ماہِ محرم الحرام کے حوالے سے آئی جی سندھ پولیس کی ویڈیو لنک میٹنگ میں علماء، بانیانِ مجالس اور تنظیمی اکابرین کا موقف سنے بغیر اجلاس ختم کرنا افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے

پریس ریلیز
تاریخ 8 جون 2026

جیکب آباد/کراچی:

ماہِ محرم الحرام کے انتظامات اور امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے آئی جی سندھ پولیس کی جانب سے منعقدہ ویڈیو لنک اجلاس میں سندھ کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے علماء کرام، بانیانِ مجالس اور مذہبی تنظیموں کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ تاہم چار گھنٹے سے زائد انتظار کے باوجود متعدد اضلاع کے علماء اور نمائندگان کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیے بغیر اجلاس ختم کر دیا گیا، جس پر شدید احتجاج کیا گیا۔

اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی جعفریہ الائنس ڈویژن لاڑکانہ کے صدر زوار وزیر علی مشہدی ڈویژنل جنرل سیکرٹری زوار شاہنواز جعفری، ایم ڈبلیو ایم سندھ کے صوبائی سیکرٹری تنظیم سازی مولانا منور سولنگی، مجلس علمائے مکتب اہل بیت ضلع جیکب آباد کے صدر مولانا سیف علی ڈومکی، انجمن سپاہِ علی اکبر کے چیئرمین سید احسان شاہ بخاری اور دیگر علماء و اکابرین نے اپنے شدید افسوس اور تشویش کا اظہار کیا۔

علماء کرام نے کہا کہ محرم الحرام جیسے حساس اور اہم مذہبی موقع پر مختلف اضلاع کے علماء، ذاکرین، بانیانِ مجالس تنظیمی ذمہ داران اور عزاداری تنظیموں کی آراء اور تجاویز سننا نہایت ضروری تھا۔ چار گھنٹے تک انتظار کروانے کے باوجود متعدد اضلاع کے نمائندگان کو اظہارِ خیال کا موقع نہ دینا انتظامی نااہلی اور سنجیدہ رابطہ کاری کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام، عزاداری کے پروگراموں کے انعقاد، جلوسوں کے انتظامات اور عوامی مسائل کے حل کے لیے علماء اور انتظامیہ کے درمیان مؤثر رابطہ ناگزیر ہے۔ اگر متعلقہ فریقین کی بات سنے بغیر اجلاس ختم کر دیے جائیں گے تو ایسے اجلاس اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکیں گے۔

علماء اور بانیانِ مجالس نے بعد ازاں ایک الگ ویڈیو پیغام کے ذریعے اس غیر مناسب رویے کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنے تحفظات عوام اور متعلقہ حکام تک پہنچائے۔

انہوں نے آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا کہ محرم الحرام کے حوالے سے جلد از جلد ایک جامع اور مؤثر اجلاس دوبارہ منعقد کیا جائے جس میں سندھ کے تمام اضلاع کے علماء کرام، بانیانِ مجالس، عزاداری تنظیموں اور مذہبی رہنماؤں کو مکمل طور پر سنا جائے تاکہ باہمی مشاورت کے ذریعے محرم الحرام کے انتظامات کو بہتر بنایا جا سکے اور عوام کے تحفظات دور ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *