


عنرکوٹ سندھ بیوروچیف زیب بنگلانی۔ کُنری میں موت کا سوداگر ضمانت پر رہائی اور دوبارہ مکروہ دھندے کا آغاز۔ کُنری کُنری شہر اور گردونواح میں زہریلے ماوا اور گٹکا سپلائی کرنے والا مبینا بدنامِ زمانہ ملزم رستم چانڈیو ایک بار پھر قانون کے شکنجے سے نکل کر انسانی زندگیوں سے کھیلنے میں مصروف عمل ہو گیا ہے۔ کئی بار گرفتاری اور بھاری مقدار میں نشہ آور اشیاء کی برآمدگی کے باوجود، ضمانت پر رہا ہوتے ہی اس شخص نے دوبارہ اپنا نیٹ ورک فعال کر دیا ہے۔
قانون کا مذاق یا پولیس کی بے بسی؟
مقامی ذرائع کے مطابق رستم چانڈیو کو متعدد بار رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا، لیکن ہر بار قانونی سقم یا اثر و رسوخ کی بنیاد پر وہ ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ جیل سے باہر آتے ہی وہ کسی خوف کے بغیر دوبارہ وہی مکروہ دھندہ شروع کر دیتا ہے، جو نہ صرف امن و امان کے لیے چیلنج ہے بلکہ عدالتی نظام پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔
نوجوان نسل کی رگوں میں اترتا زہر
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ رستم چانڈیو جیسے سپلائرز کی وجہ سے کُنری کے گلی کوچوں میں گٹکا اور ماوا بآسانی دستیاب ہے، جس کی وجہ سے اسکول جانے والے بچے اور نوجوان کینسر جیسی موذی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ عوام کا سوال ہے کہ آخر ایک ہی شخص بار بار جرم کرنے کے باوجود آزاد کیسے گھوم رہا ہے؟
حکامِ بالا سے پرزور مطالبہ
اہلیانِ کُنری اور سماجی تنظیموں نے ڈی آئی جی میرپورخاص اور ایس ایس پی عمرکوٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ
رستم چانڈیو جیسے عادی مجرموں کے خلاف سخت ترین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔
اس کے پورے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑا جائے تاکہ دوبارہ سر اٹھانے کی ہمت نہ ہو۔
پولیس کی کارکردگی کو شفاف بنایا جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
”کیا انتظامیہ اس موت کے سوداگر کے سامنے بے بس ہے یا پھر اسے کسی بااثر شخصیت کی پشت پناہی حاصل ہے؟” — یہ وہ سوال ہے جس کا جواب کُنری کا ہر شہری مانگ رہا ہے۔