نوشہرو فیروز میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم میں مبینہ غیرقانونی کٹوتیوں کی شکایات

ٹھاروشاہ (کاشان غفار خانزادہ)

خبر / عوامی شکایات
نوشہرو فیروز میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم میں مبینہ غیرقانونی کٹوتیوں کی شکایات، محراب پور پر بھی سوالات
نوشہرو فیروز: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کی نئی قسط جاری ہوتے ہی ضلع نوشہرو فیروز کے مختلف علاقوں، خصوصاً محراب پور، نوشہرو فیروز، مٹھیانی ، ٹھاروشاہ ودیگر مقامات سے مستحق خواتین کی جانب سے رقم میں مبینہ غیرقانونی کٹوتیوں کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔
متاثرہ خواتین کے مطابق بعض ادائیگی مراکز اور ایجنٹ فی کارڈ 1,500 سے 2,000 روپے تک کی مبینہ کٹوتی کر رہے ہیں۔ شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ جو خواتین کٹوتی دینے سے انکار کرتی ہیں، انہیں یہ کہہ کر واپس بھیج دیا جاتا ہے کہ “کیش موجود نہیں”، جبکہ کٹوتی پر رضامند خواتین کو فوری ادائیگی کر دی جاتی ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ نہ صرف سرکاری قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ غریب اور مستحق خواتین کے حقوق پر بھی براہِ راست ڈاکا ہے۔ ذرائع کے مطابق محراب پور سے اس نوعیت کی شکایات نسبتاً زیادہ موصول ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، تاہم ان الزامات کی باقاعدہ سرکاری تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔
واضح رہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحقین کو ان کی مکمل رقم بغیر کسی قسم کی کٹوتی ملنی چاہیے، اور کسی بھی فرد یا ایجنٹ کو رقم کا حصہ وصول کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ، متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حکام، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ شکایات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، غیرقانونی کٹوتیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور تمام مستحق خواتین کو ان کی مکمل رقم بلا کٹوتی فراہم کی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *