عالمی منڈی میں خام تیل 4 ماہ کی کم ترین سطح پر، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا امکان

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت گزشتہ چار ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ عالمی منڈی میں قیمتوں میں اس کمی کے باعث پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں کاروبار کے دوران سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی، عالمی معیشت میں سست روی کے خدشات اور تیل کی طلب میں ممکنہ کمی کے باعث خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت میں 73 سینٹ، یعنی 1.02 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ 70.65 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق دنیا کی بڑی معیشتوں میں صنعتی سرگرمیوں کی رفتار سست ہونے کے خدشات، عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال اور مستقبل میں تیل کی طلب میں ممکنہ کمی نے سرمایہ کاروں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس کے علاوہ بعض تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے پیداوار میں اضافے کے امکانات بھی قیمتوں میں کمی کی ایک اہم وجہ قرار دیے جا رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں  کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، تاہم تازہ کمی کے بعد قیمتیں گزشتہ چار ماہ کی کم ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں۔ ان کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی سے تیل درآمد کرنے والے ممالک کو مالی ریلیف مل سکتا ہے، کیونکہ درآمدی بل میں کمی آنے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو مختلف ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق آئندہ چند روز کے دوران عالمی معاشی اشاریے، بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی پالیسی، طلب و رسد کی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی حالات خام تیل کی قیمتوں کی سمت کا تعین کریں گے، جبکہ سرمایہ کاروں کی نظریں بھی انہی عوامل پر مرکوز ہیں۔

دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدے کے بعد کویت نے خام تیل کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جون کے دوران کویت کی یومیہ تیل پیداوار بڑھ کر 16 لاکھ 50 ہزار بیرل تک پہنچ گئی، جو مئی میں صرف 5 لاکھ 80 ہزار بیرل یومیہ تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جون کے آخری دس دنوں میں کویت کی یومیہ پیداوار بعض اوقات 19 لاکھ بیرل تک بھی پہنچ گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک کی تیل سپلائی تیزی سے معمول پر آ رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث کویت، سعودی عرب اور عراق سمیت کئی خلیجی ممالک کو اپنی تیل پیداوار میں نمایاں کمی کرنا پڑی تھی، تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدے کے بعد صورتحال میں بہتری آ رہی ہے۔

کویت پیٹرولیم کارپوریشن نے 18 جون کو جنگ کے دوران نافذ کیے گئے تمام فورس میجر نوٹس واپس لے لیے تھے، جبکہ بعد ازاں خریداروں کے لیے خام تیل کی نئی کھیپوں کی پیشکش بھی شروع کر دی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بحال ہونے سے عالمی توانائی منڈی میں اعتماد بڑھ رہا ہے، تاہم خام تیل کی قیمتیں اس پیش رفت کے بعد مزید دباؤ کا شکار رہیں۔

واضح رہے کہ کویت اپنی خام تیل برآمدات کے لیے تقریباً مکمل طور پر آبنائے ہرمز پر انحصار کرتا ہے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاس متبادل برآمدی راستے بھی موجود ہیں۔ اسی وجہ سے ایران جنگ کے دوران کویت سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خلیجی ممالک میں شامل تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *