وزیراعظم مذاکرات:حکومت نے شرائط قبول کر لیں؟

اسلام آباد: اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (TTAP) نے وزیراعظم شہباز شریف کی مذاکرات کی پیشکش کو مشروط طور پر قبول کر لیا ہے اور ملک کو سیاسی و معاشی بحران سے نکالنے کے لیے نئے قومی میثاقِ جمہوریت پر بات چیت کی تیاری کا اظہار کیا ہے۔ اتحاد نے سابق وزیراعظم عمران خان سے نئے چارٹر پر دستخط کرانے کی ذمہ داری بھی قبول کر لی ہے۔

تاہم، پاکستان تحریک انصاف (PTI) نے براہِ راست مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔ پارٹی ترجمان شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ عمران خان کی ہدایات ہیں کہ حکومت سے کسی قسم کی بات چیت نہ کی جائے، اور اگر کوئی پیش رفت ہوگی تو وہ محمود خان اچکزئی یا علامہ راجہ ناصر عباس کے ذریعے ہوگی۔ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ حکومت کی پیشکش سیاسی دباؤ کی وجہ سے ہے اور سنجیدہ نہیں۔

تفصیلات کے مطابق، 23 دسمبر 2025 کو وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ اجلاس میں پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کی تھی، کہتے ہوئے کہ بات چیت صرف جائز امور پر ہوگی اور بلیک میلنگ کی گنجائش نہیں۔

24 دسمبر کو TTAP کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کرنے والوں میں نائب چیئرمین علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، مصطفیٰ نواز کھوکھر، ساجد ترین اور اخونزادہ حسین یوسفزئی شامل تھے۔ اجلاس میں نئے چارٹر کی ضرورت پر اتفاق ہوا، جس میں شفاف انتخابات، نیا الیکشن کمشنر، پارلیمانی بالادستی، آئین 1973 کی بحالی، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق شامل ہوں گے۔

اجلاس میں اپوزیشن کی دو روزہ قومی کانفرنس اور 8 فروری کے یومِ سیاہ پر بھی مشاورت کی گئی، اور ملک بھر میں ہڑتال کی حکمت عملی طے کی گئی۔

یاد رہے کہ TTAP میں پی ٹی آئی بھی شامل ہے، لیکن پارٹی عمران خان کی ہدایات کو ترجیح دیتی ہے۔ سیاسی صورتحال اب بھی کشیدہ ہے، اور مذاکرات کی کامیابی مشروط ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *