ڈیرہ غازی خان (خصوصی رپورٹ):
حکومت کی جانب سے ٹیکسز میں مسلسل اضافے اور ڈبل ٹیکسیشن کے باوجود انڈس ہائی وے (ڈیرہ تا تونسہ روڈ) کا اہم ترین ٹکڑا حکام کی عدم توجہی کے باعث موت کا کنواں بن چکا ہے۔ شاہ صدر دین سے لے کر حسین شاہ موڑ تک کا چند کلومیٹر کا یہ مین روڈ اس وقت شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، جہاں سے دن رات ہزاروں چھوٹی بڑی گاڑیاں اور مال بردار ٹرک گزرتے ہیں۔
موت کا سفر اور قیمتی گاڑیوں کی تباہی
تصاویرمیں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ سڑک کی اوپری سطح مکمل طور پر اکھڑ چکی ہے، جگہ جگہ گہرے گڑھے پڑ چکے ہیں اور مٹی اڑ رہی ہے۔ اس خستہ حالی کے باعث:
آئے دن یہاں کوئی نہ کوئی المناک حادثہ رونما ہوتا ہے، جس میں اب تک کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
شہریوں کی لاکھوں روپے مالیت کی گاڑیاں اس ٹوٹی پھوٹی سڑک کی وجہ سے تباہ ہو رہی ہیں، جس سے غریب اور مڈل کلاس طبقے پر شدید مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔
عوام کا احتجاج اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ
مقامہ شہریوں اور مسافروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومت پیٹرولیم، ٹول ٹیکس اور دیگر ٹیکسوں کی مد میں ڈبل رقم وصول کر رہی ہے، لیکن دوسری طرف عوامی تحفظ کے لیے چند کلومیٹر کی اس سڑک کی مرمت پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ اگر اس مختصر سے ٹکڑے پر سنجیدگی سے کام کروا دیا جائے تو یہ بہترین ہائی وے بن سکتی ہے اور کئی گھروں کے چراغ بجھنے سے بچ سکتے ہیں۔
عوام نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA)، وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور وزیرِ اعظم پاکستان سے فوری نوٹس لینے اور شاہ صدر دین تا حسین شاہ موڑ روڈ کی ہنگامی بنیادوں پر تعمیرِ نو کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹ چوھدری احمد بیوروچیف )

