یومِ صحافت — قلم کی جنگ اور سچ کی قیمت

ناصریات۔از قلم ناصر چوہدری

آج دنیا بھر میں یومِ صحافت منایا جا رہا ہے، مگر یہ دن خوشی کا نہیں بلکہ ایک کڑوی حقیقت کا آئینہ ہے۔ وہ حقیقت جس میں سچ لکھنے والے قلمکار گولیوں، جیلوں اور دھمکیوں کے سائے میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

صحافت کسی بھی معاشرے کی آنکھ اور ضمیر ہوتی ہے، لیکن آج یہی آنکھیں نکالی جا رہی ہیں اور یہی ضمیر خاموش کروایا جا رہا ہے۔ عالمی رپورٹس کے مطابق صرف سال 2025 میں دنیا بھر میں 129 صحافی قتل کر دیے گئے، جو ایک خوفناک ریکارڈ ہے۔
اسی طرح درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں صحافی جیلوں میں قید ہیں، جہاں ان پر “ریاست مخالف” جیسے الزامات لگا کر سچ کی آواز دبائی جا رہی ہے۔

یہ صرف جنگی علاقوں تک محدود نہیں، بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں صحافت کرنا خود ایک جنگ بن چکا ہے۔ کہیں جنگی میدان میں صحافی نشانہ بنتے ہیں، تو کہیں طاقتور حلقوں کے مفادات کے خلاف لکھنے پر انہیں اغوا، تشدد یا قتل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو صورتحال اس سے مختلف نہیں بلکہ کئی حوالوں سے زیادہ تشویشناک ہے۔ رپورٹس کے مطابق:

2025 میں پاکستان میں متعدد صحافی قتل کیے گئے

صرف ایک سال میں 125 سے زائد خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں، جن میں دھمکیاں، مقدمات اور تشدد شامل ہیں

گزشتہ کئی دہائیوں میں 150 سے زائد صحافی قتل ہوئے مگر انصاف نہ ہونے کے برابر ہے

یہ اعداد و شمار صرف نمبر نہیں، بلکہ ہر ایک کے پیچھے ایک کہانی ہے — ایک خاندان کی بربادی، ایک آواز کی خاموشی، اور ایک سچ کا قتل۔

پاکستان کو دنیا کے ان خطرناک ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جہاں صحافی ہونا آسان نہیں۔ یہاں صحافیوں کو صرف خبر نہیں لکھنی پڑتی بلکہ ہر لفظ کے ساتھ اپنی جان کا خطرہ بھی مول لینا پڑتا ہے۔

آج کا صحافی صرف خبر دینے والا نہیں بلکہ ایک سپاہی ہے — جو قلم کو ہتھیار بنا کر جھوٹ، جبر اور ناانصافی کے خلاف لڑ رہا ہے۔ لیکن افسوس کہ اس جنگ میں اسے نہ مکمل تحفظ حاصل ہے اور نہ ہی انصاف۔

یومِ صحافت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ:
کیا ہم اپنے صحافیوں کو وہ آزادی دے رہے ہیں جس کے وہ حقدار ہیں؟
کیا سچ بولنا جرم بن چکا ہے؟
اور کیا ایک مہذب معاشرہ بغیر آزاد صحافت کے زندہ رہ سکتا ہے؟

یہ دن صرف خراجِ تحسین کا نہیں بلکہ عہد کا دن ہے —
عہد اس بات کا کہ ہم سچ کے ساتھ کھڑے ہوں گے، صحافیوں کی حفاظت کریں گے، اور اس نظام کو بدلنے کی کوشش کریں گے جہاں قلم کو خاموش کر دیا جاتا ہے۔

کیونکہ اگر صحافت خاموش ہو گئی…
تو سچ بھی دفن ہو جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *