تحریر؛ نعمان احمد دہلوی
پاکستان کی تاریخ میں ایک نئی صبح کا آغاز ہوا ہے جب سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید کو فوجی عدالت نے 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف پاکستان کی فوجی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے بلکہ یہ ملک کے اداروں میں احتساب کے عمل کی ایک مضبوط علامت ہے۔ جنرل فیض حمید پر الزامات میں ریاستی راز افشا کرنے، اختیارات کا غلط استعمال، جاسوسی اور سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات شامل ہیں۔ یہ سزا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے دی گئی ہے، جو 15 ماہ کی تحقیقات کے بعد سامنے آئی ہے۔
یہ واقعہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہے کہ ایک سابق انٹیلی جنس چیف کو اس طرح کی سزا کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ماضی میں فوجی افسران پر الزامات تو لگتے رہے ہیں، لیکن احتساب کا یہ عمل کبھی اتنی شدت سے نہیں دیکھا گیا۔ یہ فیصلہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان اب ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں کوئی بھی شخص، چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، قانون کی گرفت سے آزاد نہیں۔ یہ خوش آئند ہے کیونکہ یہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر رہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں اداروں کی مضبوطی اور احتساب کا نظام ہی معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی اب یہ روایت قائم ہو رہی ہے، جو جمہوریت، شفافیت اور انصاف کے اصولوں کو تقویت بخشے گی۔
جنرل فیض حمید کی سزا سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ فوج اب اپنے اندرونی معاملات میں بھی احتساب کو یقینی بنا رہی ہے۔ یہ نہ صرف فوج کی ساکھ کو بہتر بنائے گا بلکہ شہری اداروں پر بھی مثبت اثرات مرتب کرے گا۔ ماضی میں فوجی افسران کی سیاسی مداخلت نے ملک کو عدم استحکام کا شکار کیا ہے۔ نواز شریف کی حکومت کے خاتمے سے لے کر عمران خان کی حکومت کی تشکیل تک، جنرل فیض کی مبینہ کردار پر کئی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ اب یہ سزا اس بات کی تصدیق ہے کہ فوج سیاسی معاملات سے دور رہنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ عالمی سطح پر بھی یہ فیصلہ پاکستان کی مثبت تصویر پیش کرے گا۔ سرمایہ کار اور بین الاقوامی ادارے ایسے ممالک میں دلچسپی لیتے ہیں جہاں قانون کی حکمرانی ہو۔ یہ سزا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب ایک پختہ جمہوریت کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں فوج اپنے آئینی دائرے میں رہ کر ملک کی خدمت کرے گی۔
چند لوگوں ہے جو اس فیصلے کو غلط قرار دے رہے ہیں۔ یہ لوگ دراصل ملک دشمن عناصر ہیں جو پاکستان کی ترقی نہیں دیکھنا چاہتے۔ وہ شاید انہی قوتوں کے آلہ کار ہیں جو ماضی میں سیاسی انتشار پھیلا کر ملک کو کمزور کرتی رہیں۔ ایسے عناصر عموماً سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کرتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ فیصلہ سیاسی انتقام ہے۔ لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں۔ تحقیقات 15 ماہ تک چلیں، اور الزامات ٹھوس شواہد پر مبنی ہیں۔ جو لوگ اسے برا کہتے ہیں، وہ دراصل احتساب کے عمل سے خوفزدہ ہیں کیونکہ یہ ان کی اپنی کرپشن کو بھی بے نقاب کر سکتا ہے۔ یہ عناصر ملک کی ترقی میں رکاوٹ ہیں اور انہیں بے نقاب کرنا ضروری ہے۔
یہ سزا پاکستان کے لیے ایک نئی شروعات ہے۔ یہ نہ صرف فوج بلکہ تمام اداروں میں اصلاحات کا آغاز ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اس فیصلے کی حمایت کریں اور ملک دشمن پروپیگنڈے سے دور رہیں۔ ترقی کی راہ پر گامزن پاکستان اب ایک مضبوط، شفاف اور انصاف پسند ملک بن رہا ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک اب ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھ رہا ہے۔ امید ہے کہ یہ عمل جاری رہے گا اور پاکستان جلد ہی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا۔ اللہ پاک پاکستان کو دشمن عناصر سے محفوظ فرمائیں، آمین
انصاف کی نئی مثال