دو ہفتوں سے ملک گیر جاری مظاہروں میں اب تک 10 ہزار 600 سے زائد افراد گرفتار کرلیے گئے؛ رپورٹ
تہران (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جنوری2026ء) انسانی حقوق تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں جاری پرتشدد مظاہروں میں اب تک 490 مظاہرین اور 48 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق ایران میں انسانی حقوق کی تنظیم ایچ آر اے این اے نے مظاہروں میں ہلاکتوں کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں، جس میں بتایا گیا ہے کہ دو ہفتوں سے ملک گیر جاری مظاہروں میں اب تک 10 ہزار 600 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے ہیں، اعداد و شمار کے اعتبار سے ایران میں اب تک 490 مظاہرین اور 48 اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں، تاہم مظاہروں میں ہلاکتوں کے سرکاری اعداد و شمار ابھی تک جاری نہیں کیے گئے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے حکومت مخالف مظاہروں پر اپنا پہلا باضابطہ ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فسادی عناصر کو ایرانی معاشرے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیئے، امریکہ اور اسرائیل دونوں ممالک ایران میں انتشار اور بدنظمی پیدا کرنے کے لیے فسادات کو ہوا دے رہے ہیں، عوام کو یقین رکھنا چاہیئے کہ ہم یعنی حکومت انصاف قائم کرنا چاہتے ہیں، ایرانی عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فسادیوں اور دہشت گردوں سے خود کو دور رکھیں اور ملکی استحکام کے حق میں کھڑے ہوں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’ایران آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے، امریکہ ایرانی مظاہرین کی مدد کے لیے تیار ہے، لوگوں کو قتل کیا گیا تو امریکہ مداخلت کرے گا، لگتا ہے ایران کے کچھ شہروں پر لوگ قابض ہیں‘، دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ’ایران میں فسادی ٹرمپ کو خوش کرنے میں لگے ہیں، احتجاج جائز ہے مگر احتجاج اور فساد میں فرق ہے، ایران تخریب کاروں سے نمٹنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا‘۔