عنوان؛ کمال کا انتظامی یونٹ شہرِ قائد کے نام

تحریر؛ نعمان احمد دہلوی،
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر، معاشی انجن اور کثیر الثقافتی مرکز ہے۔ لیکن آج یہ شہر اپنے ہی وزن تلے دبا جا رہا ہے۔ تین کروڑ سے زائد آبادی، ٹوٹی پھوٹی سہولیات، بکھری ہوئی انتظامیہ اور مسلسل احساس محرومی نے اس سوال کو ناگزیر بنا دیا ہے کہ کراچی کے لیے الگ انتظامی یونٹ کیوں ضروری ہے۔ یہ مطالبہ جذباتی نہیں بلکہ انتظامی، معاشی اور سماجی حقیقت پر مبنی ہے۔سب سے بنیادی مسئلہ آبادی کا ہے۔ کراچی کی آبادی بلوچستان کے پورے صوبے اور کئی چھوٹے ممالک سے بھی زیادہ ہے۔ دنیا میں کہیں بھی اتنی بڑی آبادی کو ایک ڈپٹی کمشنر اور محدود اختیارات والے میئر کے ذریعے نہیں چلایا جاتا۔ ایک ضلع کے طور پر اسے سنبھالنا ناممکن ہو چکا ہے۔ الگ انتظامی یونٹ ہی اس دباؤ کو برداشت کر سکتا ہے۔معاشی طور پر کراچی پاکستان کا سب سے بڑا کنٹری بیوٹر ہے۔ ملک کا تقریباً 65 فیصد ریونیو، 25 فیصد جی ڈی پی اور 95 فیصد بیرونی تجارت اسی شہر سے آتی ہے۔ مگر بدلے میں اسے اپنے ٹیکس کا معمولی حصہ بھی واپس نہیں ملتا۔ فیصلے دور دراز سیکرٹریٹوں میں ہوتے ہیں جہاں کراچی کی ترجیحات ثانوی ہوتی ہیں۔ الگ یونٹ بننے سے کراچی کا پیسہ کراچی پر ہی خرچ ہوگا اور ترقی کے فیصلے مقامی سطح پر ہوں گے۔آج کراچی میں 19 سے زائد ادارے کام کر رہے ہیں—KMC، مختلف DMCs، KDA، MDA، کنٹونمنٹ بورڈز اور صوبائی محکمے۔ کوئی سڑک ایک ادارے کی ہے، کوئی دوسرے کی۔ نتیجہ یہ ہے کہ ذمہ داری کسی کی نہیں۔ “ون سٹی، ون اتھارٹی” کا اصول ہی اس انتشار کو ختم کر سکتا ہے۔ ایک مضبوط انتظامی یونٹ تمام اداروں کو ایک چھت تلے لا کر فیصلہ سازی کو تیز اور شفاف بنائے گا۔پانی، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے بحران 40 سال سے حل نہیں ہو رہے کیونکہ فیصلے حیدرآباد یا لاڑکانہ میں بیٹھے افسران کرتے ہیں۔ مقامی انتظامی یونٹ میں واٹر بورڈ، ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور بلڈنگ کنٹرول براہ راست کراچی کے عوام کو جوابدہ ہوں گے۔ تب ہی پائیدار حل ممکن ہوں گے۔کراچی میں دس ہزار سے زائد مساجد اور مدارس ہیں۔ ان کی رجسٹریشن، اوقاف کے معاملات، اماموں کی تنخواہیں اور بجلی کے بل صوبائی محکمہ اوقاف میں پھنسے رہتے ہیں۔ مقامی یونٹ میں یہ تمام کام ایک جگہ پر ہوں گے اور علماء کرام کو سرکاری دفاتر کے چکر نہیں کاٹنے پڑیں گے۔امن و امان بھی اسی بکھراؤ کا شکار ہے۔ آئی جی سندھ کا دفتر کراچی میں ہے مگر ان کی توجہ پورے صوبے پر ہے۔ الگ یونٹ میں کراچی کا اپنا پولیس چیف اور انتظامی سربراہ ہوگا جو صرف اس شہر کی ذمہ داری اٹھائے گا۔ مقامی پولیس مقامی حالات کو بہتر سمجھے گی اور جرائم پر کنٹرول مضبوط ہوگا۔روزگار اور تعلیمی مواقع میں بھی ناانصافی موجود ہے۔ سندھ کی سرکاری نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں کراچی کے ڈومیسائل والوں کو ان کا حق نہیں ملتا۔ الگ یونٹ بننے سے یہاں کی نوکریاں اور داخلے مقامی نوجوانوں کے لیے محفوظ ہوں گے اور کوٹہ سسٹم میں انصاف قائم ہوگا۔دنیا کے بڑے شہروں—لندن، استنبول، دبئی—میں میئر بااختیار ہوتا ہے۔ کراچی میں میئر کے پاس حقیقی اختیار نہیں۔ انتظامی یونٹ بننے سے میئر کے پاس اپنا بجٹ، اپنی پولیس اور اپنے ادارے ہوں گے اور وہ کسی وزیر اعلیٰ کا محتاج نہیں رہے گا۔ بلدیاتی نظام اصل معنوں میں بااختیار ہوگا۔سب سے اہم بات احساس محرومی ہے۔ کراچی کے لوگ 75 سال سے یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ہوتا ہے۔ وہ پاکستان بناتے ہیں مگر پاکستان انہیں اپناتا نہیں۔ الگ انتظامی یونٹ اس احساس کو ختم کرے گا اور وفاق کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کرے گا۔ جب ہر خطے کو اپنا حق ملے گا تو قومی یکجہتی بڑھے گی۔آئینی اور انتظامی نظیر بھی موجود ہے۔ اسلام آباد الگ یونٹ بنا، گلگت بلتستان کو الگ حیثیت دی گئی، FATA کا انضمام ہوا۔ بھارت میں نئے صوبے بنے، ترکی میں استنبول کو خاص انتظامی حیثیت ملی۔ جب دنیا میں آبادی بڑھنے پر نئے یونٹ بنائے جا سکتے ہیں تو کراچی کے لیے یہ حق کیوں ناقابل قبول ہے؟کراچی کا الگ انتظامی یونٹ کوئی علیحدگی کا مطالبہ نہیں بلکہ بہتر انتظام، انصاف اور ترقی کا تقاضا ہے۔ یہ شہر پاکستان کا دل ہے۔ اگر دل بیمار ہو تو پورا جسم متاثر ہوتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ کراچی کو وہ انتظامی ڈھانچہ دیا جائے جو اس کی آبادی، معیشت اور مسائل کے مطابق ہو۔ یہ نہ صرف کراچی والوں کا حق ہے بلکہ پورے پاکستان کی ضرورت بھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *