ترتیب
نظام الدین
کراچی، ساحلِ سمندر کے کنارے آباد ایک ایسا شہر جس کے چاروں طرف پانی ہی پانی ، مگر اس کی سب سے بڑی محرومی اور ضرورت بھی پانی ہی ہے۔ یہ ایک عجیب اور تکلیف دہ تضاد ہے۔ بحیرۂ عرب کی سرکش لہریں دن رات شہر کے ساحلوں سے ٹکراتی ہیں، مون سون کی ابلتی گھٹائیں بھی دل کھول کر اس سمندر پر برستی ہیں، لیکن پھر بھی ہر صبح کروڑوں انسان پانی کی ایک ایک بوند کے لیے ترستے ہیں۔ شاید اسی لیے کراچی کی تاریخ صرف سمندر کی تاریخ نہیں، بلکہ پانی کی انتھک تلاش کی تاریخ بھی ہے۔
جب کبھی میری نظر سڑکوں پر دوڑتے، پانی سے بھرے دیوہیکل ٹینکروں پر پڑتی ہے تو ذہن میں سوال ابھرتا ہے اس میں موجود پانی آخر کہاں سے آیا ہوگا؟ یہ سوال بظاہر بہت سادہ ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ نہ تو سرکار اور نہ ہی سرکار کے متعلقہ ادارے آج تک اس کا کوئی معقول جواب دے سکے ہیں۔
کراچی کا بیشتر پانی خود کراچی کی دھرتی سے پیدا نہیں ہوتا۔ یہ ایک انتہائی اہم اور تلخ حقیقت ہے کہ اتنے بڑے جغرافیائی پھیلاؤ اور سمندر کے کنارے واقع ہونے کے باوجود، کراچی کے پاس اپنا کوئی بڑا، میٹھے پانی کا قدرتی ذریعہ جیسے کوئی جھیل یا بارہ ماسی دریا موجود نہیں ہے۔
اگر ہم کراچی کی حدود کے اندر پانی کے مقامی ذرائع، جھیلوں یا سمندر کے استعمال کی بات کریں تو صورت حال کچھ یوں ہے: کراچی کے پاس ساڑھے سات سو کلومیٹر طویل ساحلی پٹی موجود ہے، مگر سمندر کا پانی نمکین ہونے کی وجہ سے براہِ راست پینے یا استعمال کے قابل نہیں ہے۔ فی الحال اس سمندری پانی کو میٹھا کرنے کا کوئی ایسا سرکاری پلانٹ فعال نہیں ہے جو پورے شہر کی پیاس بجھا سکے۔ ماضی میں ڈی ایچ اے میں ایک نجی ڈیسیلینیشن پلانٹ لگایا گیا تھا، مگر وہ بھی تکنیکی اور مالیاتی مسائل کی وجہ سے مستقل بنیادوں پر شہر کو پانی فراہم نہ کر سکا۔ کراچی کے اندر جو جھیلیں ہیں، وہ شہر کے پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں ہیں بلکہ ان کی حیثیت اب صرف تفریح گاہوں کی سی ہے۔ ہالیجی اور ہڈیرو جھیلیں پڑوسی ضلع ٹھٹہ میں آتی ہیں۔ ماضی میں ہالیجی جھیل اور ملیر کے کنوؤں سے کراچی کو کچھ پانی فراہم کیا جاتا تھا، لیکن اب وہ نظام متروک ہو چکا ہے اور یہ جھیلیں بنیادی طور پر جنگلی حیات اور مہاجر پرندوں کی پناہ گاہیں بن چکی ہیں۔
کراچی کے جغرافیے میں دو ندیاں ‘ملیر ندی’ اور ‘لیاری ندی’ کی صورت میں موجود ہیں، مگر المیہ یہ ہے کہ یہ اب صرف سیوریج کے گندے نالے بن چکے ہیں۔ کراچی میں جو کچھ بھی متحرک ہے، وہ پانی ہی کے دم سے ہے۔ فیکٹریوں، دفتروں، ہسپتالوں اور ہوٹلوں میں زندگی کا پہیہ گھمانے والے کروڑوں لوگ کسی نہ کسی صورت اس پانی کے محتاج ہیں۔ کراچی کے بارے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ یہ شہر کبھی سوتا نہیں، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ شہر پانی کے بغیر کبھی جاگ بھی نہیں سکتا۔ پانی کی یہ داستان نئی نہیں انیسویں صدی کے وسط میں، جب کراچی ایک تجارتی بندرگاہ کے طور پر تیزی سے ترقی کر رہا تھا، تب بھی شہر کو پانی کی شدید قلت کا سامنا تھا۔ آبادی بڑھ رہی تھی اور پرانے کنویں ناکافی ثابت ہو رہے تھے۔ تب برطانوی حکومت نے دور دراز کی جھیلوں کے ذریعے شہر تک پانی پہنچانے کا منصوبہ بنایا۔ یوں یہ شہر اپنی پیاس بجھانے کے لیے مسلسل دور سے دور کا سفر کرتا چلا گیا۔ کراچی کے پانی کی کہانی، دراصل اس شہر کے پھیلاؤ کی کہانی ہے۔ جوں جوں آبادی بڑھتی گئی، پانی کی ضرورت اور اس کے ذرائع بھی بدلتے گئے۔جب پانی ہمارے گھروں کے نلوں سے نکلتا ہے تو ہمیں بالکل عام سا لگتا ہے، جیسے آسانی سے حاصل ہو جانے والی کوئی معمولی سی چیز۔ لیکن اس ایک گلاس پانی کے پیچھے انجینئروں کی پیچیدہ منصوبہ بندی، مزدوروں کی ہڈیوں کا گودا، جھیلوں کا ذخیرہ، پائپ لائنوں کا جال اور پوری ایک صدی کی شہری تاریخ موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی کا پانی محض پانی نہیں، یہ انسانوں کا تعمیر کردہ ایک عظیم الشان نظام ہے۔ دریائے سندھ سے کینجھر جھیل اور پھر نہروں، سرنگوں دیوہیکل پائپ لائنوں کے ذریعے شہر کی طرف روانہ ہوتا ہے۔
بلوچستان اور سندھ کے سرحد قائم حب” ڈیم سے دریا” کے زریعے کراچی کے مغربی علاقوں تک پہنچنے والا دریا محدود ہوتا چلا جارہا ہے اس طرح
زمین کے اوپر چلنے والی سڑکوں پر تو روزانہ لاکھوں لوگ سفر کرتے ہیں، لیکن زمین کے نیچے بھی پانی کا سفر جاری رہتا ہے، مسلسل اور بے آواز؟ شہر میں داخل ہونے سے پہلے اس پانی کا ایک بڑا حصہ ‘واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس’ تک پہنچتا ہے۔ یہ جگہ کراچی کے آبی نظام کا دل ہے۔ یہاں پانی کو مختلف مراحل سے گزار کر صاف کیا جاتا ہے؛ مٹی، جراثیم اور دوسری آلائشیں الگ کی جاتی ہیں۔ پھر یہ پانی ان بے شمار زیرِ زمین اور بالائی ٹینکیوں تک پہنچتا ہے جو پورے شہر میں پھیلی ہوئی ہیں۔ وہاں سے پائپ لائنوں کا ایک پیچیدہ جال اسے گھروں، اسکولوں، ہسپتالوں، دکانوں، کارخانوں اور ہوٹلوں تک لے جاتا ہے۔ اگر کراچی کو ایک زندہ جسم تصور کیا جائے، تو اس کی سڑکیں اعصاب ہیں اور پانی کی پائپ لائنیں خون کی رگیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ خون دل سے نکلتا ہے اور پانی دور دراز کی جھیلوں سے۔ صبح کے وقت جب کسی گھر میں چائے کے لیے کیتلی چولہے پر چڑھتی ہے، کسی مسجد میں وضو کے لیے نل کھلتا ہے، کسی اسکول میں بچے پانی پیتے ہیں یا کسی ہسپتال میں مریض کی ضرورت پوری ہوتی ہے، تو اس کے پیچھے اسی طویل نظام کی کارفرمائی ہوتی ہے۔ ایک لمحے کے لیے اگر یہ نظام رک جائے، تو کراچی کی تیز رفتار زندگی تھم جائے۔ فیکٹریاں بند ہو جائیں، ہسپتالوں میں بحران پیدا ہو جائے اور شہر کی بے مثال رونق آہستہ آہستہ دم توڑنے لگے۔ شاید اسی لیے پانی اس شہر کا سب سے “خامُوش ہیرو” ہے۔ وہ نہ کسی عمارت پر اپنا نام لکھتا ہے، نہ کسی مجسمے میں ڈھلتا ہے، اور نہ ہی سرکاری تقاریب میں اس کا ذکر ہوتا ہے، لیکن ہر روز کروڑوں زندگیوں کو متحرک رکھنے کا بھاری کام اسی کے ذمے ہے۔
شام کے وقت جب کسی بلند عمارت سے شہر کو دیکھیں، تو روشنیوں کا ایک ٹمٹماتا ہوا سمندر دکھائی دیتا ہے۔ ان روشنیوں کے پیچھے ہزاروں گھروں کے باورچی خانے، نلکے اور پانی کی ٹنکیاں ہیں۔ ان ٹنکیوں میں محفوظ وہ پانی ہے جو کئی گھنٹوں اور کئی میلوں کا کٹھن سفر طے کر کے یہاں تک پہنچا ہے۔
کراچی کی عظمت کا ذکر عموماً اس کی بندرگاہ، اس کی کھربوں کی تجارت، انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور فلک بوس عمارتوں کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر سچ پوچھیں، تو اس شہر کی اصل عظمت ان جھیلوں میں پوشیدہ ہے جو خود شہر سے میلوں دور ہیں، مگر پھر بھی ہر روز کراچی کو زندہ رکھتی ہیں۔ کراچی کا پانی صرف پانی نہیں، یہ انجینئروں کی ذہانت، مزدوروں کی محنت اور ایک ایسے شہر کی مسلسل دھڑکن ہے جو ہر صبح نئے خوابوں کے ساتھ بیدار ہوتا ہے۔
کبھی کبھی یوں ہی تنہائی میں پانی کی ٹنکیوں، پائپ لائنوں اور دور دراز جھیلوں کے بارے میں سوچتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ کراچی دراصل سمندر کے کنارے نہیں، بلکہ جھیلوں کے سہارے آباد ہے۔ وہ جھیلیں جو خود شہر سے بہت دور ہیں، مگر جن کے بغیر کراچی کی کوئی صبح مکمل نہیں ہوتی۔
اگر اس شہر میں پانی کی تقسیم مکمل ایمانداری اور دیانتداری سے کی جائے، اور شہر کو چاٹ جانے والے خونی ‘ٹینکر مافیا’ کے چنگل سے نجات حاصل کر لی جائے، تو یہ بالکل ممکن ہے کہ پائپ لائن کا یہ پانی کراچی کے ہر امیر و غریب کے گھر تک عزت کے ساتھ پہنچ سکتا ہے ،اور شہر کی پیاس ہمیشہ کے لیے بجھا سکتا ہے ،
