زردارتوقع رکھتا ہے نادارکی گاڑھی محنت پر

آج پوری دنیا میں انسانیت کوسرمایہ داری نظام نے کچل رکھاہے،بالخصوص پاکستان میں جہاں پاکستان کے نودولتیے سرمایہ دار جن کاتکیہ عالمی سرمایہ داروں کی کاسہ لیسی پرہے،اوروہ ان کے کاروبار کے شراکت داربنتے ہیں،بنابریں وہ قوم وملک کے کاروبارکوعالمی سرمای داروں کے لیے ایک کھلی چراگاہ بنائے ہوئے ہیں،بھلاہواس جمہوریت کا کہ اس نے اس قوم کے ہرسرمایہ داراورجاگیردار کوحکومت پربراجمان ہونے کے لیے آسانیاں مہیاکیں ہیں،اب ملک میں حکمران،پالیسی ساز،اورقوم کی قسمت کے مالک وہ لوگ بن رہے ہیں جوخودکاروباری یاصنعتی،یاجاگیرداری نظام کے ہوتے ہیں توپھر وہ لوگ مزدور، کاشت کار اورعام شہری کے بارے میں کیا جانیں،کہتے ہیں کسی سرمایہ دارکی موت کاوقت آگیا توبقول روایاتِ اسلامی اس کے پاس ملک الموت کے ساتھ جنت اورجہنم دونوں کے فرشتے بھی آگئے،اور وہ اس سرمایہ دارکی روح پرجھگڑنے لگے،جنت والے کہتے ہم اسے جنت میں لے کرجائیں گے،اورجہنم والے کہتے کہ نہیں اسے جہنم میں لے کرجائیں گے،سرمایہ دارنے تھوڑی دیردیکھااوربولالڑتے کس لیے ہو جدھردو پیسے زیادہ ملیں ادھرلے چلو،یعنی سرمایہ دارخوداپنی جان بھی دوپیسے زیادہ کی لالچ میں جہنم میں جھونکنے سے نہیں چوکتا،توقوم کی کیا حیثیت ہے کہ وہ اسے جیتے جی جہنم میں نہ جھونکیں؟ہمارے ملک کا تو چلن ہی نرالاہے،کہ یہاں سرمایہ دار جاگیرداراورکاروباری کے علاوہ ایک بڑاطبقہ ملازموں کاہے،جوخودکاتوحق سمجھتے ہیں کہ وہ اس ملک کے باشندے ہیں اوران کی ضروریاتِ زندگی اس ملک پرپورا کرنافرض ہے،کیونکہ وہ سرکاری مشینری کے کل پرزے ہیں،ان کی وجہ سے نظام کی مشینری چل رہی ہے،لیکن ان کی نظرمیں بھی اس ملک کے وہ لوگ جودن رات محنت مزدوری،کھیتی باڑی،اوربیرونِ ملک سے زرِ مبادلہ لارہے ہیں نہیں آتے کہ ان کے حقوق اور ضروریاتِ زندگی،کے لیے کوئی سرمایہ دار،کاروباری یاملازم نہیں سوچتاکہ وہ لوگ جوکٹھن حالات میں اس ملک وقوم کواپنے خون پسینے کی کمائی سے چلارہے ہیں کیاان کو آسائش وآرام کا کوئی حق نہیں،سرمایہ دارہرعالمی مہنگائی کے ساتھ اپنی چیزیں مہنگی کردیتا ہے،ملازم ہرمہنگائی کے خلاف احتجاج کرتا ہے کہ اس کی تنخواہ میں اضافہ کیا جائے،کہ اس مہنگائی میں اس کی گزربسرمشکل ہے، جبکہ دنیا کایہ واحد ملک ہے،جس میں ملازمین سرکارکے تنخواہ اورالانسز کے علاوہ بجلی اورگیس اورفون وغیرہ کے بل بھی اس قوم ِ لاوارث کے خون پسینے سے اداکیے جاتے ہیں،کیا یہ تمام لوگ اسلام کے توقانون پرعمل نہیں کرسکتے کہ انہوں نے کلمہ پڑھ کراسلام پراحسان کردیا ہواہے یہی کافی ہے،لیکن انسانیت انسانیت کرنے والے وہ لوگ جواسلام اورانسانیت کوعلیحدہ سمجھتے ہیں،وہ انسانیت پرہی عمل کرکے انسانی مساوات کے تحت انسانوں کے ضروریات زندگی توسب کے لیے برابرتسلیم کریں نا۔لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اس ملک میں بسنے والے چاہے وہ بااختیار ہیں یا بے اختیاران کے پاس اپنی جنم بھومی میں اپنی شناخت نہیں ہے،ان کے پاس اپنے اباواجداد کا علم ان کی ثقافت،ان کے اطوار کا کوئی ورثہ نہیں،ان کے پاس مذہب ہے لیکن اس کی تعلیمات،اس کی تربیت،اس کی تاریخ سے آگاہی نہیں ہے۔ان کے پاس جدید تعلیم کے نام پر انگلش سیکھنا،انگلش کے افسانے،اورانگریزوں کی طبقاتی تعلیم جوانسانوں کو دولت کے پلڑے میں تولتی ہے،اورپھردولت کمانے کے آسان ذرائع،جیسے جوا،فراڈچوری ڈکیتی،طاقت کے ذریعے دولت کا حصول اورپھر آخر میں تعلیم کے ذریعے لوگوں کولوٹنا،تعلیم کو اس زبان میں دینا جس میں عوام کو سمجھ نہ آسکتی ہو،جیسے ہمارے یہاں انگلش تعلیم جس کی وجہ سے عوام عام امور کے لیے انگلش والوں سے اجرت پراپنے معاملات کراتے ہیں،ایک لطیفہ ہوا ہمارے کسی ڈی سی صاحب کے پاس جنوبی پنجاب کی ایک مائی جوپڑھی لکھی نہ تھی وہ کسی فریاد کو لے کرگئی اپنی زبان میں اپنامدعا بیان کیا لیکن صاحب جو انگلش کے پالے تھے، بولے مائی آپ کوئی وکیل کرکے آئیں مجھے آپ کی بات سمجھ نہیں آرہی،تو مائی نے کہا، ہائے بات آپ کو سمجھ نہیں آتی تووکیل میں کروں۔اس طرح سے اس قوم کوہر معاملے میں لوٹا جا رہا ہے،اوریہ ہمارے سرمایہ دار جو وکیل کرکے عالمی سرمایہ داروں تک اپنا مدعا پہنچاتے ہیں تووہ ان کوقوم کو لوٹنے کے طریقے بتاتے ہیں،کہ اس طرح تمہیں دوپیسے زیادہ ملیں گے،علامہ اقبال نے توفرمایا تھا ”دین ہاتھ سے دے کراگرآزادہوملت،ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارہ“لیکن آج یہ نودولتیے اورنو سکھیے سرمایہ کارقوم اورملک کو بیچ کرسرمایہ داری نظام کو زندہ رکھنے کی کوشش میں خودبھی خسارے میں جارہے ہیں اورقوم وملک کو بھی خسارے میں ڈال رکھا ہے۔آج پاکستان میں مہنگائی کا یہ طوفان صرف اس لیے ہے کہ پاکستان کا سرمایہ دار اپنے منافع کے لیے نہیں بلکہ عالمی سرمایہ دار کے منافع کے لیے اس قوم کا خون چوس رہا ہے،جس طرح یہ سیل ٹیکس کا دھوکا دیا گیا ہے کہ یہ سرمایہ دار اپنی پراڈکٹ پرادا کرتا ہے، حالانکہ وہ ادا ایک غریب خریدار کررہا ہے،ایسے ہی ہمارا سرمایہ داریا ہمارے ملک کے حکمران جو عالمی مہنگائی کا رونا رورہے ہیں،یہ غریب کے سیل ٹیکس کی طرح عالمی سرمایہ کاروں، سود خوروں، بنیوں کے بینک بھررہے ہیں،صرف اپنے تھوڑے سے سودکے لیے،اسی لیے علامہ اقبال نے کہا تھا ”ظاہرمیں تجارت ہے حقیقت میں جواہے، سود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگ مفاجات“آج سرمایہ دار یا زردار مزدورکی محنت پرنظر رکھے ہوے ہے چاہے وہ پاکستان کا ہے یا دنیا کے کسی بھی ملک کا،ساغر صدیقی نے کہا تھا“زردار توقع رکھتا ہے نادار کی گاڑھی محنت پر، مزدوریہاں بھی دیوانے،ذیشان یہاں بھی اندھے ہیں“اللہ تعالیٰ پاکستانی قوم پررحم فرمائے اوریہاں اسلامی تعلیم وتربیت اورقومی اورمذہبی حمیت اہلِ اختیارواقتدار کو نصیب فرمائے آمین۔وما علی الاالبلاغ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *