Author: admin

  • معاشی ترقی کا روڈ میپ: فنی تعلیم اور حکومتی اقدامات

    معاشی ترقی کا روڈ میپ: فنی تعلیم اور حکومتی اقدامات

    خطابیات
    عمرخطاب

    ٹیکنیکل ایجوکیشن یا فنی تعلیم کسی بھی قوم کی سماجی اور معاشی ترقی کا بنیادی ستون ہے اور اس کی اہمیت کلیدی ہو جاتی ہے جہاں پیسیفک انٹرنیشنل جرنل کی دو ہزار چوبیس کی رپورٹ کے مطابق آبادی کا تریسٹھ فیصد حصہ پینتیس سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً چوبیس لاکھ نوجوان روزگار کی منڈی میں داخل ہونے والے تاہم فنی اداروں میں داخلے کی شرح بہت کم ہے اور یہ سالانہ لیبر مارکیٹ نئے نوجوانوں کے بیس فیصد سے بھی کم بنتا ہے۔ پاکستان اکنامک سروے دو ہزار سترہ تا دو ہزار اٹھارہ کی رپورٹ کے مطابق ملک کی مجموعی شرح خواندگی اٹھاون فیصد ہے، جس میں مردوں کی شرح ستر فیصد جبکہ خواتین کی اڑتالیس فیصد ہے، اور یہی تعلیمی فرق فنی مہارتوں کے حصول میں بھی رکاوٹ بنتا ہے۔ لیبر فورس سروے دو ہزار سترہ تا دو ہزار اٹھارہ کے مطابق پاکستان کی لیبر فورس میں خواتین کی شرکت صرف بیس اعشاریہ چودہ فیصد ہے، جبکہ مردوں کا تناسب ستاسٹھ اعشاریہ ننانوے فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔
    جدید معاشی تجزیوں اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق روایتی ڈگریوں کے مقابلے میں ٹیکنیکل تعلیم کا ریٹرن آن انویسٹمنٹ یعنی فائدہ دس گنا زیادہ تیز ہے، کیونکہ اڑسٹھ فیصد ٹیکنیکل گریجویٹس کو تین ماہ کے اندر ملازممت مل جاتی ہے جبکہ روایتی ڈگری ہولڈرز کے لیے یہ شرح صرف بتیس فیصد ہے۔ مثال کے طور پر ایک سالہ الیکٹریشن ڈپلومہ پر ہونے والی تقریبا ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری دو سال میں چھ سو فیصد منافع دے سکتی ہے، جبکہ چار سالہ بی ایس کی ڈگری پر دس لاکھ تک روپے سے زائد خرچ کرنے کے باوجود واپسی کا تناسب صرف اڑتالیس فیصد کے قریب رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق صرف سولر انرجی کے شعبے میں ہی دو ہزار ستائیس تک پچاس ہزار سے زائد ٹیکنیشنز کی ضرورت ہوگی، جو فنی تعلیم کی بڑھتی ہوئی مانگ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    پاکستان میں ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاقی سطح پر این اے وی ٹی ٹی سی یعنی نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کو ایک ریگولیٹری ادارے کے طور پر قائم کیا گیا ہے جو پالیسی سازی اور معیار برقرار رکھنے کا ذمہ دار ہے۔ حکومت نے “سکلز فار آل” یعنی سب کے لیے ہنر کی قومی حکمت عملی کے تحت ایک جامع روڈ میپ تشکیل دیا ہے جس کا مقصد فنی تعلیم کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہے۔ اس سلسلے میں پرائم منسٹر یوتھ اسکل ڈیویلپمنٹ پروگرام ایک بڑا اقدام ہے جس کے تحت نوجوانوں کو ہائی ٹیک اور روایتی ہنر سکھائے جا رہے ہیں۔ فنی اسناد کی عالمی سطح پر قبولیت کے لیے نیشنل ووکیشنل کوالیفیکیشن فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے جو آٹھ مختلف لیولز پر مشتمل ہے۔

    بین الاقوامی تعاون کے حوالے سے یورپی یونین اور جرمنی کی جانب سے چونسٹھ ملین یورو کے بجٹ کے ساتھ “ٹی وی ای ٹی سیکٹر سپورٹ پروگرام” کا پانچ سالہ مرحلہ دو ہزار تئیس تا دو ہزار اٹھائیس شروع کیا گیا ہے، جس کا ہدف اٹھائیس ہزار نوجوانوں کو کمپیٹینسی بیسڈ ٹریننگ فراہم کرنا اور آٹھ سینٹرز آف ایکسیلینس قائم کرنا ہے۔ پاک-چین اقتصادی راہداری کے تحت لاہور میں پنجاب تیانجن یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اواور “لوبان ورکشاپس” کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جہاں چینی تعلیمی ماڈل کے ذریعے میکاٹرونکس اور الیکٹریکل آٹومیشن جیسے شعبوں میں تربیت دی جا رہی ہے۔ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی جیسے ادارے صوبائی سطح پر کثیر فنی اداروں کی نگراانی کر رہے ہیں تاکہ نوجوانوں کو برسرِ روزگار بنا کر ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔

    حکومت کے علاوہ پاکستان بھرمیں نجی طور پر بھی فنی تعلیم کو فروع مل رہاہے جس میں سب سے نمایاں کردار الخدمت فاؤنڈیشن کا ہے جس نے بنو قابل کے نام اپنا میگا پراجیکٹ اعلان کیا ہے جو قابل تحسین ہے اور دوسرے نجی اداروں کے لیے ایک نمونہ بھی ہے۔ بہرحال پاکستان کی معاشی بقا اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل ہنر مندی کو ترجیح دی جائے، کیونکہ موجودہ دور میں ہنر مند ہاتھ ایک غیر ہنر مند ڈگری سے زیادہ معتبر اور منافع بخش ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف ملکی صنعت کو مضبوط کریں گے بلکہ پاکستانی ہنر مندوں کے لیے بیرون ملک روزگار کے وسیع مواقع بھی پیدا کریں گے۔

  • حکومت پنجاب: امداد لینے کیلئے ان نمبرز پر رابطہ کریں

    حکومت پنجاب: امداد لینے کیلئے ان نمبرز پر رابطہ کریں

    لاہور.حکومت پنجاب کی جانب سے جاری مختلف امدادی پروگراموں اور مالی معاونت اسکیموں کے حوالے سے شہریوں کی رہنمائی کے لیے اہم ہیلپ لائن نمبرز جاری کر دیے گئے ہیں۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی قسم کی معلومات، شکایت یا تصدیق کے لیے متعلقہ نمبرز پر براہِ راست رابطہ کریں تاکہ بروقت اور درست رہنمائی فراہم کی جا سکے۔اعلامیے کے مطابق وزیراعظم ہیلپ لائن نمبر 9999 پر کال کر کے شہری امدادی پروگراموں سے متعلق معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح 13000 پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے جہاں مستحق افراد کو حکومتی ریلیف اقدامات سے متعلق تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔

    حکام نے بتایا کہ راشن کارڈ سے متعلق معلومات اور شکایات کے ازالے کے لیے ہیلپ لائن نمبر 080002345 جاری کیا گیا ہے۔ شہری اس نمبر پر کال کر کے اپنی درخواست کی صورتحال اور دیگر امور کے بارے میں رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔مزید برآں، مریم کو بتائیں پروگرام کے تحت شکایات یا معلومات کے لیے ہیلپ لائن نمبر 1000 مختص کیا گیا ہے۔ شہری اس نمبر پر کال کر کے اپنی شکایات درج کرا سکتے ہیں یا امدادی اسکیموں کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

    بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مستفید خواتین اور دیگر بنفشری افراد کے لیے بھی خصوصی ہیلپ لائن نمبر 080026477 جاری کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس نمبر پر رابطہ کر کے ادائیگی، تصدیق یا دیگر متعلقہ معاملات کے بارے میں رہنمائی لی جا سکتی ہے۔

    حکومت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی غیر مصدقہ ذرائع پر انحصار کرنے کے بجائے صرف سرکاری طور پر جاری کردہ ہیلپ لائن نمبرز پر ہی رابطہ کریں تاکہ غلط معلومات اور ممکنہ فراڈ سے بچا جا سکے۔

  •  زلزلے کے جھٹکےلوگ گھروں سے باہر نکل آے

    الاسکا۔امریکی ریاست الاسکا کے قریب 6 اعشاریہ 3 شدت کا زلزلہ آیا ہے۔

    امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق الاسکا کے قریب آئے زلزلے کی گہرائی ایک کلومیٹر زیرِ زمین تھی۔

    امریکی سونامی وارننگ سسٹم کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بعد کسی قسم کی سونامی وارننگ جاری نہیں کی گئی۔

  • “آئیے زندگی کو خوشگوار جینے کا فن سیکھتے ہیں”

    “آئیے زندگی کو خوشگوار جینے کا فن سیکھتے ہیں”

    تحریر: ظفر اقبال ظفر
    مجھ میں دولت کمانے کی ہوس نہیں لیکن زندگی سے لطف اندوز ہونے کا آرزو مندضرور ہوں۔اگر آپ جینے کے فن سے واقف نہیں توآپ زندگی نہیں گزار رہے بلکہ زندگی آپ کو گزار رہی ہے حالات کے سامنے بے بس رہنے کی بجائے اسے اپنی گرفت میں رکھنے کا فن اپنائیے سبق نہیں مثال بننے میں تاریخ رقم کیجئے۔صحت مند اعصاب کادور ہی آپ کی مالی ترقی کو حقیقت بناتا ہے کیونکہ خدا آپ کے گناہ معاف کر سکتا ہے مگرآپ کا اعصابی نظام غلط استعمال پر آپ کو کبھی معاف نہیں کرتالہذا عصاب کومضر صحت استعمال سے بچا کر سکون بخش اقدامات پر لگایئے تاکہ جب آپ اعصابی کمزوری میں مبتلا ہوجائیں توآپ کی درست حکمت عملی آپ کو کماکے دیتی رہے۔
    یہ دنیا کامیاب انسان صاحب مال و دولت کو ہی مانتی ہے اور کاروبار سرمایہ کاری ہی واحد زریعہ ہے جو درست سمت پر ہو تو نسلوں کے ساتھ ساتھ معاشرے کے محنت کشوں کو بھی پالتا ہے۔ترقی یافتہ ممالک اپنی عوام کو معاشی ترقی کے وسائل دیتے ہیں اور تربیت کے لیے ایسے پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں جو لوگوں کے اندر جھجک اور عدم اعتماد کی جگہ جرات اور خوداعتمادی پیدا کرتے ہیں۔
    لوگوں کو زہنی غلام بنانے کی بجائے ان کے اندر قدرت کی طرف سے رکھی گئی لیڈر شپ خصوصیات کو اُبھارا نکھارا جائے انہیں بولنے کے فن سے متعارف کروایا جائے زہن اور زبان کے درست استعمال کرنے والوں کو بتایا جائے کہ قیادت انہی کے قدم چومتی ہے جو بے دھڑک اور متاثرکن انداز میں اپنے مفید خیالات کا اظہار کرنا جانتے ہیں۔
    گزر جانے والے کل اورآنے والے کل کا اکٹھا بوجھ اُٹھایا جائے تو طاقتور سے طاقتور انسان کا بھی آج خراب ہو جائے گا۔اپنے ماضی کی طرح اپنے مستقبل پر بھی تمہاری گرفت نہیں تمہیں جو آج ملا ہے اس کا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔زندگی کا مقصد دُور دھندلکوں میں دیکھنا نہیں بلکہ جو سامنے موجود ہے اسے سرانجام دیناہے۔ماضی کی طرح مستقبل کو بھی مضبوطی سے بند کر دو۔جو شخص مستقبل کے متعلق بے چین ہے وہ زہنی قوت کو برباد کر رہا ہے اعصابی پریشانیاں اس کے راستے میں رکاوٹ بن کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ہمارے ایک طرف لامحدود ماضی ہے جو ازل سے جاری ہے اور دوسری طرف مستقبل ہے جو ابد تک جاری رہے گا۔پھر کیوں نہ ہم اپنے آج میں زندہ رہنے پر قناعت کریں۔
    خود کشی کا ارادہ کر نے والے زہنوں کو زندگی بخش فضاؤں میں گہری سانسیں لینے کا بندوبست کریں۔ تنہائی اور محرومیوں کے قیدی کو مخلص ساتھ اور وسائل سے ہمکنار کریں۔زیادتی و نقصان سے متاثرہ شخص کو اس بات سے لاپرواہ کریں کہ زندگی کسی کو کچھ نہیں دیتی تمہاری اپنی کوشش و محنت تمہاری زندگی میں جینے کے رنگ بھرتی ہے۔لذت حیات کو ملتوی کرنے والی انسانی فطرت کوبدلا جائے۔ دماغ پر جو بند گلی جیسی سوچوں کا قبضہ ہے اسے اپنے اکلوتے کندھے پر اُٹھائیے اور چار قبروں جتنے گہرے کھڈے میں دفنا دیجئے۔انہی سوچوں کے وائرس کی وجہ سے پورے جسم پر مایوسی کے چھوٹے چھوٹے پھوڑے پھنسیاں نکلتے ہیں جو اُمید کے بستر پر لیٹتے ہی بے بسی کے درد سے مبتلا کردیتے تھے۔
    کبھی کبھی مصیبت میں مبتلا شخص کی بے پرواہی بھی شفا بخش ہو جاتی ہے۔انسانی حوصلہ افزائی میں بڑی طاقت ہے مگر کبھی کبھی بے رحم حالات بھی انسان کو زندگی کے راستے پہ ڈال دیتے ہیں ایک شخص کومالی نقصان نے مفلسی کے بستر مرگ پہ ڈال دیا جسم سے صحت کی روانگی روز بروز اپنی رفتار تیز کیے جا رہی تھی ڈاکڑ نے معزرت کرکے زندگی چند دنوں کی مہمان ہونے کا اشارہ دے دیا اب یہ موت کا منتظر بندہ سوچتا ہے کہ کشمکش یا پریشانی میں مبتلا رہنے کا کوئی فائدہ نہیں اس نے فکر سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیا اور سو گیا اس کی روح فرسا تھکاوٹ اترنے لگی بھوک لوٹ آئی اور طاقت بڑھنے لگی چند ہفتوں بعد بیساکھیوں کی مدد سے چلنے لگا اور کچھ ماہ میں جسمانی طاقت نے محنت کے ہتھیاروں سے وسائل کے پہاڑ توڑتے ہوئے اپنی کاوباری رونقیں بہال کر لیں۔اپنے شعور کی راہنمائی میں اس بندے نے ترقی کی یادگار منازل طے کرکے تاریخ رقم کی۔بڑے سے بڑے نقصانات کی قیمت یہ نہیں کہ وہ آپ کی زندگی نگل جائیں۔کامیابی کی طرح نقصان کے لیے بھی زہنی طور پر تیار رہیں تاکہ آپ بدترین کو خاموشی کے ساتھ بہترین بنانے میں اپنا وقت قوت وتوانائی لگا کر حالات کا رُخ پلٹ سکیں۔اگر آپ فکر و پریشانیوں میں مبتلا رہے تو ناکامی کو کبھی واپس نہیں پلٹا سکتے پریشان حال انسان پر اوپر سے معجزے نہیں ہوتے بلکہ اندر سے ہی کرشمے پھوٹتے ہیں یہ سچ ہے کہ پریشانیوں میں ہم اپنے دماغ کو یکسو نہیں رکھ پاتے ہمارا دماغ یہاں وہاں ادھر اُدھر کی ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے ہم کسی بہتر فیصلے پر پہنچنے کی قوت سے محروم ہو جاتے ہیں مگر پہلے سے ہی کی گئی زہنی تیاری عقل برباد کرنے والے حادثات کے اثرات کوہی کم نہیں رکھتی بلکہ آپ کی توجہ معاملے پر مرکوز کرکے اسے حل کی جانب بھی لے جاتی ہے۔
    جو کچھ ہو چکا اس پر قناعت کرو کیونکہ بدنصیبوں کا خمیازہ برداشت کرنے کی پہلی وجہ یہ ہے کہ برے نتائج پر مبنی حالات کو قبول کرکے اس سے باہر نکلنے کی کوشش و حکمت عملی ہی چھوڑ دی جائے۔اگر کامیابی نے آپ کا انکار کیا ہے تو آپ کے پاس بھی اتنی قوت خودارادی ہونی چاہیے کہ آپ ناکامی کا انکار کر سکو۔ درست دماغی سکون بدترین کو قبول کرنے سے ہوتا ہے نفسیاتی اعتبار سے اس کا مطلب تکلیف دہ قوت کا اخراج ہے۔ کچھ بھی براہو جانا حالات کا نام ہے مقدر کا فیصلہ نہیں اور جس انسان کے پاس مقدر بدلنے کی قابلیت ہو وہ برے حالات کو بدلنے میں اپنے عقل و عمل کا کامیاب تجربہ کرتا ہے۔جو لوگ برے حالات کے لیے زہنی طور پر تیار نہ ہوں اور اپنے آپ پر اعتماد نہ رکھتے ہوں وہ نقصانات کے نتائج دیکھ کر اپنی قیمتی زندگیاں پریشانیوں اور الجھنوں کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ آپ کونہ صرف تباہی کی دلدل سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے بلکہ اپنی قسمت کی تعمیر نو کرنے کا فن بھی آناچاہیے۔ہمارے ہسپتالوں میں زیادہ تر بسترا عصابی مریضوں سے بھرے پڑے ہیں جب جان کی بازی ہار جانے والوں کاپوسٹ مارٹم میں طاقتور خوردبین سے اعصابی معائنہ کیا جاتا ہے تو اکثریت کے اعصاب صحت مند اور تندرست جس قدر کسی پہلوان کے ہوتے ہیں ان کے اعصابی امراض کی وجہ ان کے جسمانی اعضا ء کاناکارہ ہوجانا نہیں ہوتا بلکہ مایوسی،ناکامی، شکست،ہار،فکر،رنج،غم،خوف،اور ڈر کے جذبات ہوتے ہیں۔افلاطون کہتا ہے طبیبوں کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ زہن کی طرف توجہ دئیے بغیر جسم کا علاج کرتے ہیں لیکن جسم اور دماغ کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ان کے ساتھ علیحدہ علیحدہ سلوک کیا جا سکتا ہے۔
    روحانی صحت کے لیے اللہ پر مکمل یقین رکھیں عبادات وازکار کو معمول بنائیں اور جسمانی صحت کے لیے گہری پرسکون نیند لیں۔اچھی موسیقی سے لطف اندوز ہوں،زندگی کے مزاحیہ پہلو پر نظر رکھیں قہقہہ مسکراہٹ ہنسی خوشگوار زندگی کے رنگ ہیں اوراچھے لوگوں کاساتھ حالات کے زخموں پر شفابخش مرہم کا کام کرتاہے۔

  • ‘پھر وہی سنڈے’، ٹی 20 ورلڈکپ میں بھارتی شکست پر پاکستانی سوشل میڈیا صارفین عرفان پٹھان کا مذاق اڑانے لگے

    ‘پھر وہی سنڈے’، ٹی 20 ورلڈکپ میں بھارتی شکست پر پاکستانی سوشل میڈیا صارفین عرفان پٹھان کا مذاق اڑانے لگے

    آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں سپر ایٹ مرحلےکےگروپ ون کے میچ میں جنوبی افریقا کے ہاتھوں بھارت کی 76 رنز سے شکست کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے سابق بھارتی کرکٹر عرفان پٹھان کو ایک بار پھر سنڈے یاد دلادیا۔

    بھارت کے شہر احمد آباد میں موجود دنیا کے سب سے بڑے نریندر مودی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں بھارت کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں رنز کے اعتبار سے سب سے بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    جنوبی افریقا نے پہلےکھیلتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹ پر 187 رنز بنائے۔ ہدف کے تعاقب میں بھارتی بیٹنگ لائن بری طرح فلاپ ہوگئی اور پوری ٹیم 19 ویں اوور میں 111 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

    ورلڈکپ کے اہم میچ میں شکست پر جہاں بھارتی شائقین کرکٹ نے سوشل میڈیا پر بھارتی ٹیم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا وہیں پاکستانی سوشل میڈیا صارفین بھی میدان میں آگئے۔

    پاکستان کی فتح کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا صارفین عرفان پٹھان کے پیچھے پڑگئے اور انہیں یاد دلانے لگے کہ آج سنڈے ہے اور صارفین نے میمز کا بھی ڈھیر لگادیا۔

    ایک صارف نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ‘ بھائی، جو بھی یہ پوسٹ دیکھے، عرفان پٹھان کو ٹیگ کرکے بول دو ، سنڈے کیسا رہا،بھائی؟۔’

    ایک اور صارف نے لکھا کہ ‘ کوئی عرفان پٹھان سے تو پوچھ لو سنڈے کیسا رہا؟’۔

    ایک صارف نے عرفان پٹھان کی اداس تصویر شیئر کی جس پر لکھا تھا ‘ پھر وہی سنڈے’۔

    ایک صارف نے سوال کیا کہ کیا عرفان پٹھان نے سرف کھالیا؟

    اس کے علاوہ بھی صارفین کی جانب سے مختلف میمز شیئر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

  • ایران ممکنہ جنگی تیاریوں میں مصروف،سپریم لیڈر نے اختیارات ٹرانسفر کر دیئے، جا نشین مقرر، نام سامنے آگئے،جا نئے

    ایران ممکنہ جنگی تیاریوں میں مصروف،سپریم لیڈر نے اختیارات ٹرانسفر کر دیئے، جا نشین مقرر، نام سامنے آگئے،جا نئے

    تہران – ایران ممکنہ جنگ کے خدشات کے پیشِ نظر اپنی تیاریوں میں مصروف ہے، نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ کو زیادہ تر اختیارات سونپ دیے ہیں تاکہ ملک کی قومی سلامتی کے فیصلے جلد اور مؤثر انداز میں کیے جا سکیں۔

    رپورٹ کے مطابق خامنہ ای نے چار سطحی انتظامی منصوبہ بندی کے تحت اپنے جانشین بھی مقرر کر دیے ہیں، اور اگر اعلیٰ قیادت کسی وجہ سے متاثر ہو جائے تو عبوری انتظام کے لیے علی لاریجانی کو سب سے آگے رکھا گیا ہے، سپریم لیڈر نے علی لاریجانی پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے اور ملک کی خارجہ پالیسی، خاص طور پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی نگرانی بھی انہیں سونپی گئی ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر ایبراهیم رئیسی بھی ضروری صورت میں اختیارات علی لاریجانی کو سونپنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں، جبکہ سٹیووٹکوف کی جانب سے عباس عراقچی سے رابطے کی کوشش میں بھی علی لاریجانی سے اجازت لی گئی۔ دیگر ناموں میں باقر قالیباف اور سابق صدر حسن روحانی کو عبوری انتظام کے لیے زیر غور رکھا گیا ہے۔

    نیویارک ٹائمز کے مطابق جنگ کی صورت میں سپیکر کو مسلح افواج کی کمان سونپی جا سکتی ہے، اس دوران خلیج فارس کے ساحلوں پر میزائل نصب کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری جواب دیا جا سکے۔ ایرانی قیادت کی یہ اقدامات داخلی استحکام اور دفاعی تیاری کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی بین الاقوامی کشیدگی یا جنگ کی صورت میں ملک تیار رہے۔

  • ایک اور لڑاکا تیارہ تباہ

    ایک اور لڑاکا تیارہ تباہ

    نئی دہلی ۔ بھارت کے لڑاکا طیارے اڑتے تابوت بن گئے، ایک اور تیجس لڑاکا طیارہ تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت ایک اور تیجس لڑاکا طیارے سے محروم ہوگیا،تیجس طیارہ تربیتی پرواز کے دوران ایئربیس میں گر کر تباہ ہوا، پائلٹ بروقت اجیکٹ کرنے کی وجہ سے محفوظ رہا۔

    حادثے کے بعد بھارتی ایئرفورس نے تمام تیجس طیاروں کا دوبارہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا، انڈین ایئرفورس کے پاس 32 تیجس ایم کے ون طیارے موجود ہیں۔

    بھارتی میڈیا کےمطابق دو سال کے دوران تیسرا تیجس طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ہے، پہلا تیجس طیارہ 2024 میں بھارتی ریاست راجستھان میں گرکر تباہ ہوا، دوسرا طیارہ گزشتہ سال دبئی ایئرشو میں زمین بوس ہوگیا تھا۔

  • عمران کی رہائی بارے صوبائی وزیر نے بڑی خبر دیدی

    کراچی -صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت اور طویل عمری کے لیے دعا گو ہوں، بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا دارومدار ان کے رویے پر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ریڈ لائن منصوبے کے اسٹیشنز کو ری ڈیزائن کیا جا رہا ہے، دو ماہ سے نئی بسیں کسٹم میں رکی ہوئی ہیں، سیٹوں کی گنجائش کے لحاظ سے جتنی ڈیوٹی پنجاب پر ہے اتنی سندھ پر بھی لاگو کی جائے۔

    پنجاب پر ایک فیصد جبکہ ہماری بسوں پر 17 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کی جا رہی ہے، یکساں گنجائش کی بسوں پر ایک جیسی کسٹم ڈیوٹی لگائی جائے، یہ معاملہ عدالت اور کسٹم حکام کے سامنے بھی زیرِ بحث ہے، ریڈ لائن منصوبے میں رکاوٹیں آئیں جس سے منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا، عمران خان کی رہائی کا معلوم نہیں کب ممکن ہو گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ رمضان کے مہینے میں عمران خان کی صحت اور طویل عمری کے لیے دعا گو ہوں، ان کی رہائی کا دارومدار ان کے رویے پر ہے، ان کی پارٹی میں لیڈر شپ کی ریس لگی ہوئی ہے، پارٹی کو ان کی رہائی کے لیے فوکس رہنا چاہیے، سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے حواری جس طرح اداروں کو نشانہ بناتے ہیں انہیں الفاظ کے انتخاب کو بہتر بنانا چاہیے۔

    اختلاف جمہوریت کا حق ہے لیکن گالم گلوچ نہیں ہو سکتی، بڑے نامور اینکر بھی اسی طرز عمل کا اظہار کر رہے ہیں، لوگوں کی فیملیز اور بچوں کے لیے غلط الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں، اس سوچ کو بہتر بنانے کا مشورہ دیتا ہوں، گورنر ہاؤس ایک آئینی ادارہ ہے جس کی ذمہ داری وفاق اور صوبے کے تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس میں متنازعہ باتیں نہیں ہونی چاہئیں، فاروق ستار اپنے لیول کے مطابق بات کریں، وہ ایک مسکین آدمی ہیں، سنا ہے آج مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول صدیقی کی صلح ہو گئی ہے، دو جماعتوں کے درمیان وعدے ہوئے جن میں سے کتنے پورے ہوئے ن لیگ کی لیڈر شپ کو سوچنا چاہیے، وفاقی حکومت کے فائر وال پراجیکٹ کا مقصد غلط باتوں کو روکنا اور اہم سائٹس کو ہیک ہونے سے بچانا تھا، زبان اور الفاظ کا استعمال اپنے ہاتھ میں ہے۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ ہم نے اپنی پارٹی میں غیر مہذب باتوں پر حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، اخلاقیات کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے، تحریک انصاف کے لوگ اپنے لیڈر سے محبت کریں، رہائی کی کوشش کریں لیکن گالم گلوچ نہ کریں۔

    صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ و اطلاعات نے پرانی سبزی منڈی کے قریب بی آر ٹی منصوبے کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس وقت ہم ریڈ لائن بی آر ٹی کے سینٹر میں موجود ہیں، رمضان المبارک اور روزے کے باوجود ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں، ریڈ لائن بی آر ٹی مختلف چینلجز کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوتی رہی، ان چیلنجز کے باوجود منصوبے کو جاری رکھنا بھی ایک چیلنج بن گیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ یہ اگلے چالیس پچاس سال کی جنریشن کے لیے منصوبہ ہے، عید سے قبل سائیڈ کی سڑکوں کو مکمل کر لیا جائے گا، پیپلز چورنگی تک روڈ بہتر ہو جائے گا، اپریل تک 2.7 کلومیٹر کا کام مکمل کیا جائے گا، کراچی میں میگا پراجیکٹس چل رہے ہیں، شاہراہ بھٹو اپریل تک ایم نائن تک شروع ہو جائے گی، انڈر پاسز پر کام جاری ہے، سندھ حکومت ایف ڈبلیو او اور کے ایم سی کے ساتھ مل کر سڑکیں بنانے میں مصروف ہے۔

    کچھ لوگ اس پر سیاست کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہم ہر حال میں منصوبوں کو مکمل کریں گے، مہنگائی پاکستان کے ہر منصوبے پر آئی ہے، دو ماہ سے بسیں کسٹم میں رکی ہوئی ہیں، پنجاب نے بسوں پر ایک فیصد کسٹم ڈیوٹی چارج کی ہے جبکہ ہم پر 17 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔

  • پنجاب سرکار نے جس طرح سے ٹیچرز کو جرنیلی حکمنامہ جاری کیا ہے کہ گاؤن پہن کر ہی کلاس میں جانا ہے

    محمد اشرف آرائیں کروڑ لعل عیسن ضلع لیہ پنجاب سے
    پنجاب سرکار نے جس طرح سے ٹیچرز کو جرنیلی حکمنامہ جاری کیا ہے کہ گاؤن پہن کر ہی کلاس میں جانا ہے تو مارکیٹ سے گاؤن ہی غائب ہو جائیں گے قیمتیں چار گنا بڑھ جائیں گی دو تین ہفتے دیئے جاتے تا کہ اساتذہ خود سلوا لیتے مگر ان کو کون بتائے کہ کن فیکون سے احکامات جاری نہیں ہوا کرتے اگر مناسب وقت دیا جاتا تو کون سی قیامت آجاتی پرائیویٹ ٹیچرکی توپورےماہ کی تنخواہ میں بمشکل ہی شاید ایک گاؤن بن پائے اساتذہ کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہیں انہیں فرمائشیں سوجھ رہی ہیں خدارا ایسی پالیسیزسےگریزکریں گاؤن اگرلازمی کرناہی ھے تو اسے اگلی تعلیمی سال تک مؤخر کرنا چاہیئے تاکہ اساتذہ آسانی سے اسے اپنا سکیں

  • ابوبکر صحرائی اور علی احمد کی جانب سے سالگرہ کی منفرد مبارکباد

    ابوبکر صحرائی اور علی احمد کی جانب سے سالگرہ کی منفرد مبارکباد

    قاری خواجہ صاحب کی سالگرہ پر کیک کاٹا گیا کثیر اہلِ محبت کی جانب سے مبارکباد
    پاکپتن(ڈسٹرکٹ بیورو چیف)تفصیلات کے مطابق پاکپتن کی عظیم روحانی علمی و مذہبی شخصیت پیرِ طریقت رہبرِ شریعت فخرالعلماء استاذالحُکماء حضرت علامہ مولانا حکیم خواجہ محمد افضل پیرزادہ قادری قلندر سُہروردی رحمة الله علیہ کے صاحبزادہ حضرت علامہ مولانا قاری خواجہ فیض فرید پیرزادہ کی 20 فروری کو سالگرہ کا عظیم اہتمام کیا گیا۔محترم جناب ابوبکر صحرائی اور محترم جناب علی احمد کی جانب سے قاری خواجہ صاحب کی سالگرہ کو منفرد انداز میں منایا گیا اور سالگرہ کا کیک کاٹا گیا اور سالگرہ کی خصوصی مبارکباد پیش کی گئی۔قاری خواجہ صاحب کے برادرِ مکرم پروفیسر حکیم خواجہ عرفان افضل۔خواجہ سردار افضل۔ڈاکٹر رائے حیدر علی اور ڈاکٹر رضوان افضل کی جانب سے مبارکباد پیش کی گئی۔نعلینِ محمد۔راؤ محمد ساجد۔پیر آفتاب فرید چشتی۔حسن سردار۔ڈاکٹر مبشر قاری طیب رضا عطاری(سیالکوٹ)۔ اور دیگر کلاس فیلوز کی جانب سے مبارکباد پیش کی گئی۔قاری خواجہ صاحب کے شاگرد محمد علی حسن(گوجرانوالہ)محمد عبدالعزیز(سیالکوٹ)محمد فیضان فرید۔محمد سبحان فرید۔محمد سانول۔عبدالرحمٰن(لاہور)۔حافظ محمد راشد(سیالکوٹ)۔محمد علی(دوبئی)۔محمد عبدالرحمٰن(اٹلی)۔محمد ساحل.محمد جنید(مسقط)۔حافظ محمد اکرام(سعودی عرب)۔صحافی برادری و دیگر کثیر اہلِ محبت کی جانب سے ملک و بیرونِ ملک سے مبارکباد پیش کی گئی۔اہلِ محبت کا کہنا تھا کہ الحمد لله قاری خواجہ صاحب کا فی سبیل اللہ اہلِ علاقہ اور گِرد ونواع میں ایمرجنسی ضرورت مندو کو ہمہ وقت بلڈ پہنچانے میں اہم کردار ہے۔الحمد لله اپنے والدِ گرامی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اہلِ علاقہ میں خدمتِ خلق کے کاموں میں مصروفِ عمل ہیں جن میں اپنے علاقے کے قبرستان۔جنازہ گا۔مسجد۔مدرسہ کی مکمل زمہ داری سنھبالنا قابلِ تعریف ہے۔اپنے اہلِ علاقہ اور اہلِ محبت و دیگر سے ڈھیر ساری دُعاؤں کو حاصل کرنے والی عظیم شخصیت کی اللہ کریم عمر میں مزید برکتیں عطا فرمائے۔اور ان کے نیک ارادوں میں انہیں کامیابیاں عطا فرمائے۔آمین

  • آپ رمضان پیکج 13 ہزار کے اہل ہیں یا نہیں؟ جانیے

    آپ رمضان پیکج 13 ہزار کے اہل ہیں یا نہیں؟ جانیے

    اسلام آباد. وزیراعظم شہباز شریف رمضان ریلیف پیکج کے تحت 13 ہزار روپے کی مالی امداد کی تقسیم کا آغاز ہوگیا، اہلیت چیک کرنے کا آسان طریقہ سامنے آگیا۔
    وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان المبارک 2026 کے مقدس مہینے میں غریب اور مستحق خاندانوں کے لیے ایک بڑے خصوصی رمضان ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا۔ اس پروگرام کے تحت ملک بھر کے لاکھوں خاندانوں کو نقد مالی امداد فراہم کی جائے گی تاکہ وہ رمضان کی برکات میں اشیائے خورونوش آسانی سے خرید سکیں۔

    حکومت پاکستان کے اس رمضان پیکج کے اہم نکات میں امداد کی رقم، مستحقین کی تعداد، شفاف طریقہ کار، اضافی فنڈز وغیرہ شامل ہے۔ امداد کی رقم کے مطابق ہر مستحق خاندان کو 13,000 روپے دیے جائیں گے۔ یہ رقم تقریباً 1 کروڑ 21 لاکھ خاندانوں میں بلا تفریق تقسیم کی جائے گی۔ رقم کی منتقلی ڈیجیٹل والٹس اور بینک اکاؤنٹس کے ذریعے براہ راست کی جائے گی تاکہ کسی قسم کی کرپشن کا خدشہ نہ رہے۔ پہلے سے زیرِ کفالت افراد (مثلاً بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے صارفین) کے لیے بھی 10 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔

    حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ زیادہ تر مستحق خاندان پہلے ہی سرکاری ریکارڈ میں شامل ہیں، اس لیے انہیں علیحدہ سے درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ جن افراد کا اندراج پہلے سے سماجی تحفظ کے پروگرام میں موجود ہے، انہیں خودکار طریقے سے شامل کیا جائے گا۔

    البتہ اگر کوئی خاندان خود کو مستحق سمجھتا ہے مگر اس کا اندراج نہیں ہے تو وہ متعلقہ سرکاری دفاتر یا آن لائن نظام کے ذریعے اپنی معلومات کی تصدیق کروا سکتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مستحق افراد کی نشاندہی شفاف طریقے سے کی جائے گی تاکہ اصل حقدار تک رقم پہنچ سکے۔

    اس سال امدادی رقم نقد تقسیم کرنے کے بجائے براہِ راست بینک اکاؤنٹ یا ڈیجیٹل بٹوے میں منتقل کی جائے گی۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ ماضی میں یوٹیلٹی اسٹورز پر طویل قطاریں اور ناقص اشیاء کی شکایات سامنے آتی تھیں، جس سے مستحق افراد کی عزتِ نفس مجروح ہوتی تھی۔ اسی لیے حکومت نے نظام کو تبدیل کرتے ہوئے براہِ راست مالی امداد کی پالیسی اپنائی ہے۔

    رقم کی ادائیگی کے لیے مرکزی بینک، یعنی اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے باقاعدہ طریقہ کار جاری کیا ہے تاکہ ادائیگی شفاف، تیز اور محفوظ ہو۔ مستحق خاندان کو اطلاع موصول ہونے کے بعد وہ اپنی رقم بینک یا منظور شدہ مراکز سے حاصل کر سکیں گے۔

    یاد رہے ‏وزیراعظم رمضان پیکیج کے لیے اس لنک سے اپنے گھرانے کی اہلیت چیک کریں۔ ‪pmrrp.nitb.gov.pk

  • سرکاری ملازمین کی موجیں!

    کویت سٹی: راحت کی سانس، سرکاری ملازمین ایک خوشگوار حیرت میں مبتلا تھے۔ وزیر اعظم شیخ احمد العبداللہ الصباح کی قیادت میں کابینہ نے 65ویں قومی دن اور 35ویں یوم آزادی کے موقع پر 25 اور 26 فروری کو 2 دن کی خصوصی تعطیل کا اعلان کیا۔

    کویتی حکومت نے ملک کے قومی دن اور یوم آزادی کے موقع پر 2 دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے، جس سے سرکاری ملازمین کو مؤثر طریقے سے 4 دن کا طویل ویک اینڈ دیا گیا ہے۔

    یہ اعلان وزیر اعظم شیخ احمد العبداللہ الصباح کی زیر صدارت کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے فوراً بعد سامنے آیا۔ عام تعطیل 25 فروری بروز بدھ اور 26 فروری بروز جمعرات کو ہو گی، اس دوران تمام سرکاری وزارتیں، ادارے، تعلیمی ادارے اور عوامی دفاتر مکمل طور پر بند رہیں گے۔

    جمعہ اور ہفتہ کو کویت کے عام ویک اینڈ کے ساتھ، اس کا مطلب ہے کہ سرکاری ملازمین لگاتار 4 دن کے وقفے سے لطف اندوز ہوں گے، اور کام صرف اتوار، یکم مارچ کو دوبارہ شروع ہوگا۔

    ضروری خدمات جیسے سیکورٹی، صحت اور دیگر کلیدی شعبے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فعال رہیں گے کہ عوامی خدمات بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہیں۔ یہ ادارے ہموار کارروائیوں کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی چھٹیوں کے شیڈول کا خود انتظام کریں گے۔ تعطیلات کویت کے 65ویں قومی دن اور 35ویں یوم آزادی کی نشان دہی کرتی ہیں، ایسے سنگ میل جو ملک کی قابل فخر تاریخ اور آزادی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

  • جیکب آباد کے بائی پاس پر قائم کسٹم چیک پوسٹ، جو اسمگلنگ روکنے اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے بنائی گئی تھی، آج خود سنگین الزامات کی زد میں۔

    عوامی میڈیا پریس کلب جیکب آباد: (نامه نگار)
    جیکب آباد کے بائی پاس پر قائم کسٹم چیک پوسٹ، جو اسمگلنگ روکنے اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے بنائی گئی تھی، آج خود سنگین الزامات کی زد میں آ چکی ہے۔

    کہا جا رہا ہے کہ نئے مقرر ہونے والے چوکی انچارج ہریش کمار کی آمد کے ساتھ ہی یہاں تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے اور چیک پوسٹ مبینہ طور پر اسمگلنگ کا مرکز بن گئی ہے۔

    ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نہ صرف غیر ملکی سامان اور کابلی گاڑیاں بے دھڑک کراس ہو رہی ہیں بلکہ جدید اسلحے کا خطرناک کاروبار بھی جاری ہے۔
    بات یہیں ختم نہیں ہوتی…

    اطلاعات ہیں کہ جعلی کرنسی کی بھی مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر اسمگلنگ ہو رہی ہے، جو ملکی معیشت اور شہریوں کی محنت کی کمائی پر براہِ راست وار ہے۔

    چند روز قبل خیرپور میں پکڑے جانے والے جدید اسلحے اور جعلی کرنسی کے بعد شکوک و شبہات مزید گہرے ہو گئے ہیں، اور لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر چیک پوسٹ سے ہی ایسے غیر قانونی کام جاری رہیں گے تو عوام آخر کس پر اعتماد کرے؟

    شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر حفاظتی ادارے خاموش رہے تو عوام کی جان، مال اور مستقبل کی ذمہ داری کون اٹھائے گا؟
    اب سب کی نظریں اعلیٰ حکام پر مرکوز ہیں… کیا اس سنگین معاملے کا سخت نوٹس لیا جائے گا یا سچ ایک بار پھر پردے کے پیچھے چھپ جائے گا؟

  • گل پلازہ پر جوڈیشل کمیشن

    گل پلازہ پر جوڈیشل کمیشن

    ترتیب
    نظام الدین

    گل پلازہ میں آتشزدگی پر میں نے اس کی ایسوسی ایشن پرسوال اٹھایاتو میرے ایک دوست آصف نوی والا نے میرے کالم کو فیک”کرار اس لیے دے دیا کہ سوشل میڈیا پر وائرل منٹینش کی پانچ سو پچاس روپے ماہوار کی رسید فیک”ہے؟بہرحال” جب سندھ حکومت نے اس سانحہ پر جسٹس جناب آغا فیصل کی سربراہی میں ایک جوڈیشل کمیشن بنایا تو عام شہریوں سے بھی اس واقعے سے متعلق شواہد طلب کیے گئے،میں نے فیک”قرار دیئے جانے والی رسید جوڈیشل کمیشن کو جمع کرادی تو کمیشن نے باقاعدہ سماعت میں مجھے شامل کرلیا،اتفاق سےگل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا کو کمیشن کی پہلی سماعت میں پیش ہونا تھا مگر وہ غیر حاضر تھے۔جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر کہاں ہیں؟ باہر آواز لگوائیں،تنویر پاستا کے نوٹس نکلوائیں۔اور کمیشن نے دوسری آواز سینیئر ڈائریکٹر لینڈ کے ایم سی سید عدنان حیدر زیدی کو لگائی اور وہ روسٹرم پر حاضر ہوگئے جن سے
    جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ گل پلازہ کے اطراف روڈ نیٹ ورک آپ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم صرف پلاٹ کی لیز دیتے ہیں۔جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ روڈ پر تجاوزات بھی آپ کا معاملہ نہیں؟ گل پلازہ کا ٹائٹل کیا ہے؟۔سینئر ڈائریکٹر لینڈ نے کہا 1884میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو میونسلپٹی نے 99 سالہ لیز پر دی تھی۔ جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ ان کو زمین کیسے دی؟ کس قانون کے تحت زمین ملی تھی؟رجسٹر میں انٹری سے کیا ملکیت ہوجاتی ہے۔ زمین گرانٹ کی گئی تھی، کس نے لیز جاری کی تھی؟ ہمارے علم کے مطابق لیزسرکاری ادارہ دیتا ہے۔کوئی انفرادی شخص لیز نہیں دے سکتا۔ ڈاریکٹر کوئی معقول جواب نہ دے سکے تو جسٹس صاحب نے کہا آپ کس کو رپورٹ پیش کرتے ہیں؟ وہ بولے میونسپل کمشنر کو ۔کمیشن کے سربراہ نے اڈر دیا نوٹس نکالئے سینیر ڈائریکٹر لینڈ کے ایم سی معاونت نہیں کرسکتے۔ میونسپل کمشنر آئندہ سماعت میں حاضر ہوں ، اس کے بعد گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا کمیشن کی سماعت کے دوران پہنچے تو انہیں کمیشن نے روسٹر پر طلب کرلیا۔ کمیشن نے پوچھا گل پلازہ بند ہونے کا وقت کیا ہے؟صدر نے بتایا مارکیٹ عام دنوں میں ساڑھے 10 سے پونے 11 جبکہ ہفتے کو ساڑھے 10 سے 11 بجے بند ہوتی تھی۔کمیشن نے سوال کیا کہ آفیشل وقت کیا ہے؟ صدر نے کہا ہم نے مقررہ وقت پر کسی کو بند کرنے کا پابند نہیں کیا تھا۔کمیشن نے پوچھا کہ دروازے کیا ایک ایک کرکے بند کرتے تھے؟ صدر نے بتایا کہ گیٹ نمبر ون سے ساڑھے 10بجے دروازے بند کرنا شروع کرتے تھے اور 20 سے 25 منٹ میں دروازے بند کرنے کا عمل مکمل ہوتا تھا۔ ریمپ ساڑھے11بجے بند ہوتا ہے،کمیشن نے پوچھا کیا سی سی ٹی وی ریکارڈ موجود ہے؟اس پر صدر نے کہا عمارت گرنے کے بعد ملبے سے کچھ ڈی وی آر ملے تھے، دو جگہ ڈی وی آر ریکارڈ ہوتےتھے،بیسمنٹ اور سیکیورٹی روم میں، دو ماہ پہلے سی سی ٹی وی سسٹم اپگریڈ کیا گیا تھا جس کے بعد 280 سی سی ٹی وی کیمرے لگے تھے۔مرکزی راہداری پر چھ سے آٹھ فٹ اور میزا نائن پر دس فٹ، کمیشن نے پوچھا کہ اپروول پلان کے مطابق کتنی دکانیں ہیں؟ صدر نے بتایا میں نے عمارت نہیں بنائی، حادثے کے وقت 1153دکانیں لیز تھیں۔2003 میں بیسمنٹ سے پارکنگ ختم کرکے چھت پر پارکنگ بنائی گئی۔ایس بی سی اے حکام نے کہا مزید منزل نہیں بنا سکتے اسی کو توسیع کیا جاسکتا ہے۔ سب لیز کا ریکارڈ ہمارے پاس نہیں ہے۔ صدر نے بتایا کہ ہر دکان سے 15 سو روپے مینٹیننس وصول کی جاتی ہے۔ ہم نے دکان مالکان کو کہا تھا کہ کرائے کا معاہدے ہمارے ذریعے کیا جائے۔ کمیشن نے پوچھا کہ منیجمنٹ کا کیا کردار تھا؟ صدر نے جواب میں کہا مینٹیننس وصول کرنا صفائی، سی سی ٹی وی اورچوکیدار منیج کرنا، کمیشن نے سوال کیا کتنے چوکیدار ہیں؟ صدر نے کہا جب آگ لگی تب 6 تھے، کمیش نے پوچھا آگ بجھانے والے آلات کتنے تھے، صدر سو سلینڈر 65 بال اور ایک ماہ پہلے سلینڈر دوبارہ بھروائے گئے تھے۔ تمام ریکارڈ دفتر میں تھا جو جل چکا ہے۔ کمیشن نے پوچھا کیا آپ کی ایسوسی ایشن رجسٹرڈ ہے؟ صدر نے کہا نہیں۔ کمیشن نے سوال کیا اگر آپ مارکیٹ کے درمیان میں ہوتے تو باہر نکلنے میں کتنا وقت لگتا؟ صدر نے جواب دیا کہ باہر نکلنے اور دیگر منزلوں ہر جانے کے متعدد راستے تھے۔کمیشن نے پوچھاکہ منیجمنٹ کے کتنے لوگ اندر تھے؟ صدر نے بتایا کہ 40 رضا کار تھے جن میں سے 5 شہید ہوئے۔کمیشن نے سوال کیا آپ کب سے صدر ہیں؟ صدر نے کہا 2024 سے، کمیشن نے پوچھا پہلے بھی آپ کہیں کمیٹی میں رہے ہیں؟ صدر نے کہا “آر جے مال” میں بلڈر کے ساتھ تھا، صدر نے پھرکہا آگ لگنے کے بعد 95 فیصد لوگ نکل گئے تھے۔ کمیشن نے سوال کیا آپ نے تمام سیل ڈیڈ کراچی چیمبر کو فراہم کیے ہیں؟ کیا آپ وہ ہمیں فراہم کرسکتے ہیں؟ ہمیں ٹائٹل دیکھنے ہیں۔ صدر نے کہا دوبارہ عمارت بنتی ہے تو ان کو وہی دکانیں دوبارہ ملیں گی۔کمیشن نے سوال کیا کون بنا کر دے رہا ہے؟ صدر نے کہا حکومت نےاعلان کیا ہے، جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ نجی پراپرٹی ہے لیکن سرکار آپ کو دوبارہ بنا کردے گی؟ کمیشن نے گل پلازہ مینجمنٹ اور صدر کو 72 سوالنامہ سمیت
    منٹینش کی تفصیلات تمام قسم کی رسیدیں اور دیگر دستاویزات کمیشن میں جمع کرانے کی ہدایت جاری کی،، سی ای او واٹر کارپوریشن احمد علی صدیقی نے کمیشن کے روبرو بیان میں کہا کہ ہمیں واٹس ایپ پر سینیئر فائر افسر کا پیغام موصول ہوا۔ایس او پی بھی یہ ہی ہے۔ تمام ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔انہوں نے کہا گل پلازہ کا قریبی ہائیڈرنٹ 14 کلومیٹر دور ہے، ہماری پہلی گاڑی 10 بجکر 56 منٹ پر پہنچی اور پانی کی سپلائی بغیرکسی رکاوٹ کے جاری رہی۔ ہیڈ کوارٹر، صدر، لیاری، ناظم آباد ہائیڈرینٹ موجود ہیں۔کمیشن نے پوچھا پہلے تین گھنٹے کے لیے کتنا پانی سپلائی کیا گیا؟ اور کیا فائر اسٹیشنز کے پاس واٹر کارپوریشن کی لائن ہونی چاہیے۔احمد علی صدیقی نے کہا 15فائرہائیڈرنٹس موجود ہیں جہاں سے فائر ٹینڈرز کو روزانہ چھ گھنٹے پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ فائر بریگیڈ ہیڈ کوارٹر میں ایک ملین گیلن یومیہ کا ٹینک موجود ہے۔کمیشن نے پوچھا گل پلازہ میں پہلے دو گھنٹوں میں کتنا پانی استعمال ہوا ہوگا؟ احمد علی صدیقی نے کہا کہ 20 ہزار گیلن پانی ایک گھنٹے میں استعمال ہوتا ہے تو 40 ہزار گیلن استعمال ہوا ہوگا۔جسٹس نے کہا اگلے بارہ گھنٹوں میں آپ کو پانی کی ضرورت تو نہیں پیش آئی ہوگی۔ 24 گھنٹوں میں بھی فائر بریگیڈ کے پاس پانی کی کمی نہیں ہونی چاہیے تھی؟ انکوائری کمیشن نے سی ای او واٹر کارپوریشن سے 12 سوالات کےجوابات اور 7 اہم دستاویزات طلب کرلیں۔سوالات میں پوچھا گیا ہے کہ گل پلازہ کے ارد گرد فائر ہائیڈرنٹس کتنے اور کتنے گل پلازہ کے قریب مینٹین ہیں؟کیا وہ ہائیڈرنٹس فعال تھے اور سانحہ کے وقت پانی کا پریشر کتنا تھا؟ کیا فائر فائٹنگ کے وقت پانی سپلائی جاری تھی؟ کیا پانی کا پریشر کم ہوا؟ کیا کہیں پانی کی فراہمی بند ہوئی ؟ پانی کا پریشر کم ہونے سے آپریشن متاثرہ ہوا؟کیا واٹربورڈہائیڈرنٹس کی انسپیکشن کرتا ہے؟کیا ہائیڈرنٹس کا ریکارڈ مینٹین کیا جاتا ہے؟ کیا سانحہ کے وقت پانی کی کمی کی کوئی شکایت ملی تھی؟ کیا فائر فائٹنگ کے وقت پانی کا پریشر برقرار رہا؟ کیا سانحہ کے وقت ایمرجنسی نافذ کرنے کی درخواست موصول ہوئی؟ کیا پانی کی فراہمی واٹر بورڈ کی زمہ داری تھی کہ پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے؟ گل پلازہ کے قریب ہائیڈرنٹ کا نقشہ پیش کیا جائے؟ ہائیڈرنٹ فعال اور پریشر ریکارڈ فراہم کیا جائے، کتنا پانی فراہم کیا گیا سانحہ کے وقت؟ پانی کی عدم فراہمی علم لائی گئی تھی؟ ہائیڈرنٹ کیسے بلائے جارہے ہیں ایس او پیز پیش کی جائیں۔
    پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ نے کمیشن کو بتایا کہ ابتدائی طور پر 8 زخمی اسپتال لائے گئے۔ جنہیں برنس سینٹر میں علاج کے بعد ڈسچارج کردیا گیا۔ پھر اتوار کی صبح 6 قابل شناخت باڈیز لائی گئیں۔ اگلے 5، 6 روز تک باقیات لائی جاتی رہیں۔ 19 کو 15 باقیات اسپتال لائے گئے۔ 20 تاریخ کو 9، 21 تاریخ کو 22، 22 تاریخ کو 15، 23 تاریخ کو 4، 25 تاریخ کو 10 باقیات لائی گئیں۔
    انہوں نے بتایا کہ ابتدائی 2 روز تک لائے جانے والے لاشیں بعد سے بہتر تھیں۔ بعد میں ٹکڑوں میں ہڈیاں لائی گئیں۔ ایک ایک پیکٹ میں 5 افراد کی باقیات لائی جارہی تھیں، 25 کو 73 باقیات پہنچیں، جس کے بعد جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے ڈی این اے طلب کئے۔انہوں نے بتایا کہ 57 افراد نے خون کے نمونے دیئے ڈی این اے کے لئے 72 باڈیز کے لئے۔ جسٹس نے ریمارکس دیئے ابتدائی شناخت کے بعد 66 ناقابل شناخت باڈیز باقی بچیں۔جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اس کا مطلب ہے 73 سے زائد ہلاکتیں ہوسکتی ہیں؟ پولیس سرجن نے کہا کہ 20 ڈی این اے سے شناخت ہوئی۔ دیگر باقیات سے ڈی این اے سیمپل نہیں مل سکے۔انہوں نے کہا کہ 1400-1600 درجہ حرارت میں 4 سے 5 گھنٹوں میں ڈی این اے ختم ہوجاتا ہے، یہاں 36 گھنٹوں تک آگ لگی ہوئی تھی۔ مقام پر موجودگی کی بنیاد پر بھی شناخت کی جاسکتی ہے۔”نوٹ”
    کالم میں جوڈیشل کمیشن کا صرف خلاصہ نمایاں نکات اور عدالتی کارروائی کے اہم حصے رپورٹ کیے گئے ہیں کمیشن نے اپنی اب تک کی سفارشات میں گل پلازہ کو مکمل فائر آڈٹ تک سیل کرنے اور متاثرہ دوکانداروں کے لیے معاوضے کی تجویز دی ہے تاہم کسی شخصیت کی باقاعدہ گرفتاری کی تصدیق نہیں کی اور تفتیش تاحال جاری رکھنے کی ہدایت دی گئی !!

  • پاکستان کے نظام تعلیم کا دوسری ممالک سے موازنہ

    پاکستان کے نظام تعلیم کا دوسری ممالک سے موازنہ

    خطابیات
    عمرخطاب

    تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کا زینہ اور دورِ حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کا واحد ذریعہ ہے۔ جہاں ترقی یافتہ ممالک نے تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنا کر معاشی اور سماجی بلندیوں کو چھو لیا ہے، وہاں پاکستان کا تعلیمی نظام ابھی تک کئی بنیادی مسائل اور تضادات کا شکار ہے۔ پاکستانی نظامِ تعلیم کا عالمی معیارات کے ساتھ موازنہ کرنے سے وہ خلیج واضح ہوتی ہے جسے پُر کرنا ملکی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔

    ترقی یافتہ ممالک اپنے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا چار سے چھ فیصد تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، پاکستان میں تعلیم کے لیے مختص بجٹ تاریخی طور پر بہت کم رہا ہے۔ اقتصادی سروے دو ہزار چوبیس تا دو ہزار پچیس کے مطابق پاکستان میں تعلیم کے شعبے پر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا صرف صفر اعشاریہ آٹھ فیصد سے ایک اعشاریہ چار فیصد خرچ کیا جا رہا ہے، جو بین الاقوامی اور علاقائی معیار کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ اس قلیل بجٹ کا تقریباً نوے فیصد حصہ اساتذہ کی تنخواہوں اور دوسری انتظامی اخراجات کی نذر ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے انفراسٹرکچر اور تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے بہت کم گنجائش بچتی ہے۔

    تعلیمی رسائی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کے مشکل ترین ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن (پی آئی ای) کی حالیہ رپورٹس کے مطابق دو کروڑ باسٹھ لاکھ سے زائد ایسے بچے سکولوں سے باہر ہیں جن کی عمریں پانچ سے سولہ برس کے درمیان ہیں۔ ان میں سے دو کروڑ بچوں نے کبھی سکول کا رخ نہیں کیا، جو بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔ سکول نہ جانے والے بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ملک میں تعلیمی صورتحال پر تشویشناک ہے۔ یہ شرح ترقی یافتہ ممالک کے بالکل برعکس ہے جہاں امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک میں لازمی تعلیم کا قانون سختی سے نافذ ہے اور تقریباً تمام بچے سکول جاتے ہیں۔ پاکستان میں سکولوں کی کمی کا عالم یہ ہے کہ ہر ایک ہزار بچوں کے لیے سکولوں کی دستیابی کم ہو کر دو اعشاریہ دو صفر رہ گئی ہے۔

    پاکستان کا روایتی نظامِ تعلیم زیادہ تر رٹہ بازی اور امتحانات میں نمبروں کی دوڑ پر مبنی ہے۔ یہاں نصاب کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے میں مسلسل رکاوٹیں حائل رہی ہیں۔ موازنہ کیا جائے تو جاپان، فن لینڈ اور سنگاپور جیسے ممالک کا نظامِ تعلیم تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیتوں اور جذباتی ذہانت پر توجہ دیتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو تدریس کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے، جبکہ پاکستان میں اساتذہ کی بڑی اکثریت ان تصورات سے ناواقف ہے۔ البتہ خیبرپختونخوا حکومت نے اس جانب کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے جو خوش آئند ہے۔

    بہرحال پاکستان میں تعلیمی معیار کی صورتحال تشویشناک ہے؛ ورلڈ بینک کے مطابق ستتر فیصد پاکستانی بچے (دس سال کی عمر تک) ایک سادہ عبارت پڑھنے کے قابل نہیں ہوتے، جسے ‘لرننگ پاورٹی’ کہا جاتا ہے۔ نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ (نیٹ) دو ہزار تئیس کے نتائج بتاتے ہیں کہ چوتھی جماعت کے طلبہ ریاضی اور انگریزی میں اوسطاً صرف بیالیس سے سینتالیس فیصد نمبر حاصل کر پائے۔ دوسری طرف، پروگرام فار انٹرنیشنل سٹوڈنٹ اسسمنٹ (پی آئی ایس اے) جیسے عالمی ٹیسٹوں میں سنگاپور اور جاپان جیسے ممالک پانچ سو سے زائد اسکور کے ساتھ سرفہرست ہیں، جو ان کے نظامِ تعلیم کی مضبوط بنیادوں کا ثبوت ہے۔

    جدید دور میں ٹیکنالوجی کا استعمال تعلیمی ترقی کی بنیاد ہے، مگر پاکستان کے سرکاری سکولوں میں اس کی رسائی بہت محدود ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں صرف چار فیصد سرکاری سکولوں میں تدریسی مقاصد کے لیے انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ڈیجیٹل خواندگی اسّی سے نوے فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ پاکستان میں محض بیس فیصد لوگ پروگرامنگ اور ستائیس فیصد سپریڈ شیٹ کے استعمال جیسے بنیادی ڈیجیٹل ہنر جانتے ہیں۔

    برطانیہ جیسے ممالک میں اساتذہ کے لیے پوسٹ گریجویٹ سرٹیفیکیٹ ان ایجوکیشن (پی جی سی ای) جیسے جامع اور عملی تربیتی پروگرام لازمی ہیں۔ پاکستان میں اساتذہ کی تربیت اکثر محض نظریاتی یا کتابی ہوتی ہے اور عملی مشق (پریکٹیکل) کا دورانیہ بہت کم ہوتا ہے۔ پاکستان کے چوبیس فیصد پرائمری سکول ‘سنگل ٹیچر’ سکول ہیں، جہاں ایک ہی استاد تمام کلاسوں کو پڑھاتا ہے۔ یہ صورتحال معیارِ تعلیم پر براہِ راست منفی اثر ڈالتی ہے۔

    پاکستان کا نظامِ تعلیم اور ترقی یافتہ ممالک کے درمیان فرق صرف وسائل کا نہیں بلکہ ترجیحات اور وژن کا بھی ہے۔ جب تک پاکستان تعلیم کو قومی ہنگامی صورتحال (تعلیمی ایمرجنسی) کے طور پر تسلیم کر کے جی ڈی پی کا بڑا حصہ اس پر خرچ نہیں کرتا اور نصاب کو رٹے سے نکال کر تنقیدی سوچ کی طرف نہیں لاتا، تب تک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونا محض ایک خواب رہے گا۔