ٹرمپ کے حکم پر امریکی فوج کا ایران پر فضائی حملہ؛ میزائل اور ڈرون تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا

ایران نے آبنائے ہرمز عبور کرنے والے بحری جہازوں پر 4 ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا، جس کا جواب دیا، سینٹ کام

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2026ء) امریکی فوجی ہیڈ کوارٹر سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز میں ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں امریکی فوج نے ایران کے خلاف بڑی جوابی کارروائی کرتے ہوئے فضائی حملے کیے ہیں۔ عالمی میڈیا کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے ایران کے اندر میزائل اور ڈرون اسٹوریج کے مقامات اور ساحلی ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا، یہ کارروائی آبنائے ہرمز کے ارد گرد کی گئی ہے، تاہم اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی جب کہ ایرانی ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ جنوبی ایران کے ساحلی شہر ‘سیریک’ میں ایک گولا گرا ہے۔ اس حوالے سے سینٹکام حکام کا کہنا ہے کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ گزرگاہ کی فراہمی جاری رکھیں گی، ایران کے ساتھ طے شدہ معاہدے کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے امریکی فوج خطے میں موجود اور مکمل چوکس رہے گی۔ دوسری طرف متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، گفتگو کے دوران عبداللہ بن زاید النہیان نے مفاہمتی یادداشت کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا، جس میں خطے میں کشیدگی کے خاتمے کو یقینی بنانا بھی شامل ہے۔ اس موقع پر انہوں نے عالمی بحری آمد و رفت کی آزادی، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں بلا رکاوٹ نقل و حرکت کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا اور کہا کہ ریاستوں کی خودمختاری کا احترام، اچھے ہمسائیگی کے اصولوں کی پاسداری، بین الاقوامی قوانین پر سختی سے عمل، اور سمندری راستوں کا تحفظ نہایت ضروری ہے، امید ہے جاری امریکہ ایران مذاکرات مثبت نتائج دیں گے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام قائم ہوگا، سنجیدہ سفارتکاری اور ذمہ دارانہ مذاکرات ہی علاقائی اور عالمی بحرانوں کے حل کا بہترین ذریعہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *