یوم آزادی اور ہم

پاکستان ہمیں کن قربانیوں کے بعد ملا، آزادی کی نعمت ہمارے لیے کتنی قیمتی ہے اور ہم اس نعمت کا شکر کس انداز میں ادا کر رہے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر یوم آزادی کے موقع پر ہر پاکستانی کو ضرور غور کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ صحت، رزق، گھر، خاندان اور امن ان نعمتوں میں شامل ہیں لیکن آزادی بھی کسی نعمت سے کم نہیں۔ ایک آزاد قوم اپنی تہذیب، اقدار، زبان، مذہبی شعائر اور اجتماعی فیصلوں کے ساتھ زندگی گزار سکتی ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے بھی ایک ایسے وطن کا خواب دیکھا جہاں وہ اپنے مذہبی، تہذیبی اور معاشرتی تشخص کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ اس خواب کی تعبیر کے لیے ایک طویل جدوجہد کی گئی اور بالآخر 14 اگست 1947ء کو پاکستان ایک آزاد ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر نمودار ہو گیا۔
پاکستان کا قیام آسانی سے نہیں ہوا تھا۔ آزادی کے سفر میں بے شمار لوگوں نے اپنا گھر بار چھوڑا، لاکھوں افراد نے ہجرت کی تکلیف برداشت کی اور بے شمار خاندان بچھڑ گئے۔ کسی نے اپنے عزیز کھوئے، کسی نے اپنی جائیداد چھوڑی اور کسی نے اپنی جان قربان کر دی۔ تاریخ کے صفحات ان قربانیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ جب ہم آج آزاد فضا میں سانس لیتے ہیں تو ہمیں ان لوگوں کو ضرور یاد کرنا چاہیے جنہوں نے اپنا آج ہمارے کل کے لیے قربان کیا۔
ان قربانیوں کی یاد ہمیں یہ احساس بھی دلاتی ہے کہ آزادی صرف ایک جشن یا قومی تہوار کا نام نہیں بلکہ ایک عظیم امانت ہے۔ اس امانت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے وطن کی قدر کریں، اس کی حفاظت کریں اور اسے بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اسی لیے یوم آزادی کا سب سے پہلا تقاضا یہی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔
شکر صرف زبان سے ’’الحمدللہ‘‘ کہہ دینے کا نام نہیں بلکہ نعمت کا درست استعمال بھی شکر کا حصہ ہے۔ اگر اللہ نے ہمیں آزاد وطن دیا ہے تو ہمیں اس آزادی کو فساد، نفرت، بدامنی اور انتشار کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے بجائے آزادی کو امن، تعلیم، خدمت، ترقی اور خیر کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ یہی حقیقی شکر ہے۔
آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی ہر خواہش کو قانون اور دوسروں کے حقوق سے بالاتر سمجھنے لگے، بلکہ حقیقی آزادی ایک ذمہ دار شہری بننے کا تقاضا کرتی ہے۔ دوسروں کے حقوق کا احترام، سڑک پر ٹریفک قوانین کی پابندی، سرکاری املاک کی حفاظت، صفائی کا خیال، قانونی ذمہ داریاں پوری کرنا، ملازمت میں دیانت داری اختیار کرنا اور کاروبار میں دھوکا دہی سے بچنا بھی وطن عزیز سے وفاداری کی علامتیں ہیں۔
بدقسمتی سے بعض اوقات ہم حب الوطنی کو صرف چند گھنٹوں کی تقریبات تک محدود کر دیتے ہیں۔ 14 اگست کو پرچم خریدتے ہیں، قومی نغمے سنتے ہیں، سوشل میڈیا پر پیغامات شیئر کرتے ہیں اور پھر اگلے دن اپنی معمول کی زندگی میں واپس چلے جاتے ہیں۔ اگر ہماری حب الوطنی ہمارے روزمرہ کردار میں نظر نہیں آتی تو ہمیں اپنے طرز عمل پر غور کرنا چاہیے۔ وطن سے محبت ایک دن کا جذبہ نہیں بلکہ ہر دن کی ذمہ داری ہے۔
یوم آزادی ہمیں ماضی کے ساتھ ساتھ حال کا آئینہ بھی دکھاتا ہے کہ ہم نے پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ کس قدر ادا کیا؟ کیا ہم نے اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے نبھائیں؟ کیا ہم نے اپنے بچوں کو صرف کامیاب ہونے کی تعلیم دی یا اچھا انسان بننے کی تربیت بھی کی؟ کیا ہم نے اپنے اختلافات کو برداشت کرنا سیکھا؟ کیا ہم نے اپنے اردگرد موجود کمزور اور ضرورت مند لوگوں کے لیے آسانی پیدا کی؟ ان سوالات کے جوابات ہماری حقیقی حب الوطنی کا تعین کرتے ہیں۔
اسی طرح تعلیم یافتہ طبقے کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ علم انسان کو صرف روزگار نہیں دیتا بلکہ اسے شعور بھی عطا کرتا ہے۔ ایک باشعور شہری جھوٹ، افواہ، نفرت اور تعصب کا شکار ہونے کے بجائے دلیل اور حقیقت کو اہمیت دیتا ہے۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا نے معلومات تک رسائی آسان کر دی ہےمگر غلط معلومات بھی اسی رفتار سے پھیلتی ہیں۔ ایک محب وطن شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبریں پھیلانے سے بچے اور معاشرے میں انتشار کے بجائے مثبت سوچ کو فروغ دے۔
یہ دن ہمیں اتحاد کی اہمیت بھی یاد دلاتا ہے۔ پاکستان مختلف علاقوں، زبانوں اور ثقافتوں کا حسین مجموعہ ہے۔ ہماری یہ رنگا رنگی کمزوری نہیں بلکہ طاقت بن سکتی ہے، بشرطیکہ ہم ایک دوسرے کے احترام کو اپنا اصول بنائیں۔ اختلافِ رائے ہوسکتا ہے، مگر اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا قومی مفاد کے خلاف ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان سب کا مشترکہ وطن ہے اور اس کی ترقی میں ہر شہری کا حصہ ہے۔
ہمیں یوم آزادی کو مستقبل کی تعمیر کا نقطۂ آغاز بنانا چاہیے۔ اگر ملک میں غربت ہے تو ہمیں اپنی استطاعت کے مطابق کسی ضرورت مند کا سہارا بننا چاہیے۔ اگر جہالت ہے تو علم پھیلانا چاہیے۔ اگر صفائی کا مسئلہ ہے تو اپنے حصے کی صفائی کرنی چاہیے۔ اگر معاشرے میں نفرت بڑھ رہی ہے تو محبت اور برداشت کی بات کرنی چاہیے۔ اگر بدعنوانی ہمیں نقصان پہنچا رہی ہے تو ہمیں اپنی ذات سے دیانت داری کا آغاز کرنا چاہیے۔
یوم آزادی کے موقع پر ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں آزاد وطن عطا کیا۔ ان بزرگوں اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہیے جنہوں نے اس پاکستان کے لیے قربانیاں دیں۔ اپنے ملک کی ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے دعا کرنے کے ساتھ ساتھ یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہوں گے۔ ہماری آزادی اسی وقت حقیقی معنوں میں بامقصد ہوگی جب ہمارا کردار پاکستان کی تعمیر، امن اور خوشحالی کا ذریعہ بنے۔ یہی یوم آزادی کا حقیقی پیغام اور آزادی کی نعمت کا بہترین شکر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *