ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ کے ڈپٹی چیف آف سٹاف، بنگلہ دیش ایئر فورس کے پہلے چیف اور بیر اعظم ایوارڈ یافتہ ایئر وائس مارشل (ریٹائرڈ) عبدالکریم خاندکر (اے کے خاندکر) 95 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون)
انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق، وہ آج (20 دسمبر 2025) صبح 10:35 بجے ڈھاکہ کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) میں بڑھاپے کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث انتقال کر گئے۔ وہ کئی سالوں سے مختلف امراض میں مبتلا تھے اور 7 دسمبر کو حالت خراب ہونے پر ہسپتال داخل کیا گیا تھا۔
اے کے خاندکر 1930 میں رنگ پور میں پیدا ہوئے اور ان کا آبائی گھر پابنا ضلع کے بیرا اپازیلا میں تھا۔ 1952 میں وہ پاکستان ایئر فورس میں کمیشن یافتہ ہوئے۔ 1971 کی آزادی کی جنگ میں انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ مئی 1971 میں وہ پاکستان ایئر فورس سے علیحدہ ہو کر بھارت پہنچے اور مجیب نگر حکومت نے انہیں مukti باہینی کا ڈپٹی چیف آف سٹاف مقرر کیا۔ ان کی قیادت میں بنگلہ دیش ایئر فورس کی پہلی جنگی یونٹ “کیلو فلائٹ” قائم کی گئی، جس نے محدود وسائل کے باوجود اہم آپریشنز کیے۔ 16 دسمبر 1971 کو پاکستانی فوج کی ہتھیار ڈالنے کی تاریخی تقریب میں وہ مukti باہینی کی نمائندگی کر رہے تھے۔
آزادی کے بعد وہ بنگلہ دیش ایئر فورس کے پہلے چیف بنے اور جنگ زدہ ایئر فورس کی ازسرنو تنظیم نو کی۔ ان کی خدمات پر انہیں 1973 میں بیر اعظم اور 2011 میں انڈیپنڈنس ایوارڈ سے نوازا گیا۔ وہ بعد میں پلاننگ منسٹر، ہائی کمشنر بھارت اور آسٹریلیا بھی رہے اور 2009 میں پابنا-2 سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔
عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے ان کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے کے خاندکر بنگلہ دیش کی آزادی کی جدوجہد کے ایک ناقابل فراموش سپاہی تھے۔ ان کی موت سے قوم نے ایک بہادر بیٹا کھو دیا۔
ان کی نماز جنازہ کل (21 دسمبر) ظہر کے بعد ڈھاکہ کینٹونمنٹ میں بنگلہ دیش ایئر فورس بیس باشار میں ادا کی جائے گی، جس کے بعد ریاستی اعزاز کے ساتھ ملٹری قبرستان میں تدفین کی جائے گی۔
اے کے خاندکر کی جدوجہد اور قربانیاں بنگلہ دیش کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین۔