ماسکو(نیوز ڈیسک)یوکرین کی جانب سے روسی دارالحکومت ماسکو پر کیے گئے بڑے پیمانے کے ڈرون حملوں نے جنگ کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے، جہاں اب لڑائی کے اثرات براہِ راست روس کے سیاسی اور معاشی مرکز تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔
جمعرات کو ہونے والے حملوں میں ماسکو کے قریب واقع کئی آئل ریفائنریوں اور صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی اور شہر کے مختلف علاقوں میں سیاہ دھوئیں کے بادل دکھائی دیے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے ان حملوں کو روس کی جانب سے یوکرینی شہروں پر جاری فضائی بمباری کا جواب قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ روس کئی ماہ سے یوکرین کے شہری علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے، اس لیے ماسکو پر حملے روسی کارروائیوں کا ردعمل ہیں۔
دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے لیے یہ حملے ایک بڑا سیاسی اور عسکری چیلنج تصور کیے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک پیوٹن نے خود کو ایک مضبوط اور ناقابلِ متزلزل رہنما کے طور پر پیش کیا۔
تاہم ماسکو کے قریب ہونے والے حالیہ حملوں نے روسی فضائی دفاع، داخلی سلامتی اور جنگی حکمت عملی سے متعلق کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر مغربی ممالک اب بھی روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی امید ظاہر کر رہے ہیں، تاہم امن کوششوں میں اب تک کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرینی حملوں کے بڑھتے ہوئے دائرے اور روسی جوابی کارروائیوں کے باعث تنازع مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ماسکو پر حالیہ حملے نہ صرف جنگی میدان بلکہ روس کی اندرونی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
اگر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو روسی عوام میں بے چینی اور حکومت پر دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے، جس سے آنے والے مہینوں میں کریملن کو اہم اور مشکل فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔
