تحریر: نعمان احمد دہلوی
پاکستان کے صوبہ سندھ میں امن و امان کی صورتحال ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہی ہے۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں اسٹریٹ کرائم، کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کی سرگرمیاں، منشیات کی سمگلنگ اور دیگر جرائم عوام کی زندگی کو متاثر کرتے رہے ہیں۔ تاہم، جنوری 2026 میں جب جاوید عالم اوڈھو صاحب نے سندھ پولیس کے انسپکٹر جنرل (IG) کا چارج سنبھالا تو صوبے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ایک نئی امید جاگی۔ انہیں ایک تجربہ کار، ایماندار اور سخت گیر افسر کے طور پر جانا جاتا ہے جو پولیس سروس آف پاکستان کے گریڈ 21 کے افسر ہیں اور کراچی رینج کے ایڈیشنل آئی جی کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
جاوید عالم اوڈھو صاحب نے چارج سنبھالتے ہی واضح پیغام دیا کہ سندھ پولیس کو عوام دوست، شفاف اور موثر بنانا ہے۔ انہوں نے شہداء پولیس کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ جرائم کے خلاف کارروائی قانون کے مطابق جاری رہے گی۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے بھی انہیں ہدایات دیں کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم ختم کرنے، کچے علاقوں میں آپریشن جاری رکھنے اور پولیس کا عوامی امیج بہتر کرنے پر توجہ دی جائے۔
ان کے عہدے سنبھالنے کے بعد سندھ پولیس میں کئی مثبت تبدیلیاں نظر آئی ہیں۔ کراچی اور کچے علاقوں میں جرائم میں نمایاں کمی آئی ہے۔ منشیات کے مافیا کے خلاف سخت کارروائیاں کی گئیں، جن کے نتیجے میں متعدد بڑے ڈیلرز گرفتار ہوئے۔ فروری 2026 میں کچے علاقوں میں آپریشن کے دوران 27 ڈاکو مارے گئے جبکہ 77 کو گرفتار کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پولیس اب زیادہ فعال اور موثر ہو رہی ہے۔
جاوید عالم اوڈھو صاحب کی قیادت میں کمیونٹی پولیسنگ پر خاص زور دیا جا رہا ہے۔ اپریل 2026 میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جرائم کا خاتمہ صرف پولیس کے ذریعے ممکن نہیں، عوام کی فعال شرکت ضروری ہے۔ عام شہریوں کو پولیس کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے تاکہ محلے کی سطح پر جرائم کی روک تھام ہو سکے۔ اس کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی بڑھایا جا رہا ہے۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی ریڈ بک کو AI کی مدد سے ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ مزید مؤثر ہو۔
ٹریفک پولیس میں بھی بہتری آئی ہے۔ TRACS سسٹم کے نفاذ سے ٹریفک کے مسائل میں کمی آئی ہے اور آئی جی صاحب نے ڈی آئی جی ٹریفک کو اس پر سراہا۔ منشیات کے خلاف خصوصی مہم چلائی جا رہی ہے، خاص طور پر میرپور خاص اور دیگر علاقوں میں گٹکا اور ماوا جیسے نقصان دہ مواد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔ آئی جی صاحب نے ہدایات دی ہیں کہ منشیات کے کیسز کو غیر ضمانتی بنایا جائے اور ٹھوس ثبوت کے ساتھ کارروائی کی جائے۔
پولیس اصلاحات کے میدان میں بھی پیش رفت ہو رہی ہے۔ پولیس اہلکاروں کی تربیت، سہولیات اور ویلفیئر پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ پولیس سٹیشنوں میں ریکارڈ کیپنگ، شکایات کا ازالہ اور تفتیش کے عمل کو جدید بنایا جا سکے۔ خواتین، بچوں، اقلیتوں اور ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق کی حفاظت کے لیے شکایات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں خیرپور اور سانگھڑ جیسے علاقوں میں بچیوں پر تشدد اور زیادتی کے واقعات میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا گیا، جو پولیس کی تیز کارروائی کی مثال ہے۔
جاوید عالم اوڈھو صاحب کی ایمانداری اور پیشہ ورانہ رویہ ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ پولیس میں اندرونی ڈسپلن قائم کرنے کے لیے انہوں نے انعام اور سزا کی پالیسی پر زور دیا۔ ان کے مطابق ڈسپلن صرف سزا سے نہیں بلکہ کارکردگی پر انعام سے بھی قائم ہوتا ہے۔ کراچی میں ڈکیتی کی وارداتوں پر سخت نوٹس لیتے ہوئے انہوں نے متعلقہ افسران سے رپورٹس طلب کیں اور ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دیں۔
سندھ پولیس کی تقریباً 85 فیصد نفری اب بھی کم پڑھی لکھی اور تربیت یافتہ ہے، جسے آئی جی صاحب نے خود تسلیم کیا ہے۔ اس خامی کو دور کرنے کے لیے تربیتی پروگراموں کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ Safe City پروجیکٹ کو جدید نگرانی اور ٹیکنالوجی سے مزید بہتر کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں تاکہ شہری علاقوں میں جرائم کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
جاوید عالم اوڈھو صاحب کی قیادت میں سندھ پولیس نہ صرف جرائم سے نمٹ رہی ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔ ان کے ویژن میں پولیس ایک سروس ڈلیوری ادارہ ہے جو شہریوں کی حفاظت، انصاف اور امن کو یقینی بنائے۔ اگر یہ رفتار برقرار رہی تو سندھ میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر ہو سکتی ہے۔
تاہم، چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ بڑے شہروں میں آبادی کا دباؤ، وسائل کی کمی اور بعض اوقات سیاسی مداخلت پولیس کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ آئی جی صاحب کو ان مسائل کا سامنا کرتے ہوئے حکومت سے مکمل تعاون حاصل کرنا ہو گا۔ پولیس اصلاحات کو صرف کاغذوں تک محدود نہیں رکھنا بلکہ زمینی سطح پر نافذ کرنا ضروری ہے۔
آخر میں، جاوید عالم اوڈھو صاحب جیسے ایماندار افسران کی قیادت سندھ پولیس کے لیے ایک بڑی خوش قسمتی ہے۔ اگر عوام، حکومت اور پولیس مل کر کام کریں تو سندھ کو ایک پرامن اور محفوظ صوبہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کی کوششیں نہ صرف جرائم میں کمی لا رہی ہیں بلکہ پولیس کے ادارے کو مضبوط اور عوام کے قریب بھی بنا رہی ہیں۔ امید ہے کہ آنے والے دنوں میں سندھ پولیس مزید کامیابیاں حاصل کرے گی اور صوبے کے عوام کو محفوظ ماحول میسر آئے گا۔
آئی جی سندھ کی قیادت میں امن کی نئی امید