مصنوعی ذہانت اور انسان

ترتیب
نظام الدین

مصنوعی ذہانت نے جعلی تصاویر، نقلی آوازوں اور مصنوعی ویڈیوز کی تیاری کو انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ کسی سیاست دان کی جعلی تقریر، صحافی کی مصنوعی آواز یا کسی واقعے کی فرضی ویڈیو چند منٹوں میں تیار کی جا سکتی ہے۔ لیکن اصل مسئلہ صرف جعلی مواد کی تیاری نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں انسانی اعتماد کا کمزور ہونا بھی ہے۔
اگر عوام یہ سمجھنے لگیں کہ ہر ویڈیو جعلی ہو سکتی ہے اور ہر آواز مصنوعی، تو معاملہ صرف جھوٹی خبروں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ حقیقی خبریں اور مستند شواہد بھی مشکوک ہو جائیں گے۔ اس صورتِ حال میں افراد حقیقی ثبوتوں کو بھی یہ کہہ کر مسترد کر سکتے ہیں کہ انہیں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔ یوں جھوٹ اور سچ کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جائے گا۔ دو ملکوں کے درمیان جنگی کشیدگی کے دوران یہ صورتِ حال مزید خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ جنگ سے متعلق درست فیصلوں کا انحصار قابلِ اعتماد معلومات اور حقیقی شواہد پر ہوتا ہے، اس سلسلے میں مصنوعی عمومی ذہانت اور انسانی صلاحیتوں سے آگے نکل جانے والی ذہانت، یعنی سپر انٹیلیجنس کے درمیان فرق سمجھنا ضروری ہے۔ مصنوعی عمومی ذہانت سے مراد ایسا نظام ہے جو مختلف ذہنی کاموں میں عمومی طور پر انسانی سطح کی صلاحیت رکھتا ہو، جب کہ سپر انٹیلیجنس اس سے آگے کا تصور ہے۔ اس سے مراد ایسی مصنوعی ذہانت ہے جو علم، تحقیق اور فیصلہ سازی کے اہم شعبوں میں انسانی صلاحیتوں سے نمایاں طور پر آگے نکل جائے۔ اس لیے دونوں اصطلاحات ایک دوسرے کی مترادف نہیں ہیں۔یہ ابھی ثابت شدہ حقیقت نہیں کہ ایسی غیر معمولی ذہانت دنیا میں موجود ہے یا مستقبل قریب میں لازماً وجود میں
آجائے گی۔ تاہم مصنوعی ذہانت کو انسانی مقاصد اور اقدار سے ہم آہنگ رکھنے کا مسئلہ ایک سنجیدہ تحقیقی موضوع بن چکا ہے۔ اگر مستقبل میں کوئی انتہائی طاقت ور مصنوعی ذہانت ایسا طرزِ عمل اختیار کر لے جو انسانی اقدار سے متصادم ہو تو کیا انسان اس کے رویّے اور فیصلوں کو اپنے قابو میں رکھ سکے گا؟یہی وہ نظریاتی خطرہ ہے جسے امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کی مجوزہ قانون سازی میں اہمیت حاصل ہے۔ اس تجویز میں ایسے مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی تیاری پر پابندی کی بات کی گئی ہے جو انسانی ذہانت سے آگے نکل جائیں یا جن میں انسانی حکم پر بند کیے جانے سے بچنے جیسی خطرناک صلاحیتیں پیدا ہو
یہاں ایک دلچسپ تضاد سامنے آتا ہے۔ مصنوعی ذہانت پر سخت پابندیوں کی بات کرنے والے قانون ساز اسے عالمی خطرہ سمجھتے ہیں، لیکن دوسری جانب بڑی طاقتیں اسی ٹیکنالوجی کو قومی طاقت، معاشی برتری اور عالمی اثر و رسوخ کا اہم ذریعہ بھی قرار دیتی ہیں۔امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کی مسابقت اب محض تجارتی مقابلے تک محدود نہیں رہی۔ اس میں نیم موصل ٹیکنالوجی، معلوماتی مراکز، فوجی استعمال، روبوٹ سازی اور سائنسی تحقیق جیسے اہم شعبے بھی شامل ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی ایک ملک کے لیے مصنوعی ذہانت کی ترقی کو مکمل طور پر روکنے کا فیصلہ آسان نہیں۔ اگر امریکا اپنی جدید ترین مصنوعی ذہانت کی تیاری روک دے، لیکن کوئی دوسرا ملک ایسا نہ کرے تو واشنگٹن میں یہ خدشہ پیدا ہوگا کہ وہ معاشی اور دفاعی اعتبار سے عالمی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا۔اسی پس منظر میں سینڈرز کی تجویز میں عالمی تعاون کو اہمیت حاصل ہے۔ ان کا مقصد امریکا میں پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی معاہدوں کے ذریعے دنیا بھر میں سپر انٹیلیجنس کی ترقی کو روکنے کی کوشش کرنا ہے۔ تاہم اسے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے، یعنی این پی ٹی کا عین متبادل قرار دینا درست نہیں ہوگا۔جوہری ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی ساخت، رسائی، نقل سازی اور تجارتی استعمال بنیادی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں مصنوعی ذہانت کے کئی نمونے سافٹ ویئر کی صورت میں دنیا بھر میں تقسیم کیے جا سکتے ہیں، بعض نظاموں کے بنیادی اجزا اور معلومات بھی عام دستیاب ہوتی ہیں، جب کہ انہیں چلانے کے لیے درکار کمپیوٹنگ کا بنیادی ڈھانچہ مختلف ممالک اور نجی اداروں میں پھیلا ہوا ہے۔ اس لیے مصنوعی ذہانت کی نگرانی اور ضابطہ بندی کے لیے عالمی سطح پر ایسے نئے طریقہ ہائے کار کی ضرورت ہوگی جو اس ٹیکنالوجی کی مخصوص نوعیت کو مدنظر رکھیں۔
یورپی یونین نے اس معاملے میں ایک مختلف راستہ اختیار کیا ہےاس کا مصنوعی ذہانت سے متعلق قانون خطرات کی سطح کے مطابق ضابطہ بندی کا نظام فراہم کرتا ہے، جس کے تحت مختلف نوعیت کے مصنوعی ذہانت کے نظاموں کے لیے الگ الگ ذمہ داریاں مقرر کی گئی ہیں۔ اس قانون کے تحت بعض ممنوعہ طریقہ ہائے استعمال، شفافیت کے تقاضوں اور عمومی مقصد کی مصنوعی ذہانت سے متعلق قواعد کا نفاذ مختلف مراحل میں کیا جا رہا ہے، جب کہ زیادہ خطرے والے نظاموں سے متعلق بعض قواعد کے نفاذ کے لیے بعد کی تاریخیں مقرر ہیں۔
دنیا میں مصنوعی ذہانت کا سوال محض روزگار یا ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں بلکہ معاشی خودمختاری، انسانی وقار، علم، اخلاق اور حکمرانی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہےکہ مصنوعی ذہانت ہماری کتنی ملازمتیں ختم کر سکتی ہے، لیکن اس سے آگے بڑھ کر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہم اس کے ذریعے کتنی نئی ملازمتیں، برآمدات اور پیداواری صلاحیت پیدا کر سکتے ہیں۔
پاکستان میں تعلیم، صحت، زراعت، حکمرانی، عدالتی نظام، صنعت، توانائی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ماہرین کی تربیت، تحقیق کا فروغ، وظائف، مقامی مصنوعات کی تیاری اور سائبر تحفظ پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔یہ ہمارے ملک کے لیے ایک بڑا موقع ہے۔ علاقائی زبانوں کے لسانی مواد، زرعی معلومات، موسمیاتی پیش گوئی، صحت کے ریکارڈ، ٹیکس کے نظام، عدالتی دستاویزات اور شہری خدمات کو بہتر بنا کر مصنوعی ذہانت کو محض درآمد شدہ ٹیکنالوجی کے بجائے مقامی ترقی کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم، اس کے لیے قابلِ اعتماد معلومات، شہریوں کی نجی زندگی کا تحفظ، مضبوط سائبر تحفظ، مقامی تحقیق اور بڑی تعداد میں تربیت یافتہ افرادی قوت ضروری ہوگی۔مصنوعی ذہانت اور اسلامی اخلاقیات
مصنوعی ذہانت اپنی ذات میں نہ حرام ہے اور نہ لازماً قابلِ قبول۔ اس کا شرعی اور اخلاقی حکم اس کے مقصد، استعمال اور نتائج سے متعین ہوگا۔ اگر اسے تعلیم، علاج، تحقیق، انتظامی بہتری اور انسانی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ فائدے کا ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن اگر اسے دھوکا دہی، جعل سازی، نجی زندگی میں مداخلت، غلط معلومات پھیلانے، ظلم یا انسانی نقصان کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کی اخلاقی حیثیت تبدیل ہو جائے گی۔اسلامی نقطۂ نظر سے سب سے اہم اصول انسانی جواب دہی ہے۔ مصنوعی ذہانت فیصلے کرنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن اخلاقی اور قانونی ذمہ داری انسان سے منتقل نہیں ہو جاتی۔ اسی لیے انسانی وقار، عدل، امانت، سچائی، نقصان سے بچاؤ اور انسانی نگرانی کو مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بنیادی اصولوں میں شمار کیا جانا چاہیے۔یہ اصول پاکستان جیسے ملک میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر مصنوعی ذہانت کا کوئی نظام کسی غریب شہری کو قرض دینے سے انکار کر دے، کسی طالب علم کی تعلیمی اہلیت کا فیصلہ کرے، کسی مریض کی تشخیص میں مدد دے یا کسی شخص کو سرکاری سہولت سے محروم کر دے تو سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ کمپیوٹر نے کیا فیصلہ کیا؟ اصل سوال یہ بھی ہوگا کہ اس فیصلے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی، غلطی کی صورت میں شہری کو انصاف کیسے ملے گا اور کیا متاثرہ شخص کو فیصلے پر نظرثانی ہوسکے گی؟ ہمارے لیے درست راستہ نہ تو مصنوعی ذہانت سے خوف زدہ ہو کر اسے روک دینا ہے اور نہ ہی اخلاقی نگرانی کے بغیر اسے کھلی چھوٹ دینا۔ ضرورت ایسے نظام کی ہے جس میں انسان مرکزِ نگاہ ہو، ٹیکنالوجی ترقی کا ذریعہ بنے اور انسان اس کے استعمال کا ذمہ دار بھی رہے۔
جدید ٹیکنالوجی اور انسانی اخلاقیات میں کوئی بنیادی تصادم ضروری نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کو درست اخلاقی سمت دی جائے۔ انسانی فلاح، عدل اور نقصان سے تحفظ کے اصول ہمیں ایسا راستہ فراہم کر سکتے ہیں جس پر چلتے ہوئے مصنوعی ذہانت ترقی بھی کرے اور انسانی وقار، معاشرتی انصاف اور اخلاقی ذمہ داری اس ترقی کی بھینٹ بھی نہ چڑھیں۔ آخرکار سوال یہ نہیں کہ مشین انسان سے زیادہ ذہین ہوگی یا نہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ انسان اپنی ذہانت سے بنائی ہوئی مشین کی طاقت کو کس مقصد کے لیے استعمال کرے گا؟ زمانہ بدل رہا ہے، چال اپنی۔ ٹیکنالوجی کی رفتار شاید ہمارے اختیار میں نہ ہو، لیکن اس کی سمت کا تعین ہمارے ہاتھ میں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *