انمول عرف پنکی کے جسمانی ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ

کراچی کی سٹی کورٹ میں منشیات مقدمات میں گرفتار انمول عرف پنکی کو سخت سیکیورٹی میں پیش کیا گیا جہاں سماعت کے دوران شدید ہنگامہ آرائی، شور شرابا اور نعرے بازی دیکھنے میں آئی۔

عدالت میں پیشی کے دوران ملزمہ نے چیخ و پکار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسے جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے۔ انمول عرف پنکی نے الزام لگایا کہ پولیس نے انہیں 20 روز تک غیر قانونی حراست میں رکھا اور دورانِ حراست تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ملزمہ نے عدالت میں کہا کہ اس کے خلاف 25 سے زائد مقدمات درج کیے گئے اور ہر مقدمے میں بھاری مقدار میں منشیات شامل کی گئی۔ تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس موقع پر اس کا بیان ریکارڈ نہیں کیا جائے گا اور اسے خاموش رہنے کی ہدایت کی گئی۔

سماعت کے دوران انمول پنکی نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹا دیا اور الزام عائد کیا کہ پولیس اس سے زبردستی بیان لینا چاہتی ہے۔ خاتون پولیس اہلکار بار بار ملزمہ کو خاموش کروانے کی کوشش کرتی رہیں جبکہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث صحافیوں کو بھی کچھ دیر کیلئے عدالت سے باہر نکال دیا گیا۔

پیشی کے بعد جب ملزمہ کو واپس کسٹڈی میں لے جایا جا رہا تھا تو اس نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اس کا دم گھٹ رہا ہے اور چہرے پر کپڑا نہ ڈالا جائے۔ عدالت نے اس موقع پر ہدایت دی کہ ملزمہ چادر اوڑھ لے تاکہ کوئی اسے ہراساں نہ کرے۔

عدالت نے انمول عرف پنکی سمیت دیگر دو ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا، جو بعد میں سنائے جانے کا امکان ہے۔

سماعت کے دوران کچھ افراد مشتعل بھی ہوگئے اور “پنکی کو مارو” کے نعرے لگائے گئے، جس کے بعد پولیس نے سخت سیکیورٹی میں ملزمہ کو عدالت سے روانہ کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *