ججکب آباد . امام حسینؑ ہدایت کی شمع اور نجات کی کشتی ہیں، ان کی سیرت انسانیت کے لیے ابدی مشعلِ راہ ہے

پریس ریلیز
تاریخ 24 جون 2026

ججکب آباد 🙁 نامه نگار) امام حسینؑ ہدایت کی شمع اور نجات کی کشتی ہیں، ان کی سیرت انسانیت کے لیے ابدی مشعلِ راہ ہے۔ ذکر حسین علیہ السلام عبادت ہے اور یہ ہمارے بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے عزاداری امام مظلوم میں رکاوٹ کسی طرح قابل قبول نہیں: علامہ مقصود علی ڈومکی کا مجلس عزاء سے خطاب

جیکب آباد (24 جون 2026): مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے مختلف مقامات پر مجالس عزاء سے خطاب کیا۔ سول ہاسپٹل روڈ دستگیر کالونی ایس ایس پی روڈ اور مدرسہ المصطفی خاتم النبیین المرتضیٰ کالونی جیکب آباد میں شہدائے کربلا کی یاد میں منعقدہ مجالسِ عزا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی “إِنَّ الْحُسَيْنَ مِصْبَاحُ الْهُدَى وَسَفِينَةُ النَّجَاةِ” اس حقیقت کا واضح اعلان ہے کہ امام حسین علیہ السلام قیامت تک آنے والی انسانیت کے لیے ہدایت کی روشن شمع اور نجات کی کشتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح تاریکی میں چراغ راستہ دکھاتا ہے، اسی طرح امام حسین علیہ السلام کی سیرت، کردار، قربانی اور پیغام ہر دور کے انسان کو حق و باطل میں تمیز کرنا سکھاتا ہے۔ کربلا کا واقعہ صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ ظلم، جبر، استبداد اور باطل قوتوں کے خلاف قیام کا دائمی درس ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے اہل و عیال اور جانثار ساتھیوں کی قربانی دے کر اسلام محمدیؐ کو حیاتِ نو عطا کی اور امت کو یہ پیغام دیا کہ باطل کے سامنے سر جھکانے کے بجائے حق کی خاطر ہر قربانی پیش کر دینی چاہیے۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ حدیثِ مبارکہ میں امام حسین علیہ السلام کو “سفینۂ نجات” قرار دیا گیا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص اہل بیت اطہار علیہم السلام کی تعلیمات، سیرت اور راستے سے وابستہ رہے گا وہ فکری، اخلاقی اور روحانی گمراہی سے محفوظ رہے گا۔ امام حسین علیہ السلام نے دینِ اسلام کی حقیقی روح کو زندہ رکھا اور اپنی عظیم قربانی کے ذریعے انسانیت کو عزت، آزادی، عدل اور حق پسندی کا سبق دیا۔

انہوں نے کہا کہ آج امت مسلمہ کو کربلا کے پیغام کو سمجھنے اور اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ محرم الحرام ہمیں صبر، استقامت، ایثار، وفاداری اور دین کی سربلندی کے لیے قربانی کا درس دیتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام کا ذکر دراصل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین اور قرآن مجید کی تعلیمات کا ذکر ہے۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہدائے کربلا کی یاد اور پیغام کو نسل در نسل منتقل کیا جائے گا تاکہ معاشرے میں حق، عدل، محبتِ اہل بیت علیہم السلام اور اسلامی اقدار کو فروغ حاصل ہو اور نوجوان نسل امام حسین علیہ السلام کے افکار و تعلیمات سے رہنمائی حاصل کر سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *