​ہنوز دلی دور است!

​ترتیب
نظام الدین

​تاریخ کے سینے میں بعض ایسے محاورے اور جملے محفوظ ہیں جو صدیوں کا سفر طے کرنے کے باوجود اپنی معنویت نہیں کھوتے۔ بادشاہوں کے تخت الٹ جاتے ہیں، سلطنتوں کے نقشے بدل جاتے ہیں، اور شاہی محلات کھنڈرات بن جاتے ہیں، لیکن کسی درویش کی زبان سے نکلا ہوا ایک جملہ نسل در نسل زندہ رہتا ہے۔​سنہ 1325​سلطان غیاث الدین تغلق جب بنگال کی فوجی مہم سے فتح یاب ہو کر واپس دہلی آرہا تھا، تو اس نے حضرت نظام الدین اولیاءؒ کو پیغام بھجوایا کہ اس کے دہلی پہنچنے سے پہلے شہر چھوڑ دیں۔ یہ کوئی معمولی پیغام نہیں تھا۔ اس زمانے میں بادشاہ کی ناراضگی سیدھی موت کا پروانہ بن سکتی تھی، اور شاہی فرمان کے سامنے بڑے بڑے امرا اور سپہ سالار سر جھکا دیتے تھے۔
​جب یہ خبر خانقاہ پہنچی تو مریدین سخت پریشان ہوگئے کہ بادشاہ واپس آکر خانقاہ کے خلاف کوئی سخت کارروائی کرے گا۔ لیکن حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے چہرے پر ذرہ برابر بھی پریشانی کے آثار نہ تھے۔ انہوں نے انتہائی اطمینان سے فرمایا
“ہنوز دلی دور است” (ابھی دہلی دور ہے) ​ادھر سلطان غیاث الدین تغلق اپنی فاتح فوج کے ساتھ دہلی کی طرف بڑھ رہا تھا، اور اب اس کے اور تختِ دہلی کے درمیان بظاہر کوئی بڑی رکاوٹ باقی نہیں تھی۔ دہلی کے قریب افغان پور کے مقام پر سلطان کے استقبال کے لیے اس کے بیٹے شہزادہ جونا خان جو بعد میں محمد بن تغلق کے نام سے تخت نشین ہوا اس کے زیرِ انتظام ایک عارضی شاہی محل تیار کیا گیا تھا۔
​سلطان جب اس عمارت میں پہنچا تو اچانک وہ عمارت منہدم ہوگئی شاہی شان و شوکت، محافظوں اور لشکر کے باوجود غیاث الدین تغلق ملبے تلے دب کر ہلاک ہوگیا۔ وہ بادشاہ جو دہلی پہنچ کر ایک درویش کو شہر سے نکالنے کا ارادہ رکھتا تھا، خود زندہ دہلی نہ پہنچ سکا۔ اور یوں تاریخ کے صفحات میں یہ جملہ امر ہو گیا۔
​صدیوں بعد، سنہ 1739میں تاریخ نے ایک بار پھر اس محاورے کو دہرایا۔ نادر شاہ درانی زرہ بکتر سے ڈھکا، سر پر آہنی خود اور کمر پر شمشیر باندھے اپنے کمانداروں اورجرنیلوں کے ہمراہ دہلی کی جانب رواں دواں تھا۔ اور مغل تاجدار محمد شاہ (رنگیلا) کو اپنے کمانڈر کے ذریعے دہلی چھوڑنے کا پیغام بھیج چکا تھا، جس کے جواب میں محمد شاہ کا پیغام
“ہنوز دلّی دور است”
​کے جواب نے نادر شاہ کو غصے کی آگ میں جلا دیا اور اس نے دہلی کی مسجد کے بلند صحن میں کھڑے ہو کر تلوار میان سے کھینچ لی جو اس کی سپاہ کے لیے قتلِ عام کا اشارہ تھا۔
​پھر سپاہیوں نے گھر گھر جا کر جو ملا اسے تہِ تیغ کرنا شروع کر دیا۔خون اس قدر بہا کہ نالیوں سے باہر بہنے لگا۔ لاہوری دروازہ، فیض بازار، کابلی دروازہ، اجمیری دروازہ اور جوہری بازار لاشوں سے اٹ گئے۔ ہزاروں عصمتیں پامال ہوئیں، سینکڑوں عورتوں نے کنوؤں میں کود کر جان دے دی، اور کئی لوگوں نے اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو خود اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیا تاکہ وہ دشمن کے ہتھے نہ چڑھیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس ایک دن میں تیس ہزار دہلی والے تلوار کے گھاٹ اتر گئے۔ بالآخر، محمد شاہ نے اپنے وزیرِ نظام الملک کو نادر شاہ کے پاس بھیجا۔ روایت ہے کہ نظام الملک ننگے پاؤں اور ننگے سر نادر شاہ کے سامنے حاضر ہوا اور امیر خسرو سے منسوب یہ شعر پڑھا،
​دگر نمانده کسی تا به تیغ ناز کشی مگر که زنده کنی مرده را و باز کشی”یعنی اور اب کوئی نہیں بچا جسے تو اپنی تیغِ ناز سے قتل کرے. سوائے اس کے کہ تو مردوں کو زندہ کرے اور دوبارہ قتل کرے,​اس التجا پر نادر شاہ نے تلوار میان میں ڈالی اور سپاہیوں کو روکا۔ ​قتلِ عام بند ہونے کے بعد لوٹ مار کا بازار گرم ہوا۔ شہر سے مال و زر بٹورا گیا، اور جو دولت چھپانے کی کوشش کرتا اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ شاہی خزانے سے ہیرے، موتی، جواہرات اور سونا جمع کیا گیا ایک مہینے تک سینکڑوں مزدور سونے اور چاندی کے برتنوں اور زیورات کو پگلا کر اینٹیں ڈھالتے رہے تاکہ ایران لے جانے میں آسانی ہو۔
​اگرچہ نادر شاہ نے مغل خزانے میں جھاڑو پھیر دی تھی اور تمام امرا کی جیبیں خالی کرا دی تھیں، لیکن دہلی کی ایک طوائف نور بائی نے اسے خفیہ طور پر بتایا کہ جو کچھ تم نے حاصل کیا ہے، وہ اس دولت کے آگے ہیچ ہے جسے محمد شاہ نے اپنی پگڑی میں چھپا رکھا ہے۔نادر شاہ نے یہ سن کر محمد شاہ سے کہا ایران میں رسم ہے کہ بھائی خوشی کے موقعے پر آپس میں پگڑیاں بدل لیتے ہیں، آج سے ہم بھائی بھائی بن گئے ہیں، تو کیوں نہ اس رسم کا اعادہ کیا جائے؟ چنانچہ
​محمد شاہ کے پاس سر جھکانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ نادر شاہ نے اپنی پگڑی اس کے سر رکھی اور اس کی پگڑی اپنے سر اور یوں دنیا کا مشہور ترین ہیرا “کوہِ نور” ہندوستان سے ہمیشہ کے لیے نکل کر ایران پہنچ گیا۔ موجودہ دور کے حکمرانوں، سیاست دانوں اور ہر صاحبِ اقتدار کو ماضی کے ان شکستہ محلات کی طرف ضرور دیکھنا چاہیے، جہاں ایسے لوگ بیٹھا کرتے تھے جنہیں اپنی طاقت کے زوال کا کبھی وہم و گمان تک نہ تھا۔​اس لیے جب بھی کوئی حکمران طاقت کے نشے میں کسی درویش کے تاریخی جملے
​”ہنوز دلی دور است!”
بھولنے لگے تو اسے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قدرت کا انصاف اور تاریخ کا دھارا بدلتے دیر نہیں لگتی!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *