حکمرانی ایک مشکل ترین کام ہے،جوایک مسلمان کے لیے ”آگ کا دریا ہے اورڈوب کے جانا ہے“ والامعاملہ ہے،لیکن آج کے بے خوف دورمیں جہاں عام انسان بھی خوفِ خداسے عاری ہوچکا ہے، اوراسے اس بات کا ڈرنہیں کہ اس کے اعمال قابلِ گرفت ہوسکتے ہیں،لہذاہرکوئی کلمہ پڑھ کرمسلمان کہلارہا ہے، حالانکہ علامہ اقبال نے کہا تھا،”چوں می گوئم مسلمانم بلرزم،کہ دانم مشکلاتِ”لاالہ“ را“۔ کہتے ہیں کہ حضرتِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب خلیفہ تھے توایک رات کسی گھرکے پاس سے گزرے تووہاں بچوں کے رونے کی آوازسنی،آواز دے کر پوچھا بچے کیوں رورہے ہیں،گھروالی نے کہا بچے بھوک کی وجہ سے رو رہے ہیں تو آپ نے فرمایا انہیں کھانادونا تو مائی نے کہا میں ایک بیوہ عورت ہوں میرے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہنڈیا کو چولہے پرچڑہایا ہوا ہے اورا س میں کنکر ڈالے ہوے ہیں،بچوں کو دلاسہ دے رہی ہوں کہ جب یہ پک جائیں گے تو تمہیں کھانادے دوں گی کہ شاید اس طرح بچے سوجائیں،تو آپ واپس گھرمیں آئے بیت المال سے آٹا اورہنڈیا کا سامان اٹھایا،اور اس گھر میں گئے،خود چولہے پر بیٹھ کر پکایا اور بچوں کو کھلایا،وہ عورت سکون میں آئی تو دعا دی اللہ آپ کو عمر کی جگہ مسلمانوں کا خلیفہ بنادے،تو آپ نے کہا مائی عمر کو کیا پتا کہ آپ مدینے سے اتنے باہرمجبوروپریشان ہیں تو اس مائی نے کہا اگر پتا نہیں رکھ سکتا تو خلیفہ کیوں بنا تھا، تو آپ نے اس مائی کی منت وسماجت کرکے کہا کہ آپ میری وجہ سے عمر کو معاف کردیں تو اس مائی نے کہا چلو تم کہتے ہوتو میں اسے معاف کردیتی ہوں تو آپ نے اس مائی سے لکھوایا کہ آپ اب عمر پرراضی ہیں،توپھربتایا کہ میں ہی عمر ہوں، یہی وجہ تھی کہ حضرت عمر اپنے دورِ خلافت میں شدید غم میں رہتے تھے،ایک بار آپ نے فرمایا دریائے فرات کے کنارے اگر کوئی کتا بھی بھوکا مرگیا تو عمراس کا جواب دہ ہوگا۔اورحضرت عمربن عبدالعزیزجب خلیفہ بنے تورات کورورہے تھے آپ کی بیوی نے آپ سے رونے کی وجہ پوچھی توآپ نے فرمایااے فاطمہ مجھے امتِ محمدیہ ﷺکاامیربنادیا گیا ہے،جب میں اکیلا بیٹھاتومیں نے امت کے بھوکے فقیروں،لاچاربیماروں،لباس سے محروم مسافروں،مظلوموں،قیدیوں بوڑھوں اورعیال داروں کے بارے میں سوچاجودنیا کے کونے کونے میں پھیلے ہوے ہیں تومجھے یقین ہوگیا کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ان سب کے بارے میں مجھ سے پوچھے گااوررسول اللہ ﷺبھی ان کے بارے میں میری بازپرس فرمائیں گے تومجھے ڈرلگا کہ میں کوئی عذرپیش نہ کرسکوں گا بس اس ڈر سے میری یہ حالت ہوگئی اورمیں روپڑا۔آج کے حکمران سوچیں کہ اگر ایسی پاکیزہ ہستیاں امارت کے بوجھ سے اس قدر لرزاں تھے،تو آج کے مسلمانوں کواس بات کا ڈر کیوں نہیں کہ انہیں بھی پوچھا جائے گا،جو حکمرانی کے سنگھاسن پربیٹھتا ہے،وہ اللہ اوررسول ﷺ کے قوانین وطریقوں اور خلفائے راشدین کی پیروی کے بجائے،غیراسلامی دنیا کی پیروی اورتجربے پر ملک وقوم کو چلاناچاہتا ہے،اسلام عوام کے حقوق کو ترجیح دیتا ہے،اورعوام میں مساوات کو قائم کرنے کا حکم دیتا ہے،مساوات یہ نہیں ہوتی کہ سب کوووٹ کا حق دیا جائے، بلکہ مساوات یہ ہوتی ہے،کہ ملکی وسائل اور خزانے کوقوم کے فائدے کے لیے برابر لوگوں پر خرچ کیا جائے،یہ نہیں کہ ایک طرف شہری آبادیوں کے لیے ذرائع آمدورفت ضر وریات زندگی بجلی وپانی،رہائش اورکاروبارکوچلانے کے لیے بے دریغ خزانہ خرچ کیا جائے،اورملازمین سرکار کو تنخواہ و مراعات کے علاوہ پینشن کے ساتھ زمینیں اور پلاٹ الاٹ کیے جائیں،اوردوسری طرف غریب شہریوں کے باڑے ہوں،جن میں وہ جانوروں کی طرح زندگی گزارنے پرمجبور ہوں،جبکہ عالمی قرضے میں وہ بھی برابر کے مقروض ہوں،بلکہ وہ اس کے ادا کرنے کے لیے بھوک وننگ میں گزارنے پرمجبور ہوں۔حکمران صرف شوقِ حکمرانی میں الیکشن جیت کروزیر اعظم وزیرِ اعلیٰ صدراورگورنر بن کر دستخطوں کے لیے ملازم بن جاتے ہیں اورخوش ہوتے ہیں کہ ان کے دستخطوں سے کام ہورہے ہیں، جبکہ کام سارے عالمی حکم سے کیے جاتے ہیں یا ملازموں کی مرضی ومنشاکے مطابق۔کسی بھی حکمران کو چاہے وہ جس طرح سے بھی حکمران بنا ہو،عوامی مسائل اورضروریات کا علم نہیں ہوتا،کہ جمہوری بھی جاگیر دار،صنعت کار، سرمایہ داریاداد گیر ہی ہوتا ہے،اسی طرح مارشل لاوالے بھی ہیں،کہ ان سب کی تعلیم وتربیت توعالمی سامراجی طرز پر ہوئی ہوتی ہے،کہ ان تمام لوگوں کے لیے عالمی تعلیمی وتربیتی نظام اس ملک میں اعلیٰ تعلیم وتربیت کے لیے اربوں روپے کا بزنس کررہا ہے،اوربغیر ان کی تعلیم وتربیت کے کسی فرد کو اس ملک پر حکومت تو درکناراچھی ملازمت کا ملنا بھی دشوار ہے۔لہذادرندوں کے سائے میں پلنے والی بھیڑیں بھی خونخوارہی ہوجاتی ہیں،کوئی بھی صاحبِ شعورپاکستان کی اٹھہتر سالوں کی تاریخ نکال کر دیکھ لے،آپ کو کہیں بھی عوامی شعور والا کوئی حکمران نظرنہیں آئے گا۔جبکہ اسلامی ریاست میں ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ خلفاء جب اقتدار میں آئے توانہوں نے اپنی تنخواہ مزدور کے برابررکھی،قوم پر اگر مشکلات آئیں تواپنے مال وزر کو عوام پر خرچ کیا،آج ہم ملک کی خوبصورتی کے لیے غریبوں کے گھر اکھاڑرہے ہیں،ان کے کاروبار تلپٹ کررہے ہیں،اشیائے خوردونوش اورضروریاتِ زندگی کومہنگائی کے اس مقام تک لے گئے ہیں جہاں سے غریب انہیں دیکھنے کے لیے بھی اپنی پگڑی وٹوپی کوسر سے گرا دیتا ہے،کیوں؟اس لیے کہ ہمیں عالمی دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو کیا عالمی دنیا میں غریب عوام کے لیے مفت رہائش وخوراک کا نظام نہیں،انگلینڈ اور امریکہ جن کے ہم پروردہ ہیں،کیا وہاں تجاوزات کے نام پرغریبوں کے کاروبارختم کیے جاتے ہیں؟وہاں سرکاری مقبوضہ زمینوں پر بنے مکانات بغیر معاوضہ اورمتابدل جگہ دیئے اکھاڑ دیے جاتے ہیں،کیا وہاں آلودگی کے نام پر کاروبار ختم کیے جاتے ہیں؟بھٹے فیکٹریوں کی چمنیاں اوردھواں چھوڑتی گاڑیاں کیا ان ملکوں میں نہیں تھیں،اورجب تک انہوں نے عوام کومتبادل کاروباری ذرایع اورنئی سستی گاڑیاں نہیں دے دیں توکیا انہوں نے صرف عالمی آلودگی کے ڈر سے اپنے عوام کوبے روزگار کر دیا تھا؟لہذاجس طرح ایک غریب فرد کواپنے اہل وعیال کے لیے اپنی حیثیت میں رہ کر خرچ کرنے کا اسلامی مشورہ عوام کو دیا جاتا ہے اسی طرح ایک غریب ملک کوبھی اپنی عوام کے لیے ملکی حیثیت کے مطابق ہی وسائل خرچ کرنا بھی اسلامی مشورہ ہے، جس ملک کے مزدور دن بھرمشقت کرکے اپنے خاندان کو ایک وقت کی روٹی بھی نہ دے سکیں وہاں کے حکمران اپنے ملازموں کو لاکھوں روپے ایک دن کی تنخواہ دیں،کیوں؟اورپھر بے دریغ قرضے لے کر غریبوں کے بچوں کے منہ سے نوالہ چھیننے والے اگر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ملک کے لیے کررہے ہیں تو یہ جان لیں ملک صرف چندلوگوں کا نام نہیں اورناہی کسی جنگل کے قانون کوملک میں نافذ کیا جاسکتا ہے کہ جوطاقت ور ہو باقی جانوراس کی غذاکاذ ریعہ بنیں،لہذاکسی بھی حکمران اور صاحبِ اختیار کویہ علم ہونا چاہیے کہ پاکستان اسلام کے لیے بنا تھا اوراس میں اسلامی قانون ہی چلے گا،اسلامی قانون یہ ہے کہ ساغر صدیقی نے کہا تھا،”صدائے بوذروسلمان یہی تھی دنیا میں،مسرتوں کو غریبوں کے نام کرنا ہے“۔وماعلی الا البلاغ۔
مسرتوں کو غریبوں کے نام کرنا ہے
