موجودہ حکومت کے دور میں زرعی شعبہ کی بھی بدترین تنزلی

اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق زرعی شعبے کی کارکردگی توقعات سے کم رہی۔ بڑی فصلوں (گندم، کپاس، مکئی، چاول اور گنا) کی مجموعی شرح نمو تقریباً 0.6 سے 0.7 فیصد رہی، جبکہ کپاس اور مکئی کی پیداوار میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2026ء) موجودہ حکومت کے دور میں زرعی شعبہ کی بھی بدترین تنزلی، بڑی فصلوں، گندم، کپاس،مکئی اور چاول کی پیداوار میں کمی، زرعی شعبے کی ترقی 9 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ تفصیلات کے مطابق قومی اقتصادی سروے ،ملک کی بڑی فصلوں ،گندم ،کپاس،مکئی اور چاول کی پیداوار میں کمی جبکہ چھوٹی فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے ۔ پاکستان کے معاشی سروے کے مطابق زرعی شعبے کی ترقی کی شرح 0.56 فیصد رہی جبکہ مالی سال 2024میں 6.25 فیصدتھی، یہ پچھلے 9 سالوں میں سب سے کم سطح ہے اور حکومت کے ہدف سے بھی کم ہے۔ سروے کے مطابق جی ڈی پی میں زرعی شعبے کا حصہ 23.54%فیصد رہا جو پچھلے سال 24.03% سے کم رہا ۔ سروے کے مطابق ملک کی تقریبا 37.4% آبادی کاانحصار زرعی شعبے پر ہے ۔سروے کے مطابق ملک کی اہم فصلوں میں موسم کی ناموافق صورتحال ،بارشوں اورپانی کی کمی سمیت کاشت کے رقبے میں کمی، اور پیداواری صلاحیت میں کمی کی وجہ سے پیداوار متاثر رہی ہے ۔ سروے کے مطابق کپاس کی فصل کی پیداوار -30.7فیصد رہی جو کہ مجموعی طور پر 7.08 ملین بیلز ہے۔سروے کے مطابق گندم کی مجموعی پیداوار -8.9%فیصدیعنی 28.98 ملین ٹن رہی ۔سروے کے مطابق گنے کی پیداور 84.24 ملین ٹن۔ مکئی: -15.4%اورچاول کی پیداوار 9.72 ملین ٹن رہی ۔ سروے کے مطابق ملک میں پیاز کی پیداوار 15,9فیصد اور آلو کی پیداوار11,5فیصد رہی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *