ڈیرہ غازی خان بیوروچیف چوھدری احمد سے )
کالم ) ڈائری۔
آرٹیکل ۔
تنخواہ مانگنا جرم نہیں، صحافی بھی انسان ہے، اس کے گھر میں بھی چولہا جلتا ہے!
صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ یہی وہ شعبہ ہے جو معاشرے کی آواز بنتا ہے، مظلوم کی فریاد حکمرانوں تک پہنچاتا ہے، کرپشن، ناانصافی، بدعنوانی اور عوامی مسائل کو بے نقاب کرتا ہے۔ صحافی دن رات اپنی ذمہ داریاں نبھاتا ہے، کبھی شدید گرمی میں، کبھی سردی اور بارش میں، کبھی حادثے کے مقام پر تو کبھی کسی مظلوم کے دروازے پر کھڑا ہو کر خبر جمع کرتا ہے۔
لیکن ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ دوسروں کے حقوق کی جنگ لڑنے والا صحافی اکثر اپنے ہی حقوق کے لیے دربدر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جو صحافی دوسروں کے گھروں کے مسائل حکمرانوں تک پہنچاتا ہے، اس کے اپنے گھر کا چولہا کون جلائے گا؟
پاکستان میں میڈیا انڈسٹری کے اندر ایک عرصے سے ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جہاں صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کو کئی کئی ماہ تک تنخواہیں ادا نہیں کی جاتیں۔ کہیں چار ماہ، کہیں چھ ماہ اور کہیں اس سے بھی زیادہ عرصے کے واجبات روک لیے جاتے ہیں۔ بعض ادارے اچانک ملازمین کو فارغ کر دیتے ہیں، کسی کو تحریری نوٹس نہیں دیا جاتا، کسی کو بقایا تنخواہ نہیں ملتی اور کسی کو برسوں کی خدمات کے بعد ایسے نظرانداز کر دیا جاتا ہے جیسے اس نے کبھی اس ادارے کے لیے کام ہی نہ کیا ہو۔
یہ کیسا نظام ہے کہ ادارے کے لیے خبر لانے والا شخص اپنی تنخواہ کے لیے منتیں کرے؟
یہ کیسی صحافت ہے جہاں صحافی کی آواز تو لاکھوں لوگوں تک پہنچتی ہے، مگر اس کی اپنی فریاد ادارے کے سربراہ تک نہیں پہنچ پاتی؟
قانون موجود ہے، پھر صحافی خاموش کیوں رہے؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں میڈیا ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی راستے موجود ہیں، ضرورت صرف اپنے حقوق سے آگاہی اور ان کے استعمال کی ہے۔
الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ ملازمین کے لیے پیمرا ترمیمی ایکٹ 2023 کے تحت ایک اہم قانونی سہولت متعارف کرائی گئی۔ پیمرا آرڈیننس 2002 کی دفعہ 26 میں ترمیم کے بعد کونسل آف کمپلینٹس کو الیکٹرانک میڈیا ملازمین کی کم از کم اجرت اور بروقت تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے متعلق شکایات وصول کرنے اور ان کا جائزہ لینے کا اختیار دیا گیا۔
متاثرہ ملازمین متعلقہ کونسل آف کمپلینٹس سے رجوع کرسکتے ہیں۔ کونسل اپنی سفارشات پیمرا اتھارٹی کو بھیجتی ہے، جو قانون کے مطابق مناسب فیصلہ یا حکم جاری کرسکتی ہے۔
تاہم یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ پیمرا کا یہ مخصوص اختیار تنخواہوں کی بروقت ادائیگی اور کم از کم اجرت سے متعلق ہے، ہر قسم کی برطرفی یا ملازمت کی بحالی کا تنازع اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ �
pemra.gov.pk +1
اخباری صحافیوں کے لیے آئی ٹی این ای ایک اہم فورم
اخبارات سے وابستہ صحافیوں اور غیر صحافتی عملے کے لیے امپلیمینٹیشن ٹریبونل فار نیوزپیپر ایمپلائز (ITNE) ایک اہم قانونی ادارہ ہے۔
یہ ٹریبونل نیوزپیپر ایمپلائز ایکٹ 1973 کے تحت قائم کردہ ویج بورڈ ایوارڈ پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے کام کرتا ہے۔ صحافی یا متعلقہ ملازم اپنے واجبات اور ویج بورڈ سے متعلق حقوق کے لیے انفرادی درخواست دائر کرسکتا ہے۔
اس ادارے کا دائرہ اختیار پورے پاکستان تک ہے اور اس کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق انفرادی درخواستیں متعلقہ قواعد کے تحت دائر کی جاسکتی ہیں۔ �
Ministry of Information and Broadcasting
لیبر کورٹ اور دیگر قانونی راستے بھی موجود ہیں
میڈیا ملازمین کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ہر تنازع کا فورم ایک جیسا نہیں ہوتا۔
اگر کسی ملازم کو غیر قانونی طور پر ملازمت سے نکالا گیا ہو، واجبات ادا نہ کیے گئے ہوں یا ملازمت کے معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہو تو ملازمت کی نوعیت، ادارے کی قانونی حیثیت اور متعلقہ قانون کے مطابق لیبر کورٹ یا نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (NIRC) سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے۔
البتہ NIRC کا دائرہ اختیار مخصوص نوعیت کے اداروں اور صنعتی تعلقات کے تنازعات تک محدود ہے۔ اس کے لیے قانونی طریقہ کار اور مقررہ مدت کی پابندی بھی ضروری ہے۔ �
Ministry of Overseas Pakistanis
میری نظر میں ہر صحافی کو اپنی ملازمت کے ثبوت، تقرری نامہ، ادارے کا شناختی کارڈ، تنخواہ کی تفصیلات، بینک ریکارڈ، واجبات کی تحریری تفصیل، واٹس ایپ پیغامات اور برطرفی کے نوٹس محفوظ رکھنے چاہئیں۔ صرف زبانی شکایت کے بجائے تحریری طور پر ادارے کی انتظامیہ کو اپنے واجبات کی ادائیگی کا مطالبہ کرنا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر کسی مستند وکیل سے قانونی رہنمائی لینی چاہیے۔
میڈیا مالکان اور اداروں کی انتظامیہ سے بھی چند سوالات!
کیا صحافیوں سے یہ توقع رکھنا درست ہے کہ وہ بغیر تنخواہ کے مہینوں کام کرتے رہیں؟
کیا کسی میڈیا ادارے کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ ملازم سے دن رات کام لے، اس کی محنت سے خبریں اور ریٹنگ حاصل کرے، مگر جب تنخواہ دینے کا وقت آئے تو مالی مشکلات کا بہانہ بنا دے؟
اگر کسی ادارے کو مالی مشکلات درپیش ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا بوجھ صرف ملازمین کے کندھوں پر ڈال دیا جائے؟
حکومت اگر میڈیا اداروں کو اشتہارات دیتی ہے تو اسے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ان اداروں میں کام کرنے والے صحافیوں اور کارکنوں کو بروقت تنخواہیں مل رہی ہیں یا نہیں۔ سرکاری اشتہارات اور دیگر سہولیات کے نظام میں ملازمین کے حقوق کی ادائیگی کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے بھی 13 نومبر 2024 کو بعض میڈیا اداروں میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور ملازمین کی برطرفیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پیمرا اور آئی ٹی این ای کو ملازمین کے واجبات اور معاہداتی حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات کی ہدایت کی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ محض چند افراد کی شکایت نہیں بلکہ ایک سنجیدہ قومی معاملہ ہے۔ �
National Assembly of Pakistan
ایک اہم بات، فیلڈ جرنلسٹس اور نمائندگان کے نام!
یہ تحریر ان صحافیوں کے لیے بھی ہے جو بڑے شہروں کے دفاتر میں نہیں بلکہ دور دراز قصبوں، دیہاتوں اور تحصیلوں میں بیٹھ کر قومی میڈیا کے لیے کام کرتے ہیں۔
وہ نمائندگان جو اپنی موٹر سائیکل کا پٹرول خود ڈلواتے ہیں، موبائل کے انٹرنیٹ پیکج اپنے پیسوں سے لگواتے ہیں، کیمرہ، سفر اور دیگر اخراجات اپنی جیب سے برداشت کرتے ہیں، دن رات خبریں بھیجتے ہیں اور عوامی مسائل اجاگر کرتے ہیں۔
ان میں سے بہت سے افراد کو نہ مناسب معاوضہ ملتا ہے، نہ سفری اخراجات اور نہ ہی ان کے مستقبل کے لیے کوئی واضح پالیسی موجود ہوتی ہے۔
کیا ان کی محنت کی کوئی قیمت نہیں؟
کیا چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں کے نمائندگان صحافت کا حصہ نہیں؟
کیا صحافی صرف بڑے شہروں کے نیوز رومز میں بیٹھنے والوں کا نام ہے؟
ہرگز نہیں! ایک دور افتادہ گاؤں سے بھیجی جانے والی خبر بعض اوقات قومی سطح پر بڑا مسئلہ اجاگر کرتی ہے۔
میری آواز، صحافیوں کے نام!
میں سمجھتا ہوں کہ صحافت صرف خبر دینے کا نام نہیں بلکہ اپنے شعبے کے اندر موجود ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا بھی صحافتی ذمہ داری ہے۔
ہمیں صحافیوں کی تنظیموں، پریس کلبوں، یونینز، میڈیا مالکان، پیمرا، وزارت اطلاعات اور حکومت سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ میڈیا ملازمین کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے۔
کسی بھی ملازم کو فارغ کرتے وقت قانون اور معاہدے کی پابندی کی جائے، واجبات ادا کیے جائیں اور دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے نمائندگان کے لیے بھی مناسب معاوضے اور سہولیات کا واضح نظام بنایا جائے۔
یاد رکھیے! صحافی کوئی مشین نہیں، وہ بھی ایک انسان ہے۔ اس کے بچے بھی اسکول جاتے ہیں، اس کے گھر میں بھی بجلی اور گیس کے بل آتے ہیں، اسے بھی راشن خریدنا ہوتا ہے، اسے بھی اپنے والدین، بچوں اور اہل خانہ کی ضروریات پوری کرنی ہوتی ہیں۔
جو شخص معاشرے کے مظلوموں کی آواز بنتا ہے، اسے خود مظلوم بننے پر مجبور نہ کیا جائے۔
قلم کی عزت صرف اس وقت ممکن ہے جب قلم اٹھانے والے کی عزت، روزگار اور معاشی تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔
صحافی کو خاموش نہ کرو، اس کے قلم کو کمزور نہ کرو، اس کے حق کا معاوضہ ادا کرو۔ کیونکہ بھوکے پیٹ سے صحافت تو کی جاسکتی ہے، مگر ایک باوقار صحافتی زندگی گزارنا انتہائی مشکل ہے۔
میرا سوال آج بھی وہی ہے: صحافی دوسروں کے حقوق کی جنگ لڑے تو کون لڑے، اور جب صحافی خود اپنے حق کے لیے آواز اٹھائے تو اسے اپنے ہی ادارے سے انصاف کیوں نہ ملے؟
✍️ احمد راجپوت
صحافی و کالم نگار
یارو کھوسہ، ضلع ڈیرہ غازی خان
نوٹ: یہ کالم عمومی قانونی آگاہی کے لیے ہے۔ ہر ملازم کا معاملہ اس کے تقرری نامے، ملازمت کی حیثیت اور متعلقہ قانون کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔
