ترتیب
نظام الدین
آج کل جب اخبارات اور سوشل میڈیا پر سعودی عرب کے گرد منڈلاتے جنگ کے خطرات کی خبریں پڑھتا ہوں تو دل بے اختیار ماضی کے جھروکوں میں جھانکنے لگتا ہے۔ نگاہوں کے سامنے وہ سرزمین آکھڑی ہوتی ہے جہاں زندگی کے دو یادگار برس گزارے تھے۔ وہ گلیاں، وہ بازار، وہ مانوس چہرے اور حرمین شریفین کی وہ روح پرور فضائیں، جن کی یاد آج بھی دل کے کسی گوشے میں ایک روشن چراغ کی طرح جل رہی ہے۔ایسے ہی لمحوں میں مجھے اپنی وطن واپسی کا وہ دن یاد آتا ہے، جب مدینے میں اپنے کمرے کے اندر سامان کی پیکنگ سے فارغ ہو چکا تھا۔ ہر چیز بڑی توجہ اور سلیقے سے اپنی جگہ رکھ دی تھی، مگر ایک چیز تھی جو کسی طرح سمٹنے کا نام نہیں لے رہی تھی، اور وہ تھیں میری بکھری ہوئی یادیں! مدینے کے بازار سے خریدا ہوا عبایا، میری کتابیں اور عطر کی وہ شیشی، جس میں آج بھی ریاض کے بخور کی خوشبو بسی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ یہ سب محض سامان نہیں تھا، بلکہ میری زندگی کے ان دو برسوں کی نشانیاں تھیں جو بظاہر گزر گئے تھے، مگر میرے وجود میں ہمیشہ کے لیے ٹھہر گئے۔
وطن واپسی کے بعد آج میں پھر اپنے اسی تنگ سے کمرے میں بیٹھا ہوں، جو میری غیر موجودگی میں ذرا بھی نہیں بدلا۔ لیکن مجھے اپنے اندر ایک ایسے خلا کی وسعت محسوس ہو رہی ہے جو مسلسل مجھے اپنی گرفت میں لے رہا ہے۔ کل ہی کی تو بات معلوم ہوتی ہے کہ میں ایک بالکل مختلف دنیا میں جی رہا تھا۔ ایک ایسی دنیا، جو اپنے دامن میں کئی براعظموں، تہذیبوں اور زبانوں کو سمیٹے ہوئے تھی۔ میں اپنے کمرے سے نکلتا تو افریقہ، ایشیا اور یورپ کے لوگوں سے ملاقات ہوتی۔ ہم باتیں کرتے، ہنستے مسکراتے اور چائے یا کافی کی پیالی پر اپنی اپنی تہذیبوں، روایتوں اور تجربات کا تبادلہ کرتے۔
اور اب؟میں ایک ایسے شہر میں واپس آگیا ہوں جہاں ہر طرف ایک ہی رنگ، ایک ہی آواز اور مانوس چہرے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ دن بھی ایک دوسرے کا عکس معلوم ہوتے ہیں۔ دنیا کی طرف کھلنے والی وہ وسیع کھڑکی جیسے اچانک بند ہو گئی ہو،اور میں ایک بار پھر اپنی مانوس دنیا کے ہجوم میں تنہائی کا مسافر بن گیا ہوں۔کل تک میں ایک مختلف، پاکیزہ اور روح پرور فضا میں سانس لے رہا تھا۔ توحید کی وہ فضا، جہاں میری روح کو ایک عجیب سکون میسر تھا۔ جہاں عبادت کی سادگی، عقیدے کی یکسوئی اور اللہ کی وحدانیت کا احساس میرے دل کو ہر لمحہ تازگی بخشتا تھا۔مجھے وہاں کا وہ اسلامی ماحول بے حد یاد آتا ہے، جہاں غیر ضروری رسوم اور معاشرتی پیچیدگیوں سے ہٹ کر بندہ اپنے رب سے ایک براہِ راست تعلق محسوس کرتا ہے۔وہاں اسلام ہی سب سے بڑی پہچان تھا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ آپ پاکستانی ہیں، عرب ہیں، افریقی ہیں یا دنیا کے کسی اور خطے سے تعلق رکھتے ہیں۔ سب ایک ہی صف میں شانہ بشانہ کھڑے ہوتے۔ رنگ، نسل، زبان اور قومیت کی دیواریں مٹ جاتیں اور صرف ایک آواز باقی رہ جاتی:اللہ اکبر!
یہی ندا سب کو ایک ایسے مضبوط رشتے میں پرو دیتی تھی جس کے سامنے دنیا کی تمام شناختیں ثانوی محسوس ہونے لگتی تھیں۔لیکن یہاں واپس آکر میں پھر انہی معاشرتی پیچیدگیوں، طبقاتی تقسیم اور مصنوعی امتیازات کے درمیان
آکھڑا ہوا ہوں، جو انسانوں کو قریب لانے کے بجائے اکثر ایک دوسرے سے دور کر دیتے ہیں۔شاید سب سے زیادہ تکلیف دہ احساس حرمین شریفین سے دوری کا ہے۔یا الٰہی! وہ دن بھی کیا دن تھے! چھٹی کے دن دل چاہتا تو ایک چھوٹا سا بیگ اٹھاتا، بس میں سوار ہوتا اور سفر کے دوران نیند کے چند جھونکوں کے بعد جب آنکھ کھلتی تو کبھی مکہ مکرمہ کے مینار نگاہوں کے سامنے ہوتے اور کبھی مدینہ منورہ کی پُرسکون فضائیں میرا استقبال کر رہی ہوتیں۔کبھی خانۂ کعبہ کا طواف نصیب ہوتا، کبھی مسجدِ نبوی میں حاضری اور کبھی ریاض الجنہ میں نماز ادا کرنے کی سعادت ملتی۔وہ سب کچھ جو وہاں رہتے ہوئے زندگی کا ایک سہل اور حسین معمول تھا، آج ایک دور افتادہ خواب بن چکا ہے۔ اب اسی سفر کے لیے ویزے، کاغذی کارروائیاں، اخراجات اور مہینوں کی منصوبہ بندی درکار ہے۔مجھے عربی زبان کی مٹھاس یاد آتی ہے۔ سعودی بازاروں کی رونق، مدینے کی گلیاں، وہاں کے لوگوں کا محبت بھرا عوامی لہجہ اور گفتگو کا وہ مخصوص انداز یاد آتا ہے، جو جانے کب میری اپنی زبان کا حصہ بن گیا تھا۔دوستوں کے ساتھ عربی الفاظ کی ادائیگی کی کوششیں، غلط تلفظ پر بے ساختہ قہقہے اور پھر محبت سے کی جانے والی اصلاح؛ آج یہ سب یادیں دل کے کسی گوشے میں زندہ ہیں۔مجھے ملازمت کے وہ دن بھی یاد آتے ہیں جو زندگی کی حرارت سے بھرپور تھے۔ وہاں کی ثقافتی سرگرمیاں، لوک فنون کی گرمجوشی اور مختلف قومیتوں کے لوگوں کے درمیان کام کرنے کا تجربہ مجھے یہ احساس دلاتا تھا کہ میں کسی وسیع اور خوب صورت دنیا کا حصہ ہوں۔دو برس کیسے گزر گئے، خبر ہی نہ ہوئی!وطن واپسی کے بعد میں انہی خیالوں میں گم اپنے بستر کے کنارے بیٹھا تھا کہ اچانک باہر سے بلند قہقہوں اور گفتگو کی آوازیں سنائی دیں۔
میرے عزیز و اقارب تھے، جو پردیس سے میری بخیریت واپسی پر مبارک باد دینے آئے تھے۔ وہ اپنے ساتھ مٹھائی لائے تھے۔ محبت سے ملے، حال احوال دریافت کیا، کچھ دیر میری باتیں سنیں اور پھر اپنی روزمرہ کی انہی گفتگوؤں میں مصروف ہو گئے جو میرے جانے سے پہلے بھی ان کی زندگی کا حصہ تھیں۔
میں انہیں دیکھتا رہا۔
ان کی محبت میں کوئی کمی نہ تھی۔ استقبال میں بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی تھی، مگر نہ جانے کیوں اس سارے ہنگامے کے درمیان میرے دل میں ایک عجیب سا احساس جاگ اٹھا۔
یہ لوگ، یہ شہر، یہ گلیاں، یہ رسم و رواج، جن کے درمیان میں پلا بڑھا تھا، آج انہی کے درمیان بیٹھا خود کو اجنبی کیوں محسوس کر رہا ہوں؟کچھ برس پہلے میں اسی معاشرتی نظام کا ایک حصہ تھا۔ پھر ایک دن یہاں سے رخصت ہوا تو میری جگہ کسی حد تک خالی رہ گئی۔ وقت گزرتا رہا، زندگی اپنی رفتار سے چلتی رہی اور اب جب واپس آیا تو سب کچھ پہلے جیسا دکھائی دیتا تھا۔لیکن شاید میں پہلے جیسا نہیں رہا تھا!میں ان سب کی محبت اور استقبال پر دل سے شکر گزار تھا، مگر اپنے ہی گھر میں خود کو کسی عارضی مہمان کی طرح محسوس کر رہا تھا۔
دراصل میں بدل چکا تھا۔ایک دوسری تہذیب، ایک مختلف معاشرہ اور زندگی کے وسیع تر تجربات میرے وجود میں جذب ہو چکے تھے۔ اب میری شخصیت صرف اس مٹی کی پیداوار نہیں رہی تھی جہاں میں پیدا ہوا تھا، بلکہ اس سرزمین کا رنگ بھی اس میں شامل ہو گیا تھا جہاں میں نے اپنی زندگی کے دو یادگار برس گزارے تھے۔
میری کیفیت اس کھجور کے درخت جیسی تھی جسے اس کی پہلی زمین سے اکھاڑ کر کسی دوسری سرزمین میں لگا دیا گیا ہو۔ وہاں اس نے نئی جڑیں نکالیں، نئی ہواؤں میں سانس لیا، نئے موسم دیکھے اور رفتہ رفتہ اس مٹی سے بھی محبت کرنے لگا۔پھر ایک دن اسے دوبارہ پہلی زمین میں لا کر لگا دیا گیا، مگر اس کی کچھ جڑیں دوسری مٹی ہی میں رہ گئیں۔آہ، اے پردیس کے دنوں!تم نے ہمارے جسموں کو تو واپس ان کے وطن پہنچا دیا، مگر ہماری روحوں کو انہی گلیوں، انہی راستوں اور انہی فضاؤں میں بھٹکتا چھوڑ دیا جن سے ہم نے محبت کی تھی۔
اسی کیفیت میں مجھے عبدالرحمن الداخل یاد آ گئے۔
وہی عبدالرحمن الداخل، جنہوں نے اندلس میں الرصافہ کے مقام پر کھجور کا ایک تنہا درخت دیکھا تو اس میں اپنی جلاوطنی اور ہجرت زدہ زندگی کا عکس محسوس کیا۔
اس درخت کی اجنبیت نے ان کے دل میں اپنے بچھڑے ہوئے وطن کی یاد تازہ کر دی اور انہوں نے اس سے مخاطب ہو کر ایسے اشعار کہے جن کا مفہوم کچھ یوں ہے:
اے کھجور کے درخت! تو بھی میری طرح اس مغربی سرزمین میں اجنبی ہے۔ تو بھی اپنے اصل وطن سے دور ہے۔ ہم دونوں ہی پردیسی ہیں۔ اگر تو بول سکتا تو اپنی جدائی کا دکھ بیان کرتا، اور اگر تیرے پاس آنسو ہوتے تو تو بھی اپنے بچھڑے ہوئے وطن کو یاد کر کے روتا۔
صدیاں گزر گئیں، سلطنتیں مٹ گئیں، بادشاہوں کے محلات کھنڈر بن گئے، مگر ایک مسافر اور ایک کھجور کے درخت کی یہ مشترکہ تنہائی آج بھی انسانی دل کی ترجمانی کرتی ہے۔
اب مجھے احساس ہوا ہے کہ سعودی عرب روزگار کی تلاش میں جانا محض ایک معاشی سفر نہیں تھا۔ وہ دراصل ایک ایسی خاموش ہجرت تھی جس نے میری شخصیت، سوچ اور وابستگیوں کو ایک نئی صورت عطا کر دی۔انسان جب کسی اجنبی سرزمین پر قدم رکھتا ہے تو ابتدا میں ہر چیز اسے غیر مانوس دکھائی دیتی ہے۔ وہاں کی زبان، لوگ، راستے اور معمولات، سب نئے ہوتے ہیں۔ مگر وقت کے ساتھ وہی اجنبیت اپنائیت میں بدلنے لگتی ہے۔ نئی زمین اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے، اس کے اندر رچ بس جاتی ہے اور رفتہ رفتہ وہ اسے بھی اپنا گھر سمجھنے لگتا ہے۔اس کا ذہنی افق وسیع ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے پہلے وطن کو بھولتا تو نہیں، مگر اس کے دل میں ایک دوسرے وطن کی محبت بھی جگہ بنا لیتی ہے۔اور پھر جب سفر مکمل ہوتا ہے، ملازمت ختم ہوتی ہے اور واپسی کا وقت آتا ہے تو انسان پر ایک ایسی حقیقت منکشف ہوتی ہے جس کے لیے شاید وہ پہلے سے تیار نہیں ہوتا۔اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ زندگی میں دو مرتبہ بے وطن ہو چکا ہے!پہلی مرتبہ اس وقت، جب وہ اپنا اصل وطن چھوڑ کر پردیس گیا تھا۔
اور دوسری مرتبہ اس وقت، جب وہ اس پردیس کو چھوڑ کر واپس اپنے وطن آیا، جو رفتہ رفتہ اس کا دوسرا گھر بن چکا تھا۔یوں انسان دو شناختوں، دو محبتوں اور دو وابستگیوں کے درمیان معلق ہو جاتا ہے۔ اس کا جسم اپنے اہلِ خانہ کے درمیان موجود ہوتا ہے، مگر اس کی روح کسی اور سرزمین کی گلیوں میں بھٹک رہی ہوتی ہے۔آج میری کیفیت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔میں پاکستان واپس آ چکا ہوں۔ اپنے لوگوں کے درمیان ہوں، اپنے گھر میں ہوں، اپنی زبان بولتا ہوں، مانوس چہروں کو دیکھتا ہوں، لیکن میرے وجود کا ایک حصہ اب بھی مدینے کی ان راہداریوں میں ٹھہرا ہوا ہے جہاں سے لوٹنے کو دل آمادہ نہیں ہوتا۔
کبھی خیال آتا ہے کہ انسان آخر اپنا وطن کسے کہتا ہے؟اس زمین کو جہاں اس نے پہلی سانس لی، یا اس سرزمین کو جہاں اس کی روح کو سکون ملا؟شاید وطن صرف زمین کے کسی ٹکڑے کا نام نہیں۔ وطن ان یادوں، محبتوں، رشتوں اور احساسات کا نام بھی ہے جو انسان کے اندر ہمیشہ کے لیے گھر کر لیتے ہیں۔آج جب سعودی عرب کے حوالے سے تشویش ناک خبریں میری نگاہوں سے گزرتی ہیں تو دل کی گہرائیوں سے اس سرزمین کے امن و سلامتی کے لیے دعا نکلتی ہے۔ آخر اس مٹی سے میرا تعلق محض دو برس کی ملازمت کا نہیں، زندگی کے ان لمحوں کا ہے جنہوں نے مجھے اندر سے بدل دیا تھا۔
ہاں، میں وہی کھجور کا درخت ہوں جو اپنی پہلی مٹی میں لوٹ تو آیا ہے، مگر جس کی شاخوں پر آج بھی دوسری سرزمین کی ہواؤں کا لمس باقی ہے۔ اس کی جڑیں یہاں ہیں، مگر اس کے وجود کا ایک حصہ وہاں رہ گیا ہے۔اور شاید پردیس سے واپس آنے والے انسان کا سب سے بڑا المیہ بھی یہی ہے کہ وہ گھر تو لوٹ آتا ہے، مگر پورا واپس نہیں آ پاتا!کچھ یادیں سامان کے ساتھ باندھی نہیں جا سکتیں، کچھ محبتیں سرحدوں کی پابند نہیں ہوتیں اور کچھ سرزمینیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں انسان چھوڑ تو دیتا ہے، مگر اپنے اندر سے کبھی نکال نہیں پاتا۔
اللہ تعالیٰ اس سرزمین کو، جہاں حرمین شریفین کی مقدس فضائیں آباد ہیں، ہمیشہ امن و سلامتی کا گہوارہ بنائے۔آمین۔
