ہم نے اپنے ذرائع سے ’باس‘ کا مکمل کریمنل ریکارڈ کسی نہ کسی طرح نکال لیا ہے؛ اینکر پرسن غریدہ فاروقی کا ٹویٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جولائی 2026ء) لاہور ڈیفنس میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغواء برائے تاوان اور زیادتی کے کیس کے کردار ’باس BOSS‘ کے متعلق مزید تفصیلات معلوم ہوئی ہیں۔ اینکرپرسن غریدہ فاروقی کے مطابق ’باس‘ کا کردار ادا کرنے والے ملزم کا اصل اور مکمل نام میاں وحید طاہر ہے، اس کا سابقہ کریمنل ریکارڈ اس طرح چھپایا گیا تھا کہ اگر کوئی عام طریقے سے اس کے شناختی کارڈ کے ذریعے پتہ کرنا چاہے تو وہ عیاں نہیں ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم میاں وحید طاہر کا بنیادی تعلق اوکاڑہ کے علاقے عزیز پارک سے ہے، ملزم کی فیملی اس وقت بھی اوکاڑہ میں ہی مقیم ہے، ملزم خود گرفتاری سے بچنے اور قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے لاہور میں مختلف جگہوں پر مسلسل اپنی رہائش تبدیل کرکے رہ رہا تھا، ملزم میاں وحید طاہر کوئی عام مجرم نہیں بلکہ عرصہ دراز سے جرائم کی دنیا سے منسلک ہے۔ غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف ماضی میں غیر قانونی طور پر گردوں کی پیوند کاری، قتل اور پولیس مقابلوں سمیت متعدد سنگین مقدمات درج ہیں اور وہ ان جرائم میں پہلے گرفتار بھی ہو چکا ہے، اغواء کے دوران ملزم وحید طاہر دونوں غیر ملکی خواتین کو مسلسل یہ دھمکیاں دیتا رہا کہ اگر انہیں 15 لاکھ ڈالر تاوان ادا نہ کیا گیا تو وہ ان کے جسم کے تمام اعضاء نکال کر مارکیٹ میں فروخت کر دے گا چونکہ وہ پہلے ہی گردوں کے مکروہ دھندے میں ملوث رہا ہے، اس لیے وہ لڑکیوں کو اسی بنیاد پر ہراساں کر رہا تھا۔ خاتون اینکرسن نے بتایا تفتیشی ذرائع کہتے ہیں کہ دونوں غیرملکی لڑکیوں پر دورانِ حراست جو وحشیانہ تشدد کیا گیا، وہ کسی اور نے نہیں بلکہ ملزم میاں وحید طاہر کے اپنے ذاتی گن مینوں نے کیا، ملزم وحید طاہر شدید نوعیت کا آئس کا نشہ کرتا ہے اور وہ پچھلے طویل عرصے سے سنگین جرائم پیشہ سرگرمیوں میں سرگرمِ عمل ہے۔
