13 اعشاریہ 41 ملین بچیاں اور 11 اعشاریہ 96 ملین لڑکے اسکولوں سے باہر ، مجموعی طور پر 25 اعشاریہ 37 ملین بچے اور بچیاں تعلیم سے محروم ہیں، بلوچستان میں صورتحال سب سے زیادہ تشویشنا ک ہے. پاکستان ادارہ برائے تعلیم کی رپورٹ
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔26 فروری ۔2026 ) ملک بھر میں 2کروڑ53لاکھ سے زائد بچے اور بچیاں تاحال سکولوں سے باہر ہونے کا انکشاف ہواہے پاکستان ادارہ برائے تعلیم کی تعلیمی سال 2023-24 کی جاری پورٹ کے مطابق ملک میں 13 اعشاریہ 41 ملین بچیاں اور 11 اعشاریہ 96 ملین لڑکے اسکولوں سے باہر ہیں، یوں مجموعی طور پر 25 اعشاریہ 37 ملین بچے اور بچیاں تعلیم سے محروم ہیں.
رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں 2 کروڑ 53 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، پنجاب میں 5 سے 16 سال کی عمر کے36 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ تعداد کے لحاظ سے 9 اعشاریہ 60 ملین بچے تعلیم سے محروم ہیں سندھ میں 5 سے 16 سال تک کے 42 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، صوبے میں 7 اعشاریہ 82 ملین بچیاں تعلیم سے محروم ہیں، خیبرپختونخوا میں 29 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ 4 اعشاریہ 92 ملین بچیاں تعلیم حاصل نہیں کر رہیں. رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے جہاں 58 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی 15 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہونے کا انکشاف ہوا ہے رپورٹ میں ملک میں تعلیمی بحران کو سنگین قرار دیتے ہوئے فوری اور موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ لاکھوں بچوں کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہونے سے بچایا جا سکے.