لندن سیاست کا ڈرائنگ روم

تحریر ۔ نظام الدین

’’سیاست کا ڈرائنگ روم‘‘ کے عنوان سے میں نے ایک کالم اخبار میں تحریر کیا تھا، جس میں صدر آصف علی زرداری اور ایم کیو ایم کے قائد کی ایک انتہائی خفیہ ملاقات کا ذکر کیا تھا۔ اس پر بہت سے دوستوں نے سوال اٹھایا ’’نظام بھائی! وہ لندن ہے، کراچی نہیں؛ کیا یہ ممکن ہے کہ دو اتنے بڑے رہنما ملاقات کریں اور آپ کے علاوہ کسی اور کو خبر تک نہ ہو؟‘‘
ایسے دوستوں نے شاید لندن کی سیاسی تاریخ کا گہرا مطالعہ نہیں کیا۔ جو سیاسی کھیل پاکستان کی سرزمین پر ممکن نہیں ہوتے، ان کی بساط اکثر لندن میں بچھائی جاتی رہی ہے۔
(مثال کے طور پر)
اگست 1990 کا واقعہ ہے۔ بے نظیر بھٹو کی حکومت برطرف کی جا چکی تھی، نگراں حکومت قائم تھی اور ملک میں نئے عام انتخابات کی تیاریاں عروج پر تھیں۔ ان دنوں آصف علی زرداری برطانیہ کے دورے پر تھے، جبکہ ایم کیو ایم کے قائد بھی لندن میں مقیم تھے۔اسی دوران نئی حکومت کی تشکیل اور آئندہ انتخابات کے تناظر میں پسِ پردہ متحرک سیاسی قوتوں کی جانب سے دونوں رہنماؤں کے درمیان سندھ کی سیاسی صورتِ حال اور آنے والے انتخابات سمیت مختلف معاملات پر رابطے کا انکشاف سب سے پہلے امن اخبار میں راقم نے کیا تھا۔ کچھ ایسی ہی صورتِ حال 6 ستمبر 2026 کو بھی دکھائی دی، جب صدر آصف علی زرداری اپنے نجی دورے پر لندن میں مقیم تھے۔ اسی دوران ایم کیو ایم کے قائد اور ان کے درمیان انتہائی خفیہ سطح پر ایک ملاقات کرائی گئی راقم نے اپنے کالم میں سوال اٹھایا؟ ’’کیا یہ کسی گیم چینجر کا اشارہ ہے؟‘‘راقم اس مبینہ خفیہ رابطے کو تین اہم زاویوں سے دیکھ رہا ہے۔کراچی کی سیاست کا محور
پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان کراچی کے بلدیاتی، شہری اور انتظامی اختیارات کے معاملے پر کشمکش ایک طویل عرصے سے جاری ہے۔ ایم کیو ایم (انٹرنیشنل) کی کسی بھی نوعیت کی متحرک سیاسی پوزیشن یا ممکنہ بیک چینل رابطہ، پیپلز پارٹی اور اس کے دیگر سیاسی حریفوں کے لیے ایک نئی صورتِ حال پیدا کر سکتا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پسِ پردہ مذاکرات، رابطوں اور سیاسی مفاہمتوں کی متعدد مثالیں ملتی ہیں۔ بعض مواقع پر جب لندن میں مقیم سیاسی قیادت اور پاکستان کے طاقتور حلقوں یا سیاسی حریفوں کے درمیان معاملات آگے بڑھانے کی کوششیں ہوئیں، تو مختلف نوعیت کی سیکیورٹی بریفنگز، وارننگز یا دیگر اشارے بھی سامنے آتے رہے، 17 ستمبر کو ایم کیو ایم کے قائد کی رہائشگاہ پر پیش آنے والا واقعہ بھی کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ لندن میں موجود ایم کیو ایم کی قیادت ایک مرتبہ پھر بعض اندرونی یا بیرونی سیاسی تحرکات کا مرکز بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ اگر صدر زرداری کے دورۂ لندن کے دوران ایم کیو ایم کے قائد کے ساتھ کسی سیاسی یا انتظامی فریم ورک پر بات ہوئی تھی،اور 17 ستمبر کا واقعہ اسی سلسلے کی کوئی کڑی ثابت ہوتا ہے، تو آنے والے دنوں میں کراچی اور سندھ کی سیاست میں نئے سیاسی رابطوں، اتحادوں یا طاقت کے توازن میں تبدیلی کے امکانات پر بحث ضرور تیز ہو سکتی ہے۔
لیکن اصل سوال پھر بھی اپنی جگہ موجود ہے؟کیا لندن کی سڑکیں اور گھر سیاسی مخالفین کے لیے محفوظ ہیں؟ گہری تحقیق سے ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے کہ لندن میں ہونے والے سیاسی قتل یا قاتلانہ حملوں کے پیچھے ہمیشہ ایک ہی مقصد نہیں ہوتا۔ ہر واقعے کو صرف سیاسی مخالفت ختم کرنے کی کوشش قرار دینا بھی درست نہیں۔ بعض معاملات میں ریاستی مداخلت کے شواہد سامنے آئے، بعض میں شواہد ناکافی رہے، جبکہ کچھ واقعات کے محرکات آج بھی بحث کا موضوع ہیں۔ جیسے
7 ستمبر 1978کو بلغاریہ کے کمیونسٹ نظام کے مخالف مصنف اور صحافی جارجی مارکوف لندن کے واٹرلو برج کے قریب بس کا انتظار کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک شخص چھتری لیے ان کے قریب آیا اور مبینہ طور پر چھتری کی نوک کے ذریعے ان کی ٹانگ میں ایک زہریلا دانہ داخل کیا گیا، جس میں ریسِن نامی مہلک زہر موجود تھا۔مارکوف چند روز بعد انتقال کر گئے۔
سرد جنگ کے دور کے اس پراسرار قتل نے دنیا کو حیران کر دیا۔ برطانوی تحقیقات میں بلغاریہ کے خفیہ ادارے کے ممکنہ کردار پر شبہ ظاہر کیا گیا، تاہم مبینہ قاتل برطانوی عدالت کے سامنے پیش نہ ہو سکا۔یہ مقدمہ ایک بنیادی سوال چھوڑ گیااگر کسی دوسرے ملک کا سیاسی مخالف لندن میں قتل ہو جائے تو برطانوی قانون کی پہنچ کہاں تک ہے؟ سرد جنگ ختم ہوگئی
سوویت یونین ٹوٹ گیا، مگر سیاسی قتل کا سایہ لندن سے ختم نہیں ہوا۔ 23 نومبر 2006 کو روسی خفیہ ادارے کے سابق اہلکار الیگزینڈر لِٹوینینکو تابکار مادے پولونیم 210 کے اثرات کے باعث انتقال کر گئے۔ برطانوی تحقیقات کے مطابق انہیں یکم نومبر 2006 کو لندن کے ملینیم ہوٹل کے پائن بار میں چائے کے دوران زہر دیا گیا تھا۔برطانوی عوامی تحقیقاتی رپورٹ میں دو روسی افراد آندرے لوگووائے اور دمتری کووتن کے کردار کو قتل سے جوڑا گیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اس قتل کی منظوری غالباً روسی ریاستی ادارے، خصوصاً ایف ایس بی، کی جانب سے دی گئی تھی۔تاہم ایک بنیادی قانونی رکاوٹ برقرار رہی، دونوں ملزمان روس میں موجود تھے اور روس نے انہیں برطانیہ کے حوالے کرنے سے انکار کیا۔یہ واقعہ اس حقیقت کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ جب کسی مقدمے کے اہم ملزمان ایسے ملک میں موجود ہوں جو انہیں حوالہ کرنے سے انکار کرے، تو برطانوی عدالت کے ذریعے مقدمہ آگے بڑھانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ 16 ستمبر 2010کو متحدہ قومی موومنٹ کے سینئر رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کو شمالی لندن کے علاقے ایج ویئر میں ان کے گھر کے قریب قتل کر دیا گیا۔ابتدائی مرحلے میں تفتیش کے لیے شواہد محدود تھے، لیکن بعد میں ہزاروں گھنٹوں کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگز، گواہوں اور دیگر شواہد کی مدد سے میٹروپولیٹن پولیس نے حملہ آوروں تک پہنچنے کی کوشش کی۔قتل کے بعد ملزمان لندن سے فرار ہو کر سری لنکا اور پھر پاکستان پہنچ گئے۔ یہاں برطانوی نظامِ قانون اور پاکستان کے درمیان قانونی تعاون کا ایک مختلف پہلو سامنے آیا۔ برطانوی پولیس نے تحقیقات سے متعلق شواہد پاکستانی حکام کے ساتھ شیئر کیے اور مقدمہ پاکستان میں آگے بڑھا۔2020میں پاکستانی عدالت نے محسن علی سید، محمد کاشف خان اور کامران کو ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے مقدمے میں سزائیں سنائیں۔یہ مقدمہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ ایک ایسے قتل کی تحقیقات، جس کا آغاز لندن میں ہوا، بعد ازاں دو ملکوں کے درمیان قانونی تعاون کے ذریعے پاکستان میں عدالتی مرحلے تک پہنچیں۔12 مارچ 2018 کو روسی نژاد جلاوطن کاروباری شخصیت نیکولائی گلشکوف اپنے لندن کے گھر میں مردہ پائے گئے۔ابتدائی طور پر موت کی وجہ واضح نہیں تھی، لیکن پوسٹ مارٹم میں گردن پر دباؤ کے نشانات سامنے آنے کے بعدمیٹروپولیٹن پولیس نے معاملے کو قتل کے زاویے سے تفتیش میں شامل کیا۔
یہ واقعہ بھی اس دور میں پیش آیا جب لندن میں روس سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات سے متعلق پراسرار واقعات عالمی توجہ کا مرکز بن رہے تھے۔ لندن میں ہر پیچیدہ قتل کو سیاسی رنگ دینا بھی درست نہیں۔1987میں جنوبی لندن میں ڈینیئل مورگن کا قتل اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔اس مقدمے میں کئی دہائیوں تک تفتیش جاری رہی۔ متعدد افراد گرفتار ہوئے، پولیس افسران بھی تحقیقات کی زد میں آئے، لیکن طویل عرصے تک کسی شخص کو قتل کے الزام میں سزا نہیں ہو سکی۔بعد کی تحقیقات میں پولیس کے بعض اہلکاروں اور ممکنہ بدعنوانی سے متعلق سنگین سوالات بھی سامنے آئے۔ اس مقدمے نے یہ حقیقت نمایاں کی کہ صرف سیاسی قتل ہی نہیں، بلکہ پیچیدہ عام جرائم کی تفتیش میں بھی ایک جدید اور مضبوط قانونی نظام کو بعض اوقات غیر معمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اور شاید یہی لندن کی اس پوری کہانی کا سب سے اہم پہلو ہے۔لندن صرف سیاست دانوں کی ملاقاتوں کا شہر نہیں؛ یہ رازوں، جلاوطنی، سیاسی رابطوں، خفیہ مذاکرات، قانونی پیچیدگیوں اور بعض اوقات پراسرار جرائم کی بھی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے۔
اسی لیے اگر دو بڑے سیاسی کردار لندن میں خاموشی سے ملیں تو سوال ضرور پیدا ہوتا ہے، لیکن سوال اور ثبوت میں فرق بھی برقرار رہنا چاہیے۔کیونکہ سیاست کے اس’’ڈرائنگ روم‘‘ میں دروازے بند ضرور ہوتے ہیں، مگر تاریخ کبھی نہ کبھی کھڑکی کھول دیتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *