دشمن اناج کے

29 ستمبرکوسوشل میڈیاپر دیکھا تولکھاہواتھا،آج خوراک کے ضیاع کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔تودل میں خیال آیا کہ یہ کون سے مجبورولاچار لوگ ہیں جو خوراک کے ضیاع کا عالمی دن منا رہے ہیں، ہمارے یہاں تو مجبوروغریب لوگوں کے بچے دن بھرکوڑاکنڈیوں میں محفوظ کی ہوئی خوراک کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے،اٹھااٹھا کرکھالیتے ہیں،اور ہمارے ملک ہی میں نہیں پوری دنیا میں ہوٹلنگ کے علاوہ اب کوئی کام ہی نہیں رہا،یاتو اسلحہ فیکٹریاں پوری دنیا میں کام کررہی ہیں یا پھرخوراک کی فیکٹریاں دکانیں بیکریاں،ہوٹل،ٹھیلے اور ڈھابے وغیرہ ہی انسانوں کے روزگار چلارہے ہیں،اس کے ساتھ ہی خوراک کے لیے اناج اور گوشت وغیرہ کا کاروباربھی پورے زوروشور سے چل رہا ہے،دنیا کے جس ملک میں بھی چلے جاوہرجگہ کھانا بنانے اورکھانا کھانے کے علاوہ آپ کو کچھ بھی نہیں ملتا،توپھرخوراک کون ضائع کررہا ہے؟ خوراک ہی جب مقصد حیات رہ جائے تو پھراس کے ضیاع کاڈرتو ہوگا نا۔سنا ہے امریکہ کی کسی ریاست میں گندم اتنی پیدا ہوتی ہے کہ وہ پوری دنیا کی خوراک کے لیے کافی ہوسکتی ہے،لیکن امریکہ والے وہ ساری گندم خرید کرسمندرمیں پھینک دیتے ہیں کہ کہیں یہ انسانوں تک نہ پہنچ جائے، کیونکہ انسانوں تک پہنچی تو شاید ضائع ہوجائے۔اورعالمی خوراک کے ضیاع کا دن بھی وہی مناتے ہیں،اس لیے کہ اگر خوراک ضائع نہ ہوتو خوراک سستی ہو جائے گی۔اس کو کہتے ہیں دن مناواوربے وقوف بناو،بھوک وغربت میں ڈوبے لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرواورانہیں ایک دن اوربھوکا رکھو،آج پاکستان جیسے ملک میں جہاں آٹاکیا ہر کھانے والی چیزغریب کی قوتِ خرید سے باہرہے،موت سے بچنے کے لیے غریب اپنے بچوں کو سانس جاری رکھنے کے لیے رات ودن میں چندلقموں پرگزاراکرنے پر مجبورہے،کہ شاید کل کورزاقِ مطلق کہیں غیب سے رزق بھیج دے،اوردوسری طرف خوراک کے بلاضرورت انبار لگے شادی ہالز ہوٹلز، پارٹیوں اور شادیوں کے علاوہ ہرقسم کے ذوقِ طعام رکھنے والوں کے لیے عالمی طرزکے پکوانوں اور مشروبات سے سجے پڑے ہیں جہاں دن رات منوں کے حساب سے بچی ہوئی خوراک کچراکنڈیوں میں جاتی ہے،لیکن وہ ضائع نہیں ہوتی کہ مالک کو اس کے دام مل چکے ہوتے ہیں،گاہک لذتِ کام ودہن حاصل کرچکا ہوتا ہے،اب جوان کے کوڑا دانوں میں پڑاہے،وہ بھی کسی قسمت والے کو مل جائے گا۔لہذاضائع ہونے سے بچانے کے لیے دن جب منایا جائے گا تو نصیحت کس کو کی جائے گی جس کے پاس خوراک صرف ا للہ سے امید پرہی ہے کہ وہ دے دے گا،اسلام اس کو ہمدردی نہیں منافقت کہتا ہے،اورمنافقوں کے لیے اللہ نے فرمایا ہے کہ جہنم میں ”درکِ اسفل“ مقام ہوگا،اب اہلِ اسلام کی مرضی ہے کہ وہ اسلام کے حکم کے مطابق اپنے قرب وجوار کے انسانوں کا خیال رکھتے ہیں یا منافقوں کے ساتھ مل کرصرف عالمی خوراک کے ضیاع کا دن منا تے ہیں،اسلام خوراک اور انسانیت کا اس قدر خیال رکھتا ہے،کہ میرے نبی پاک ﷺ کومکے سے نکالنے والے کفارپرقحط پڑگیا تو میرے آقاﷺ نے ان دشمنوں کے لیے بھی خوراک بھیجی۔ مدینے میں ایک دفعہ خوراک کی قلت ہوگئی،حضرت عثمان ذوالنوریں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تجارتی قافلے کا غلے کا ایک کاروان مدینے میں پہنچا،اہل ثروت نے حضرتِ عثمان سے وہ غلہ خریدنے کے لیے مختلف بولیا ں دیں،لیکن آپ نے فرمایا میں اسے دس گنا منافع پربیچوں گا سب حیران ہوگئے کہ دس گنا کون دے گا؟ تو آپ نے وہ سارا غلہ غربامیں اللہ کے لیے مفت تقسیم کردیا، خوراک کے ضرورت مندوں کومدینے میں کسی نے ایک غریب کے گھربکرے کی سری بھیجی انہوں نے اگلے غریب کے گھر بھیج دی کہ انہیں شاید خوراک کی زیادہ ضرورت ہواسی طرح وہ سری سات گھروں سے ہوتی پھرپہلے گھرمیں واپس آگئی ہرایک نے اپنی ضرورت پردوسرے کوترجیح دی،ایک غزوہ میں زخمی حالتِ نزع میں پڑے تھے،کسی پانی پلانے والے نے ایک کوپانی پلانا چاہاتواس نے اپنے قریب پڑے دوسرے کی طرف اشارہ کیا کہ پہلے اسے پلادیں،وہ اس کے پاس گیا تواس نے اگلے کی طرف اشارہ کیا کہ پہلے اسے پلادیں، جب اس کے پاس وہ پہنچاتووہ شہادت پاچکا تھا،وہ دوڑکرواپس دوسرے اورپہلے کے پاس پہنچتا تووہ بھی اللہ کے حضورپیش ہوچکے تھے۔اے کاش آج کا مسلمان بھی اپنے اباواجداد کی تاریخ اوراپنے نبی پاک ﷺ کی تعلیم سے بہرہ ور ہوتا،تولوگوں کو خوراک کے ضیاع کے عالمی دن نہیں خوراک کی تقسیم کے اسلامی دن منانے پڑتے۔حکمران عالمی منڈی کے دام میں نہ پھنسے ہوتے،خوراک صرف انسان کی ہی نہیں ہرجاندار کی ضرورت ہے،خوراک کسی عالمی تجارت کے تابع نہیں ہونی چاہیے، خوراک اللہ کی زمین سے پیداہوتی ہے،اوراللہ کی زمین کس ملک کے پاس نہیں،بالخصوص پاکستان پرتو اللہ کا یہ خصوصی احسان ہے کہ اس کے پاس زمین زرخیز اوروافر موجود ہے،لیکن آج پاکستان کے غریب کاشت کار کوبھی خوراک کے لالے پڑے ہوے ہیں، وہ جو مٹی سے سونا اگلوارہا ہے،وہ مٹی کھانے پر مجبور ہے،اہلِ اقتدار واختیار عالمی بنیوں کے جال میں قوم وملک کو پھنسا چکے ہیں،اللہ تعا لیٰ اس قوم ِ مجبورپررحم فرمائے،اور اس کے کارپردازانِ حکومت کو اسلام کی اتباع میں قوم وملک کی فلاح وبہبود کرنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین وماعلی الاالبلاغ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *