قدم رکھتے ہی افسر وہاب خان کے اس تبصرے کا عکس سامنے آتا ہے کہ “جو کروڑوں لگائے گا، وہ پورا بھی کرے گا”۔

​ظاہر ہے، جب تعلیم کے نام پر لاکھوں اور کروڑوں روپے بٹورے جائیں گے تو فارغ التحصیل ہونے والا ڈاکٹر مسیحائی کا جذبہ رکھنے کے بجائے سب سے پہلے اپنی سرمایہ کاری کی واپسی (ROI) اور منافع کمانے کے بارے میں سوچے گا۔ اس کا براہِ راست اثر عام اور غریب مریض پر پڑتا ہے، جسے علاج کے نام پر بھاری فیسوں، بے جا ٹیسٹوں اور مہنگی ادویات کے بوجھ تلے دبا دیا جاتا ہے۔

​سوال یہ ہے کہ غریب کے بچے کہاں جائیں؟
​اس تمام تر صورتحال میں سب سے بڑا سوالیہ نشان غریب اور متوسط طبقے کے ہونہار بچوں کے مستقبل پر لگتا ہے۔

​قابلیت کے باوجود داخلہ مشکل: اعلیٰ نمبرات اور قابلیت ہونے کے باوجود غریب کا بچہ صرف اس لیے پیچھے رہ جاتا ہے کہ اس کے پاس پرائیویٹ کالجز کی بھاری فیسیں ادا کرنے کے وسائل نہیں ہوتے۔
​پرائیویٹ کالجز کی بھر مار: سرکاری میڈیکل کالجوں میں نشستیں محدود ہیں جبکہ پرائیویٹ کالجز کی بھر مار ہے، جہاں تعلیم کا معیار چاہے کچھ بھی ہو، فیسیں آسمان سے باتیں کر رہی ہوتی ہیں۔
​کیا تعلیم صرف ان کا حق ہے جن کی جیبیں بھری ہوئی ہیں؟ کیا ایک غریب کا ذہین بچہ صرف اس لیے ڈاکٹر نہیں بن سکتا کہ اس کا باپ کروڑوں روپے فیس نہیں دے سکتا؟

​حل: حکومت کے لیے لائحہ عمل
​اس سنگین مسئلے کا حل کسی جادو کی چھڑی میں نہیں بلکہ حکومت کی درست ترجیحات اور بنیادی اصلاحات میں پنہاں ہے۔ اگر حکومت اس شعبے کی بہتری کے لیے ذیل میں دیے گئے اقدامات کرے تو حالات میں نمایاں تبدیلی لائی جا سکتی ہے:

​سرکاری میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں کا قیام: حکومت کو چاہیے کہ ملک بھر میں اور بالخصوص پس ماندہ اضلاع میں نئے سرکاری میڈیکل کالجز اور طبی یونیورسٹیاں قائم کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ طالب علموں کو میرٹ پر سستی تعلیم مل سکے۔
​فیسوں کی حد بندی (Regulated Fees): پرائیویٹ کالجز کو من مانی فیسیں وصول کرنے سے روکا جائے اور سرکاری و پرائیویٹ دونوں سطحوں پر فیسیں انتہائی کم اور مناسب مقرر کی جائیں۔
​ڈاکٹرز کی تعداد میں اضافہ اور منافع خوری پر قابو: جب ملک میں زیادہ تعداد میں ڈاکٹرز تیار ہوں گے تو صحت کے شعبے میں توازن قائم ہوگا۔ ڈاکٹروں کی من مانی فیسوں اور احتکار (Monopoly) کا خاتمہ ہوگا، کیونکہ انہیں معلوم ہوگا کہ مارکیٹ میں متبادل موجود ہے۔
​علاج کے معیار میں بہتری: جب طبی شعبے سے تجارتی دباؤ ختم ہوگا تو علاج محض رقم کمانے کا ذریعہ نہیں رہے گا بلکہ صحیح اور معیاری علاج عام آدمی تک پہنچے گا۔
​نتیجہ
​اگر طب کو کاروبار بننے سے نہ روکا گیا تو آنے والے وقت میں بیماریوں میں اضافہ ہوگا اور غریب کے لیے جینا مزید دشوار ہو جائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت فوری طور پر میڈیکل ایجوکیشن کو عام اور سستا کرے تاکہ غریب کے بچوں کے لیے ڈاکٹر بننے کی راہ ہموار ہو، مریضوں پر فیسوں کا بوجھ کم ہو، اور صحت کے شعبے میں واقعی “مسیحا” پیدا ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *