اہم شخصیت کاانتقال

بانا گورا(Bana Gora) ایک بااثر، نڈر اور سماجی خدمت کے جذبے سے سرشار شخصیت کے طور پر جانی جاتی تھیں، جنہوں نے اپنی زندگی فلاحی کاموں اور خواتین کے حقوق کے لیے وقف کر رکھی تھی۔

تفصیلات کے مطابق انہوں نے 2009 میں مسلم ویمنز کونسل کی شریک بانی کے طور پر اہم کردار ادا کیا اور بعد ازاں اسی ادارے کی چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر خدمات انجام دیتی رہیں۔ اپنے تین دہائیوں پر محیط کیریئر میں وہ فلاحی اور غیر منافع بخش شعبے سے وابستہ رہیں، جہاں انہوں نے گھریلو تشدد کے متاثرین اور کمزور طبقات کی مدد کے لیے متعدد منصوبوں میں حصہ لیا۔

بانا گورا نے برطانیہ میں خواتین کے لیے پہلی مسجد کے قیام کی کوششوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا، جو ایک انقلابی اقدام سمجھا جاتا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد خواتین کو عبادت اور رہنمائی کے لیے ایک محفوظ اور بااختیار ماحول فراہم کرنا تھا۔ اگرچہ اس اقدام کو بعض حلقوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم وہ اپنے مؤقف پر ڈٹی رہیں اور مذہبی اداروں میں خواتین کے کردار پر ایک نئی بحث کو جنم دیا۔

انہوں نے کری سرکل کے نام سے ایک فلاحی منصوبہ بھی شروع کیا، جس کے ذریعے بے گھر اور ضرورت مند افراد کو کھانا اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتی تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مشکل حالات کا سامنا کرنے والی خواتین کی رہنمائی اور معاونت میں بھی سرگرم رہیں۔

ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2025 کے “انسپائرنگ ویمن ایوارڈز” کے لیے نامزد بھی کیا گیا تھا، اور وہ کمیونٹی میں ایک بااثر اور مثبت آواز کے طور پر پہچانی جاتی تھیں۔

علاقائی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ بانا گورا کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے سرکاری یا کمیونٹی سطح پر کوئی باضابطہ اقدام کیا جائے تاکہ ان کی سماجی خدمات کو یادگار بنایا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *