ترتیب, نظام الدین
کراچی روشنیوں کا شہر ہی نہیں بلکہ پاکستان کا معاشی مرکز بھی ہے۔ یہاں جائیداد اور اراضی کی خرید و فروخت ایک بڑا کاروبار ہے۔ عام شہری اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی پلاٹ، مکان، دکان یا فلیٹ خریدنے میں لگا دیتا ہے، لیکن زمین کے قانونی معاملات اور دستاویزات سے لاعلمی کے باعث بعض اوقات جعل سازی اور فراڈ کا شکار ہو جاتا ہے۔
کراچی میں زمین خریدنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ الاٹمنٹ کیا ہے، لیز کیا ہے، ٹرانسفر اور انتقال میں کیا فرق ہے اور جائیداد کی دستاویزات کی قانونی حیثیت کیسے جانچی جائے۔ یہ معلومات کسی ایک شخص کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شہری کے لیے ضروری ہیں جو اپنی محنت کی کمائی سے جائیداد خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کراچی میں زمین کے معاملات ایک ہی ادارے کے پاس نہیں بلکہ زمین کی نوعیت، محلِ وقوع اور متعلقہ قانون کے مطابق مختلف اداروں کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔ کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی، یعنی کے ڈی اے، شہر کی متعدد ترقیاتی اسکیموں اور منصوبوں میں زمین کے حصول، ترقی، منصوبہ بندی اور الاٹمنٹ سے متعلق معاملات انجام دیتی رہی ہے۔ گلشنِ اقبال، نارتھ کراچی، سرجانی ٹاؤن لائینز ایریا اور دیگر علاقوں میں اس کے مختلف منصوبے اور اختیارات رہے ہیں۔
کے ڈی اے سے متعلق جائیداد میں الاٹمنٹ آرڈر، لیز، پری لیز ٹرانسفر، منتقلی اور دیگر دستاویزات کی حیثیت سمجھنا ضروری ہے۔
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، یعنی کے ایم سی، اپنی ملکیتی اور بلدیاتی اراضی، دکانوں اور دیگر بلدیاتی اثاثوں کے انتظام سے متعلق معاملات دیکھتی ہے۔ کسی بلدیاتی جائیداد کی خرید و فروخت سے پہلے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ متعلقہ جائیداد کس ادارے کی ملکیت ہے اور اسے منتقل یا لیز کرنے کا قانونی اختیار کس کے پاس ہے۔ سندھ بورڈ آف ریونیو صوبے کے ریونیو ریکارڈ، سرکاری اراضی، زرعی زمینوں اور دیگر متعلقہ اراضی معاملات میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ زمین کی ملکیت، ریکارڈ، انتقال اور ریونیو دستاویزات کی جانچ میں سرکاری ریکارڈ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، یعنی ڈی ایچ اے، اپنی مخصوص حدود میں رہائشی، تجارتی اور دیگر جائیدادوں کے انتظام، منتقلی اور ترقیاتی معاملات اپنے قوانین اور متعلقہ قانونی فریم ورک کے تحت انجام دیتی ہے۔
اسی طرح ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی اپنے متعلقہ دائرۂ اختیار اور منصوبوں میں ترقیاتی کاموں، منصوبہ بندی اور اراضی سے متعلق معاملات انجام دیتی ہیں۔ پورٹ قاسم اتھارٹی اور کراچی پورٹ ٹرسٹ وفاقی ادارے ہیں۔ ان کی اپنی حدود میں ساحلی، صنعتی، بندرگاہی اور تجارتی اراضی سے متعلق الگ قوانین اور قواعد نافذ ہوتے ہیں۔ ایسی زمین خریدنے یا لیز پر لینے سے پہلے متعلقہ ادارے کی منظوری اور زمین کی قانونی حیثیت کی مکمل تصدیق ضروری ہے۔ کراچی میں مختلف کنٹونمنٹ بورڈز بھی اپنے متعلقہ علاقوں میں مخصوص شہری، دفاعی اور بلدیاتی معاملات انجام دیتے ہیں۔ اس لیے جائیداد خریدنے سے پہلے سب سے پہلا سوال یہی ہونا چاہیے، یہ زمین کس ادارے کے دائرۂ اختیار میں ہے؟
الاٹمنٹ کیا ہے؟
عام طور پر کسی ترقیاتی منصوبے یا ہاؤسنگ اسکیم میں کسی شخص کے حق میں پلاٹ یا زمین مختص کرنے کے عمل کو الاٹمنٹ کہا جاتا ہے۔ متعلقہ ادارہ کامیاب درخواست گزار کے نام الاٹمنٹ آرڈر یا الاٹمنٹ لیٹر جاری کر سکتا ہے۔
لیکن ایک اہم بات یاد رکھیں، صرف الاٹمنٹ لیٹر کو ہر صورت میں مکمل اور حتمی ملکیتی دستاویز نہیں سمجھا جا سکتا۔
الاٹمنٹ کی شرائط، واجبات، قبضہ، لیز اور متعلقہ ادارے کےقواعد دیکھنا ضروری ہے۔اگر کوئی شخص فائل یا الاٹمنٹ خریدنے کا دعویٰ کرے تو خریدار کو متعلقہ ادارے کے ریکارڈ سے اس کی اصلیت، موجودہ حیثیت اور قابلِ منتقلی ہونے کی تصدیق کرنی چاہیے۔
الاٹمنٹ اور ٹرانسفر میں فرق یہ فرق ہر شہری کو سمجھنا چاہیے۔ الاٹمنٹ عام طور پر کسی ادارے کی جانب سے کسی شخص کے حق میں زمین یا پلاٹ مختص کرنے کا ابتدائی عمل ہے۔جبکہ ٹرانسفر اس جائیداد یا اس میں موجود قانونی حق کو ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل کرنے کا عمل ہے۔
لہٰذا اگر کوئی جائیداد پہلے ہی کسی شخص کے نام قانونی طور پر الاٹ ہو چکی ہے تو بعد میں کسی دوسرے شخص کے نام ہونے والا معاملہ عموماً منتقلی یا ٹرانسفر کہلائے گا، نئی الاٹمنٹ نہیں۔البتہ ہر معاملے کی حتمی قانونی حیثیت متعلقہ ادارے کے ریکارڈ، اصل دستاویزات اور مخصوص قانون و قواعد سے طے ہوتی ہے۔لیز کیا ہے؟کراچی میں بہت سی سرکاری یا ادارہ جاتی اراضی مستقل ملکیت کے بجائے لیز کی بنیاد پر دی جاتی ہے۔ تاہم ہر زمین کے لیے ایک ہی مدت مقرر نہیں ہوتی۔
لیز کی مدت متعلقہ ادارے، زمین کی نوعیت، اصل دستاویز اور نافذ قوانین و شرائط کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
اسی لیے یہ بات درست نہیں کہ کراچی کی ہر سرکاری زمین لازماً 99 سال کے لیے لیز ہوتی ہے۔ بعض معاملات میں طویل مدتی لیز یا سب لیز موجود ہو سکتی ہے، جبکہ بعض اراضی کے لیے مختلف مدت اور شرائط مقرر ہوتی ہیں۔خریدار کو لیز کی مدت، شرائط، تجدید، منتقلی کے حق اور پابندیوں کامطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔
لیز اور سب لیز
اگر کسی ادارے یا اصل مالک سے کسی بڑی اراضی کی لیز حاصل کی گئی ہو اور قانونی اختیار کے تحت اس میں سے کوئی حصہ آگے کسی دوسرے شخص کو دیا جائے تو اسے بعض حالات میں سب لیز کہا جا سکتا ہے۔
فلیٹ، دکان یا پورشن خریدتے وقت صرف بلڈر کی بات پر اعتماد نہ کریں بلکہ یہ بھی دیکھیں کہ،زمین کی اصل ملکیت کیا ہے؟
ماسٹر لیز موجود ہے یا نہیں؟عمارت قانونی طور پر منظور شدہ ہے یا نہیں؟تعمیر کی اجازت موجود ہے یا نہیں؟خریدار کے حق میں کون سی دستاویز جاری کی جائے گی؟
فروخت یا منتقلی کا قانونی اختیار موجود ہے یا نہیں؟ٹرانسفر اور انتقالجب کسی جائیداد میں موجود قانونی حق ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل کیا جاتا ہے تو اسے عمومی طور پر ٹرانسفر کہا جاتا ہے۔ریونیو ریکارڈ میں نئے مالک یا حق دار کا نام درج کرنے کے عمل کو انتقال یا میوٹیشن کہا جاتا ہے۔
لیکن تمام جائیدادوں میں منتقلی کا طریقہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔
کسی ہاؤسنگ اسکیم، کوآپریٹو سوسائٹی، ڈی ایچ اے یا ترقیاتی ادارے کی جائیداد میں متعلقہ ادارے کے اپنے قواعد کے مطابق ٹرانسفر کی کارروائی ہو سکتی ہے۔ اس لیے خریدار کو یہ معلوم کرنا چاہیے کہ جائیداد کا ریکارڈ کس ادارے کے پاس ہے اور منتقلی کا قانونی طریقہ کیا ہے۔ایک اہم اصول
زمین خریدتے وقت صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ فروخت کرنے والے کے پاس کوئی کاغذ موجود ہے یا نہیں۔اصل سوال یہ ہے:
کیا وہ کاغذ واقعی اسی ادارے نے جاری کیا ہے جسے اسے جاری کرنے کا قانونی اختیار حاصل تھا؟اور اس سے بھی اہم سوال
کیا آج بھی اس دستاویز کی قانونی حیثیت برقرار ہے؟
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں معمولی سی لاپروائی زندگی بھر کی جمع پونجی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
جاری ہے۔۔۔ مفادِ عامہ قسط دوم میں، مختیار نامہ یعنی پاور آف اٹارنی، جنرل اور اسپیشل مختیار نامہ، ناقابلِ منسوخی مختیار نامہ، بیرونِ ملک مالک کا مختیار نامہ، جعلی دستاویزات، چائنا کٹنگ، گوٹھ اور مضافاتی زمین، فلیٹ، دکان اور پورشن کی خریداری اور جائیداد خریدنے سے پہلے ضروری احتیاطی تدابیر۔
