بلوچستان کے وسائل کس کے لیے؟

ڈیرہ غازی خان بیوروچیف چوھدری احمد ڈیلی جستجو سے ) عوام کینسر جیسے موذی مرض کے علاج کے لیے دربدر، حکمرانوں کی خاموشی لمحۂ فکریہ!
رکنی، بارکھان، کوہلو اور لورالائی کے عوام صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم، مریض سینکڑوں کلومیٹر سفر کرکے ڈیرہ غازی خان، ملتان اور لاہور جانے پر مجبور؛ آخر غریب عوام کا درد کون سمجھے گا؟
تحریر: چوھدری احمد — ڈیرہ غازی خان
بلوچستان قدرتی معدنیات، تیل، گیس، کوئلہ، قیمتی پتھروں اور دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے۔ یہاں کی زمین قدرتی دولت سے بھری ہوئی ہے، مگر افسوس کہ اسی سرزمین پر بسنے والے عام شہری آج بھی صحت جیسی بنیادی انسانی سہولت کے لیے ترس رہے ہیں۔
رکنی، بارکھان، کوہلو، لورالائی اور گردونواح کے علاقوں میں رہنے والے شہری مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر جیسے موذی مرض کے علاج کے حوالے سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ مناسب ہسپتال، جدید طبی مشینری، ماہر ڈاکٹر اور علاج کی بنیادی سہولتیں میسر نہ ہونے کے باعث مریضوں کو اپنے علاقوں سے سینکڑوں کلومیٹر دور ڈیرہ غازی خان، ملتان اور لاہور کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
ذرا سوچیے! ایک غریب خاندان کا مریض کینسر جیسے خطرناک مرض میں مبتلا ہو، گھر میں پہلے ہی پریشانی اور بے بسی کا ماحول ہو، اوپر سے علاج کے لیے کئی سو کلومیٹر کا سفر، ہزاروں روپے کرایہ، رہائش، مہنگے ٹیسٹ، ادویات اور لاکھوں روپے کے علاج کے اخراجات۔ آخر یہ خاندان کہاں سے اتنے وسائل لائے؟
کیا بیماری صرف امیر لوگوں کو ہوتی ہے؟ کیا غریب انسان کو زندہ رہنے اور علاج کروانے کا حق حاصل نہیں؟
خواتین کی مشکلات اس سے بھی زیادہ توجہ طلب ہیں۔
ان علاقوں کی خواتین کو بھی زچگی، گائنی، کینسر اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے لیے ڈیرہ غازی خان، ملتان اور لاہور جیسے شہروں تک جانا پڑتا ہے۔ طویل سفر، مالی مشکلات اور مناسب طبی سہولتوں کی عدم دستیابی ان کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکی ہے۔
یہ صورتحال صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑا انسانی اور معاشرتی المیہ ہے۔
اب سوال بلوچستان کے منتخب عوامی نمائندوں، صوبائی حکومت اور وفاقی حکمرانوں سے ہے کہ آخر ان علاقوں کے عوام کے لیے عملی اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے؟ انتخابات کے دوران عوام کے دروازوں پر پہنچنے والے نمائندے کیا کبھی ان مریضوں کے گھروں میں بھی جائیں گے جو علاج کے لیے اپنا مال، مویشی اور جمع پونجی تک فروخت کرنے پر مجبور ہیں؟
کیا بلوچستان کے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی میں وہاں کے عام شہریوں کا کوئی حصہ نہیں؟ کیا ان وسائل سے کم از کم ایسے ہسپتال بھی قائم نہیں کیے جا سکتے جہاں غریب مریضوں کو بروقت تشخیص اور علاج کی سہولت مل سکے؟
حکمرانوں اور منتخب نمائندوں سے چند بنیادی سوالات
رکنی، بارکھان، کوہلو اور لورالائی میں جدید ہسپتال کب قائم ہوں گے؟
کینسر کی تشخیص اور علاج کے لیے خصوصی مراکز کب بنائے جائیں گے؟
خواتین کے لیے جدید گائنی اور زچہ و بچہ ہسپتالوں کی سہولت کب فراہم ہوگی؟
غریب مریضوں کو مفت ادویات اور علاج کون فراہم کرے گا؟
دور دراز علاقوں کے مریضوں کے لیے ایمبولینس اور سفری سہولتوں کا انتظام کب ہوگا؟
آخر ان پسماندہ علاقوں کے عوام اپنی فریاد کس دروازے پر لے کر جائیں؟
ہم وزیراعلیٰ بلوچستان، وزیراعلیٰ پنجاب، وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزارت صحت، دونوں صوبوں کے محکمہ صحت اور متعلقہ منتخب نمائندوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سنگین انسانی مسئلے پر فوری توجہ دی جائے۔
رکنی، بارکھان، کوہلو اور لورالائی میں جدید طبی سہولتوں سے آراستہ ہسپتال قائم کیے جائیں، کینسر کی ابتدائی تشخیص کے مراکز بنائے جائیں اور مستحق مریضوں کے لیے مفت علاج، ادویات اور سفری سہولتوں کا خصوصی پیکیج متعارف کروایا جائے۔
ڈیرہ غازی خان اور ملتان کے ہسپتالوں میں آنے والے ان دور دراز علاقوں کے مریضوں کو بھی خصوصی سہولت اور رہنمائی فراہم کی جانی چاہیے۔
آخری سوال!
بلوچستان کی زمین سے نکلنے والی قدرتی دولت اگر عوام کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا نہیں کر سکتی تو پھر اس ترقی کا عام شہری کو کیا فائدہ؟
عوام کو سیاسی وعدے نہیں، زندگی بچانے والے ہسپتال چاہییں۔ انہیں تقریریں نہیں، علاج چاہیے۔ انہیں تسلیاں نہیں، عملی اقدامات چاہییں۔
حکمران یاد رکھیں کہ کسی بھی ریاست کی اصل کامیابی اس کے قدرتی وسائل یا بلند و بالا عمارتیں نہیں بلکہ اس کے شہریوں کی صحت، عزت اور خوشحال زندگی ہے۔
صحت امیر اور غریب کی تفریق سے بالاتر بنیادی انسانی حق ہے۔ بلوچستان کے عوام بھی اسی پاکستان کے شہری ہیں، انہیں بھی جینے کا پورا حق حاصل ہے۔
یہ آواز کسی ایک علاقے کی نہیں بلکہ ان تمام بے بس خاندانوں کی آواز ہے جو اپنے پیاروں کی زندگی بچانے کے لیے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرنے پر مجبور ہیں۔
تحریر: چوھدری احمد
ڈیرہ غازی خان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *