عطائیت اور بے حسی کی ڈائن کے لیڈی ولنگٹن میں ڈیرے

تحریر: محمد منصور ممتاز

یہ محض دو خبریں نہیں تھیں…
یہ ایک ایسا آئینہ تھا جس میں ہمارا نظامِ صحت اپنی اصل شکل میں نظر آ گیا۔
لاہور کے لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں یکے بعد دیگرے پیش آنے والے دو واقعات نے ہر اُس شخص کے دل میں اضطراب پیدا کر دیا ہے جو ہسپتال کو شفا کا گھر سمجھتا ہے۔
پہلا منظر…
آپریشن تھیٹر۔۔۔جہاں زندگی اور موت کے درمیان ایک باریک لکیر ہوتی ہے۔۔۔
وہاں سی سیکشن کے دوران ویڈیو بنائی جا رہی ہے۔
نہ صرف بنائی جا رہی ہے بلکہ اسے سوشل میڈیا پر وائرل بھی کر دیا جاتا ہے۔
سوچیے…
باہر ایک ماں دعا میں ہاتھ اٹھائے بیٹھی ہے…
ایک باپ دیوار سے ٹیک لگائے امید اور خوف کے درمیان معلق ہے…
اور اندر… ایک مقدس عمل کو تماشہ بنا دیا گیا ہے۔
یہ صرف ایک ویڈیو نہیں تھی۔۔۔
یہ اعتماد کا قتل تھا…
یہ انسانیت کے وقار کی بے حرمتی تھی۔
مگر اس صدمے سے سنبھلنے کا موقع بھی نہ ملا تھا کہ دوسرا واقعہ سامنے آ گیا…
اسی ہسپتال میں…
ایک سیکیورٹی گارڈ…
جی ہاں، ایک غیر تربیت یافتہ شخص…
مریض کو اینستھیزیا (بے ہوشی کا انجیکشن) لگا رہا تھا۔
یہ محض غفلت نہیں…
یہ ایک ایسا لمحہ ہے جہاں نظام اپنی ذمہ داری سے مکمل طور پر دستبردار دکھائی دیتا ہے۔
اینستھیزیا۔۔۔
جو ایک لمحے کی غلطی سے زندگی کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر سکتا ہے۔۔۔
وہ ایک غیر متعلقہ فرد کے ہاتھ میں کیسے آ گیا؟
یہ سوال کسی ایک ڈاکٹر، ایک نرس یا ایک ملازم کا نہیں…
یہ پورے نظام کی پیشانی پر لکھا ہوا سوال ہے۔
محکمہ صحت نے فوری ایکشن لیا۔
​افسران / ڈاکٹروں کی خدمات کو فوری طور پر پیڈا ایکٹ (PEEDA Act) 2006 کی دفعہ 6 کے تحت نااہلی اور غفلت کی بنیاد پر معطل کیا گیا ، سیکیورٹی کمپنی کا معاہدہ ختم کیا گیا،
یہ اقدام قابلِ تحسین ہے ۔۔۔
مگر سچ یہ ہے کہ
کارروائی زخم پر مرہم تو رکھ سکتی ہے، مگر بیماری کا علاج نہیں۔
عطائیت ۔۔۔ اب ایک نیا روپ
ہم ہمیشہ عطائیت کو گلی محلوں تک محدود سمجھتے رہے۔۔۔
جہاں غیر مستند لوگ چھوٹے کلینکس میں انسانی جانوں سے کھیلتے ہیں۔
مگر اب حقیقت اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے…
عطائیت نے ہسپتالوں کے اندر ڈیرے جما لیے ہیں۔
یہ وہ عطائیت ہے جو سفید کوٹ کے سائے میں چھپ جاتی ہے…
یہ وہ عطائیت ہے جو “اجازت” کے نام پر پروان چڑھتی ہے…
یہ وہ عطائیت ہے جہاں غیر اہل افراد کو خاموشی سے اختیار دے دیا جاتا ہے۔
یہ صرف عطائیت نہیں۔۔۔
یہ “نظامی عطائیت” ہے…
جہاں غلطی فرد نہیں، پورا ڈھانچہ شریک ہوتا ہے۔
اصل مسئلہ کہاں ہے؟
اگر ایک سیکیورٹی گارڈ آپریشن تھیٹر تک پہنچ سکتا ہے۔۔۔
تو دراصل دروازہ پہلے ہی کھلا ہوا تھا۔
اگر وہ اینستھیزیا دے سکتا ہے۔۔۔
تو نگرانی پہلے ہی سو چکی تھی۔
اور اگر ویڈیو بن سکتی ہے۔۔۔
تو ذمہ داری پہلے ہی ختم ہو چکی تھی۔
حل ۔۔۔ جو اب ناگزیر ہے
اب وقت ہے وقتی ردِعمل سے آگے بڑھنے کا:
آپریشن تھیٹر تک رسائی کو مکمل طور پر محدود کیا جائے
ہر عملے کی ذمہ داری اور حدود واضح کی جائیں
نگرانی اور احتساب کا سخت نظام نافذ کیا جائے
طبی اخلاقیات کو صرف نصاب نہیں، عمل کا حصہ بنایا جائے
سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے واضح اور سخت ضابطہ نافذ کیا جائے
نتیجہ
یہ دونوں واقعات ایک انتباہ ہیں۔۔۔
ایک آخری موقع… کہ ہم سنبھل جائیں۔
اگر آج اس “عطائیت کی ڈائن” کو ہسپتالوں سے نہ نکالا گیا…
تو کل یہ ہر وارڈ، ہر شہر، ہر بستر کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
کیونکہ…
جب شفا کے گھروں میں غیر اہل ہاتھ داخل ہو جائیں۔۔۔
تو بیماری صرف جسم میں نہیں رہتی…
وہ پورے نظام میں پھیل جاتی ہے۔
اور جب نظام بیمار ہو جائے…
تو مریض صرف درد سے نہیں ڈرتا۔۔۔
وہ علاج سے بھی ڈرنے لگتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *