ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب
لاہور یکم مارچ:
حکومتِ پنجاب نے صوبہ بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی
دفعہ 144 کا نفاذ دہشتگردی کے ممکنہ خطرات اور امن عامہ کو لاحق خدشات کے باعث کیا گیا
محکمہ داخلہ پنجاب نے فوری طور پر اجتماعات، جلوسوں اور مظاہروں پر پابندی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا
انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق حساس اجتماعات دہشتگردی کا ہدف بن سکتے ہیں
رپورٹس کے مطابق شرپسند عناصر کسی اجتماع میں شریک علماء کرام کو نشانہ بنا کر بدامنی اور فرقہ وارانہ فسادات برپا کر سکتے ہیں
فرقہ وارانہ کشیدگی اور امن عامہ میں خلل کے خدشے کے پیش نظر پیشگی اقدامات کیے گئے
پنجاب میں چار یا اس سے زائد افراد کے عوامی اجتماع پر پابندی عائد
عوامی مقامات پر بغیر اجازت اجتماع منعقد کرنے پر پابندی ہو گی
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار دورانِ ڈیوٹی پابندی سے مستثنیٰ ہیں
شادی بیاہ، جنازوں اور تدفین سے متعلق اجتماعات پابندی سے مستثنیٰ ہیں
سرکاری، نیم سرکاری دفاتر کے اجلاس اور عدالتیں پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے
پنجاب میں اسلحہ کی نمائش اور عوامی مقامات پر استعمال پر مکمل پابندی عائد ہے
لائسنس یافتہ اور بغیر لائسنس ہر قسم کے اسلحہ پر پابندی لاگو ہو گی
دفعہ 144 کے تحت پابندیاں 7 روز کیلئے نافذ کی گئی ہیں
امن و امان برقرار رکھنے اور عوامی جان و مال کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں
پنجاب بھر میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب