کراچی کے واٹر انفراسٹرکچر کی بہتری کی جانب اہم پیش رفت

دھابیجی سے کراچی تک پانی فراہم کرنے والی 60 سال پرانی لائن نمبر 5 کی تبدیلی مکمل

کراچی(نمائندہ خصوصی شمس تبریزی)
کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے شہر کو پانی فراہم کرنے والے بنیادی نظام میں ایک اہم اور تاریخی پیش رفت کرتے ہوئے دھابیجی سے کراچی تک پانی کی ترسیل کیلئے استعمال ہونے والی 60 سال پرانی رائزنگ مین لائن نمبر 5 کی تبدیلی کا کام کامیابی سے مکمل کر لیا ۔میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے اس منصوبے کو کراچی کے واٹر انفراسٹرکچر کی بحالی کی سمت ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہائیوں پرانے آبی نظام کی اپ گریڈیشن شہر کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے مطابق کی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن مرحلہ وار بنیادوں پر پرانے آبی ڈھانچے کی بحالی اور جدید خطوط پر اپ گریڈیشن کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے تاکہ شہریوں کو بہتر، مؤثر اور بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق یہ لائن 1966 میں بچھائی گئی تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ شدید خستہ حالی، متعدد لیکیجز اور تکنیکی خرابیوں کا شکار ہو چکی تھی۔ بجلی کی فراہمی میں بار بار تعطل اور بریک ڈاؤن کے نتیجے میں پیدا ہونے والے پریشر سرجز اس لائن کو بارہا نقصان پہنچاتے رہے، جس کے باعث شہر کے واٹر سپلائی نظام کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ترجمان کے مطابق پرانی اور فرسودہ لائن کی بار بار خرابیوں کے باعث پانی کی ترسیل متاثر ہو رہی تھی، تاہم اب اس کی مکمل تبدیلی کے بعد نظام کو مزید مستحکم، مؤثر اور قابلِ اعتماد بنا دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف پانی کے ضیاع اور تکنیکی خرابیوں میں واضح کمی آئے گی بلکہ شہر کے مجموعی فراہمی آب کے نظام کی کارکردگی بھی نمایاں طور پر بہتر ہوگی۔ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق یہ منصوبہ ورلڈ بینک اور دیگر ترقیاتی شراکت دار اداروں کے تعاون سے جاری واٹر اینڈ سیوریج امپروومنٹ پروگرام کے تحت اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جس کا مقصد کراچی کے واٹر انفراسٹرکچر کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ شہر کے پرانے واٹر انفراسٹرکچر کی مکمل بحالی اور جدید کاری کے ذریعے مستقبل میں پانی کی فراہمی کے نظام کو مزید مضبوط، پائیدار اور مؤثر بنایا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *