ڈی ایس پی اصغرعلی شاہ کے مطابق اس واقعے میں 5 پولیس اہلکاراور8 شہری بھی زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے اور انہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ڈی سی پی کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ دھماکا سپر مارکیٹ کے گیٹ کے قریب نصب کیا گیا تھا، جس سے بازار میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور عوام کو مشتبہ اشیاء سے محتاط رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
واقعے کے بعد رستم بازار میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور متاثرہ علاقوں میں سرچ آپریشنز جاری ہیں تاکہ مزید کسی حادثے سے بچا جا سکے،حکام نے عوام سے گزارش کی ہے کہ وہ افواہوں پر بھروسہ نہ کریں اور سیکیورٹی اداروں کے تعاون کو یقینی بنائیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جنوبی وزیرستان کے وانا بازار میں پولیس پٹرولنگ گاڑی کے قریب دھماکے کی شدید مذمت کی ہے، جس میں 2 پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد شہید ہوئے۔
محسن نقوی نے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی، خیبرپختونخوا پولیس دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن پر ہے اور کے پی کے پولیس نے اس جنگ میں لازوال قربانیاں دی ہیں۔