تحفظ ختم نبوت کانفرنس؛ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے ہر سطح پر جدوجہد کا اعلان

ناموس رسالتؐ اور ختم نبوتؐ کے قوانین پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا؛مقررین

1974ء کے آئینی تقاضوں پر مکمل عملدرآمد، قادیانیت کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

لاہور (محمد منصور ممتاز سے)

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یونٹ ٹاؤن شپ لاہور کے زیر اہتمام تحفظ ختم نبوت کانفرنس و محفل حمد و نعت المدینہ اسکول باگڑیاں میں امیر مجلس لاہور مولانا مفتی محمد حسن کی زیر صدارت منعقد ہوئی، جس میں علماء کرام، دینی شخصیات اور عقیدہ ختم نبوت سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
کانفرنس میں جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا محمد امجد خان، امیر مجلس سرگودھا مولانا نور محمد ہزاروی، شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن، مبلغ لاہور مولانا عبدالنعیم، مولانا محبوب الحسن طاہر، مولانا عبدالشکور حقانی، مولانا شاہد عمران عارفی، مولانا عمران نقشبندی، مولانا محمد سمیع اللہ سمیت دیگر علماء اور مقامی ذمہ داران پیر محمد آصف، مولانا محمد مہتاب فاروق، مفتی محمد سفیان، مولانا محمد عدنان، حاجی حسین گجر، حاجی نذیر گجر، حاجی محمد آصف حسین ایڈووکیٹ اور چوہدری عبدالخالق حسین گجر نے شرکت کی۔
صدارتی خطاب کرتے ہوئے مولانا مفتی محمد حسن نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کی اساس اور روح ہے، جس پر دین اسلام کی پوری عمارت قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان میں قادیانیت کے حوالے سے موجود دفعات کے خلاف کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور اس سلسلے میں ہر محاذ پر بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔
مرکزی رہنما جے یو آئی مولانا محمد امجد خان نے کہا کہ تحفظ ناموس رسالتؐ اور ختم نبوتؐ کے قوانین کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی عناصر عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف منظم سازشوں میں مصروف ہیں، جن کا فوری نوٹس لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حرمین شریفین کا تحفظ پوری امت مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
امیر مجلس سرگودھا مولانا نور محمد ہزاروی نے اپنے خطاب میں کہا کہ امت مسلمہ کے متفقہ عقائد و نظریات پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں اور اس حوالے سے سودا بازی کرنے والے عناصر اسلام اور پاکستان دونوں کے غدار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے پیچھے قادیانی سرمایہ اور بیرونی ایجنسیوں کی مداخلت کارفرما ہے۔
مبلغ لاہور مولانا عبدالنعیم نے کہا کہ کلیدی اور حساس عہدوں پر قادیانیوں کی موجودگی ملکی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے، اس لیے ان کا فوری احتساب کیا جائے اور انہیں اہم عہدوں سے الگ کیا جائے۔
مولانا محبوب الحسن طاہر نے حکومت پر زور دیا کہ وہ قادیانیوں کے حوالے سے 1974ء کے آئینی قانون پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے اور انہیں اسلامی اصطلاحات و شعائر کے استعمال سے روکا جائے۔
مولانا عبدالشکور حقانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیت درحقیقت کوئی مذہبی فرقہ نہیں بلکہ عالم اسلام کے خلاف استعمار کا خود کاشتہ پودا ہے، جو پاکستان سمیت اسلامی ممالک کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔
مولانا مہتاب فاروق نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کے خلاف کسی بھی قادیانیت نواز پالیسی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس کا بھرپور اور مردانہ وار مقابلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں توہین مذہب کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
کانفرنس کے اختتام پر ملک کی سلامتی، استحکام اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *