شہرت کی دوڑ میں… سکون کو روند رہے ہیں

تحریر: محمد منصور ممتاز

آج کا انسان ایک عجیب دوڑ میں شامل ہو چکا ہے—ایسی دوڑ جس کا کوئی اختتام نہیں، کوئی حد نہیں، اور شاید کوئی حقیقی مقصد بھی نہیں۔ یہ دوڑ ہے شہرت کی… وہ شہرت جس کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ہم اپنی اصل، اپنے رشتے، اور سب سے بڑھ کر اپنا سکون کھو بیٹھے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ
شہرت کی دوڑ میں ہم سکون کو روند رہے ہیں۔
ہم اس چمک دمک کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جو باہر سے روشن مگر اندر سے کھوکھلی ہے۔ ہم لائکس، ویوز اور فالوورز کی دنیا میں اتنے کھو چکے ہیں کہ ہمیں اپنے گھر کے چہرے بھی اجنبی لگنے لگے ہیں۔
شہرت کی چاہ میں ہم اپنے سکون کو روند رہے ہیں۔
شہرت کے پیچھے بھاگتے ہوئے ہم رشتے کھو رہے ہیں۔
شہرت کے نشے میں ہم اپنوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
شہرت کے فریب میں ہم سچی مسکراہٹ کھو رہے ہیں۔
یہ کیسی کامیابی ہے کہ انسان دنیا کی نظروں میں تو بڑا ہو جائے مگر اپنے گھر میں چھوٹا ہو جائے؟ یہ کیسی جیت ہے کہ نام تو ہر زبان پر ہو، مگر دلوں میں جگہ ختم ہو جائے؟
آج سوشل میڈیا نے ہمیں ایک ایسی دُنیا دکھا دی ہے جہاں سب کچھ فوری ہے—شہرت بھی، تعریف بھی، اور بدنامی بھی۔ ایک لمحے کی ویڈیو انسان کو آسمان پر لے جاتی ہے، اور ایک غلطی اسے زمین پر گرا دیتی ہے۔ مگر اس پوری کہانی میں جو سب سے زیادہ نظر انداز ہوتا ہے… وہ ہے سکون۔
ہم یہ بھول چکے ہیں کہ اصل خوشی شور میں نہیں، خاموشی میں ہے۔ اصل کامیابی ہجوم میں نہیں، اپنے اندر کے اطمینان میں ہے۔ مگر افسوس… ہم نے وقتی داد کے لیے دائمی سکون قربان کر دیا ہے۔
کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو باہر سے ہنستے ہیں مگر اندر سے ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ کتنے ہی چہرے اسکرین پر جگمگاتے ہیں مگر حقیقت میں آنسوؤں سے بھرے ہوتے ہیں۔ شہرت کی یہ روشنی اکثر دل کے اندھیروں کو چھپا دیتی ہے، ختم نہیں کرتی۔
اور پھر کبھی کبھی یہی کہانی ایک ہولناک انجام اختیار کر لیتی ہے…
حال ہی میں ایک ٹک ٹاکر، جس کے لاکھوں فالوورز تھے، اپنی ہی شہرت کے سائے میں ایسا الجھی کہ اس کا گھر ٹوٹ گیا۔ جھگڑے، بداعتمادی اور ذہنی دباؤ نے اس کے رشتے کو اس نہج پر پہنچا دیا کہ اس کے اپنے شوہر نے اسے قتل کر دیا… اور اسی لمحے خود بھی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
یہ صرف ایک خبر نہیں… یہ ایک چیخ ہے، ایک سبق ہے، ایک آئینہ ہے—جس میں ہم سب اپنا چہرہ دیکھ سکتے ہیں۔
یہ انجام اس بات کا ثبوت ہے کہ جب شہرت رشتوں پر غالب آ جائے، تو صرف گھر نہیں اُجڑتے… زندگیاں ختم ہو جاتی ہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے سوال کریں:
کیا واقعی ہمیں وہی چاہیے جو ہم حاصل کرنے کے لیے سب کچھ داؤ پر لگا رہے ہیں؟
یا ہم ایک ایسے سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جو کبھی حقیقت نہیں بنے گا؟
اگر سکون چلا جائے تو شہرت کسی کام کی نہیں رہتی۔
اگر گھر اُجڑ جائے تو دنیا کی داد بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔
آئیں… رک جائیں، سوچیں، اور خود کو سنبھالیں۔
شہرت کی دوڑ میں اندھا دھند بھاگنے کے بجائے، سکون کے راستے کو چنیں—
کیونکہ شہرت وقتی ہے… مگر سکون ہی اصل زندگی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *