سعودی عرب کا ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا حق محفوظ قرار دے دیا گیا ہے جبکہ حالیہ میزائل حملوں نے خطے میں کشیدگی بڑھا دی ہے۔
سعودی حکام کے مطابق ایران نے بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کے ذریعے اہم مقامات کو نشانہ بنایا۔ یہ حملے اس وقت ہوئے جب ایران نے اسرائیل پر اپنے گیس فیلڈ پر حملے کا الزام عائد کیا تھا۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو سعودی عرب جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا دباؤ سیاسی طور پر الٹا اثر ڈالے گا۔
یہ بیان ریاض میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے بعد سامنے آیا جس میں ترکی، متحدہ عرب امارات، اردن، قطر اور شام سمیت کئی ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔
سعودی وزارت دفاع کے مطابق ریاض کی جانب آنے والے کئی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ تاہم کچھ ملبہ شہر کے جنوب میں ایک ریفائنری کے قریب گرا۔
یہ صورتحال ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری تنازع میں خطرناک اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ اس سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔
قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے توانائی تنصیبات پر حملوں کی تصدیق کی ہے۔ ایران پہلے ہی خلیج میں تیل اور گیس کے مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے چکا تھا۔
سعودی عرب کا ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا حق محفوظ ہے لیکن اس کے باوجود سفارتکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ وزیر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اعتماد شدید متاثر ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب اور ایران نے سن 2023 میں سفارتی تعلقات بحال کیے تھے، مگر حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر حالات کو نازک بنا دیا ہے۔