“​مزارِ قائد “کے اطراف بلند عمارات، شہری ارضیات، قوانین اور بائیو کلیمیٹک اثرات پر تحقیقی و سائنسی رپورٹ”

(​ترتیب نظام الدین)

​مزارِ قائد کے اطراف میں تیزی سے ابھرتی ہوئی بلند و بالا عمارتوں نے ایک بنیادی اور حساس شہری سوال کو جنم دیا ہے۔ کیا تاریخی، قومی اور استعاراتی اہمیت رکھنے والے اس علاقے میں بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر محض نجی جائیداد کے”حقِ استعمال” کا معاملہ ہے؟یا اس کے ساتھ شہری منصوبہ بندی، ماحولیاتی تحفظ،ٹریفک و انفراسٹرکچر کی گنجائش اور قومی ورثے کے تحفظ کی سنگین ذمہ داریاں بھی وابستہ ہیں؟
​یہ سوال اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب مزارِ قائد کے بالکل قریب دو بڑے ہائی رائز منصوبے ابھر کر سامنے آتے ہیں’
​حمزہ آئیکون جیکب لائن اور صدر کےگنجان علاقے میں واقع 26 منزلہ رہائشی وتجارتی منصوبہ بشمول5 منزلہ پارکنگ۔ ​صائمہ سینٹر اینڈ پوائنٹ شاہراہِ ایم اے جناح پلاٹ نمبر 133/B اور 134/B پر قائم ہونے والا 3 ٹاورز اور 42 منزلوں پر مشتمل ایک میگا ہائی ڈینسٹی اسٹرکچر ہے،
مزارِ قائد جو محض ایک عمارت نہیں بلکہ پاکستان کی قومی شناخت، تاریخی یادداشت اور ریاستی عظمت کی علامت ہے۔ قائدِ اعظم مزار مینجمنٹ بورڈ کے مطابق مزار کا کل رقبہ 131.71 ایکڑ پر محیط ہے، جس میں مرکزی مزار، باغِ قائد، مختلف زونز اور بیرونی حدود شامل ہیں۔بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ایسی تاریخی یادگاروں کے اطراف میں کسی بھی تعمیراتی منصوبے کے لیے درج ذیل عوامل کی جانچ لازم ہوتی ہے
​اضافی ٹریفک کا دباؤ
​پانی، سیوریج اور ڈرینیج کی گنجائش
​ہنگامی انخلا اور فائر سیفٹی ​ہوا کے بہاؤ اور مقامی درجہ حرارت پر اثرات ​زلزلہ اور مٹی کی برداشت کی صلاحیت ​تاریخی و ثقافتی ورثے کا تحفظ
​سوال یہ ہے ان دونوں میگا پروجیکٹس کی منظوری دیتے وقت مزارِ قائد کے وسیع تر تاریخی اور شہری منظر نامے کو ایک “مربوط نظام” کے طور پر دیکھا گیا یا ہر پلاٹ کو ایک الگ اور مجرد تعمیراتی یونٹ سمجھ کر فیصلہ کیا گیاصائمہ سینٹر اینڈ پوائنٹ 42 منزلہ جیسی عمودی کنکریٹ کی عمارتیں محض عام رہائشی ڈھانچے نہیں بلکہ ہائی ڈینسٹی میگااسٹرکچرز ہیں۔کراچی کا ساحلی اور نیم خشک طبعی ماحول مخصوص جیو ٹیکنیکل مطالعے کا تقاضا کرتا ہے۔ 42 منزلہ عمارت کی منظوری کے لیے صرف زمین کی اوپری سطح کا معائنہ یا نقشہ پاس ہونا کافی نہیں ہوتا۔
​اس نوعیت کے منصوبوں کے لیے زیرِ زمین مٹی کی تہیں بھاری کنکریٹ اور متعدد ہائی رائز ٹاورز کا بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں؟​ عمارت کی گہری بنیادوں اور متعدد زیرِ زمین منزلوں کے لیے کی جانے والی کھدائی کا زیرِ زمین واٹر ٹیبل اور قریبی قدیم عمارتوں و سڑکوں کی پائیداری پر کیا اثر پڑے گا؟ ​کیا عمارت کے زلزلہ مخالف ڈیزائن
کا کسی مستقل اور آزاد جیو ٹیکنیکل ادارے سے تکنیکی آڈٹ کروایا گیا ہے؟​ایک 42 منزلہ کنکریٹ، سٹیل اور شیشے کا ڈھانچہ مقامی ماحول میں ایک بڑا عمودی سطح کا حائل بن جاتا ہے۔ شیشہ اور کنکریٹ سورج کی حرارت کو جذب اور منعکس کرتے ہیں، جس سے​اردگرد کے درجہ حرارت میں مقامی اضافہ ہوتا ہے۔
​ہوا کے قدرتی بہاؤ کی سمت بدل جاتی ہے۔
​سڑکوں اور پیادہ رو راستوں پر حرارتی دباو بڑھ جاتا ہے۔
​سائنسی نقطہ نظر سے اس نوعیت کے میگا منصوبے کے لیے “مائیکرو کلائمیٹ امپیکٹ اسسمنٹ”
لازمی ہونی چاہیے
​تعمیر سے پہلے اور بعد میں ہوا کے بہاؤ اور رفتار میں فرق۔​شیشے کی عکاسی سے پیدا ہونے والی مقامی حرارت ​پیادہ رو افراد اور قریبی کھلے مقامات کے درجہ حرارت میں تبدیلی۔​اگر ایسا مطالعہ انجام نہیں دیا گیا، تو ماحولیاتی اور شہری منصوبہ بندی کا یہ عمل نامکمل اور غیر محفوظ تصور کیا جائے گا۔​بلند و بالا عمارتوں کا اصل امتحان ان کی تعمیر کے بعد شروع ہوتا ہے، جب وہاں ہزاروں افراد کی سکونت اور آمدورفت شروع ہوتی ہے۔​ایک 42 منزلہ اور ایک 26 منزلہ عمارت کے حوالے سے بنیادی سوال یہ ہے کہ روزانہ لاکھوں گیلن پانی کی طلب کہاں سے اور کیسے پوری کی جائے گی؟کیا علاقے کا دہائیوں پرانا اور بوسیدہ سیوریج نیٹ ورک اس اضافی بوجھ کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ بارش کے پانی کی نکاسی کا کیا نظام ہے؟
​ بجلی کی طویل بندش کی صورت میں پانی کی فراہمی اور سیوریج پمپنگ کا متبادل نظام کیا ہوگا؟
​پرانے اور محدود صلاحیت کے حامل انفراسٹرکچر پر ایسی ہائی ڈینسٹی عمارات کا تعمیر پورے علاقے کے نظام کو مفلوج کر سکتا ہے۔ اس لیے تعمیراتی اجازت کے ساتھ واٹر، سیوریج اور ڈرینیج کا تکنیکی انفراسٹرکچر آڈٹ لازمی ہے،​شاہراہِ ایم اے جناح کراچی کی شریان کا درجہ رکھتی ہے۔ صائمہ سینٹر اینڈ پوائنٹ اور حمزہ آئیکون ٹاور جیسے منصوبوں میں روزانہ ہزاروں ملازمین، تجارتی صارفین اور ڈیلیوری گاڑیاں داخل و خارج ہوں گی۔
​صرف عمارت کے اندر چند منزلہ پارکنگ فراہم کر دینا ٹریفک کے مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اصل چیلنجز یہ ہیں
​کیا عمارتوں کے داخلی و خارجی راستے
مرکزی سڑکوں کی موجودہ ٹریفک میں رکاوٹ کا باعث نہیں بنیں گے؟ قریبی چوراہوں اور سڑکوں پر گاڑیوں کے تاثر اور رکاوٹ کا اندازہ کیسے لگایا گیا ہے؟​کیا فائر بریگیڈ، ایمبولینس اور دیگر ہنگامی گاڑیوں کے لیے آسانی سے رسائی ممکن ہوگی؟​اگر جامع ٹریفک امپیکٹ اسسمنٹ کے بغیر اجازت دی گئی ہے تو اس سے پورے صدر اور ایم اے جناح روڈ کے ٹریفک نظام کے درہم برہم ہونے کا شدید خطرہ ہے،
​حمزہ آئیکون ٹاور 26 منزلہ جیکب لائن، صدر جیسے انتہائی گنجان آباد علاقے میں واقع ہے۔ اس علاقے میں سڑکوں کی چوڑائی پہلے ہی محدود ہے، پارکنگ کی شدید کمی ہے، بنیادی سہولیات کے نیٹ ورکس پرانے ہیں۔​ایسے محدود اور گنجان ماحول میں 26 منزلہ عمارت کی تعمیر صرف اس ایک عمارت کے محفوظ ہونے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ سوال ہے کہ کیا اطراف کا پورا شہری نظام اتنے بڑے بوجھ کو برداشت کرنے کی گنجائش رکھتا ہے،
​مزارِ قائد کے تحفظ اور اطراف میں عمارتوں کی بلندی پر پابندی کے حوالے سے اکثر 29 جنوری 1979 کی ریگولیٹری قرارداد یا زوننگ ضوابط کا حوالہ دیا جاتا ہے​اس حوالے سے انتظامی اور قانونی اداروں پر لازم ہے کہ وہ درج ذیل حقائق عوام کے سامنے واضح کریں ​قانون دستاویز 29 جنوری 1979 کی قرارداد کی اصل مصدقہ نقل اور اس کی موجودہ قانونی حیثیت۔​حدود کا تعیین اس قرارداد کے تحت آنے والے جغرافیائی زون کی سرکاری حد بندی ​قوانین کی ہم آہنگی کیا بعد میں آنے والے ماسٹر پلانز یا بلڈنگ بائی لاز نے اس قرارداد کو ختم يا تبدیل کیا؟ کیا زیرِ بحث دونوں منصوبے صائمہ سینٹر اینڈ پوائنٹ اور حمزہ آئیکون ٹاور اس پابندی کے جغرافیائی دائرے میں آتے ہیں؟
​اگر کسی تعمیراتی منصوبے کی قانونی حیثیت، بلائٹس یا نقشہ جات عدالت میں زیرِ بحث یا چیلنج شدہ ہوں، توخریداروں اور سرمایہ کاروں کو اس کی مکمل اور شفاف معلومات فراہم کرنا قانونی و اخلاقی ضرورت ہے۔ خریداروں کو تمام ماحولیاتی و تعمیراتی منظوریوں، زمین کے قانونی اسٹیٹس اور زیرِ التوا عدالت کیسز کا علم ہونا چاہیے تاکہ ان کی سرمایہ کاری محفوظ رہ سکے۔ اورسفارشات
​معاملہ کسی تعمیراتی منصوبے کی مخالفت یا حمایت کا نہیں، بلکہ شہری توازن کا ہے۔ صائمہ سینٹر اینڈ پوائنٹ 42 منزلہ اور حمزہ آئیکون ٹاور 26 منزلہ کو محض سرمایہ کاری یا جدید رہائش کے محدود زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔​اگر تمام تر جیو ٹیکنیکل رپورٹس، بائیو کلیمیٹک (ماحولیاتی) مطالعات، ٹریفک امپیکٹ اسسمنٹس، اور تاریخی تحفظ کے قوانین مکمل ہیں تو بلند عمارتیں جدید شہری ترقی کا حصہ بن سکتی ہیں۔ لیکن اگر ان منظوریوں میں تاریخی زوننگ، ماحولیاتی اثرات یا انفراسٹرکچر کی گنجائش کو نظرانداز کیا گیا ہے، تو یہ معاملہ صرف دو عمارتوں کا نہیں بلکہ کراچی کے مجموعی شہری مستقبل کا سوال بن جاتا ہے۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی قائدِ اعظم مزار مینجمنٹ بورڈ سندھ انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی اور کراچی کے متعلقہ بلدیاتی اداروں کو چاہیے کہ وہ ان دونوں منصوبوں کی تمام تکنیکی و ماحولیاتی منظوریوں اور جیو ٹیکنیکل رپورٹس کو عوامی شفافیت
کے اصولوں کے تحت عوام کے سامنے پیش کریں۔​کیونکہ مزارِ قائد کے سائے میں تعمیر ہونے والی ہر عمارت صرف ایک نجی منصوبہ نہیں، بلکہ وہ کراچی کی تاریخی شناخت، ماحولیاتی مستقبل اور آنے والی نسلوں کے حقِ شہر پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *