پی ٹی آئی کا حکومت کے ساتھ مل کر اصلاحات کا فیصلہ
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے حکومت کے ساتھ مل کر ملک میں اصلاحات لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پارٹی کی قومی کانفرنس میں رہنماؤں نے حکومت کو دعوت دی کہ آئیں مل کر بیٹھیں اور ایک دوسرے کی اصلاح کریں۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک سیاسی انتشار اور معاشی چیلنجز سے دوچار ہے، اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو متعدد کیسز میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔
پی ٹی آئی کی قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنما جنید اکبر نے کہا کہ “آئیں مل کر بیٹھیں، آپ اپنی اصلاح کریں اور ہم اپنی۔ ہم نئی شروعات کرنے کو تیار ہیں۔” انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ موجودہ فیصلوں سے عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے، لیکن پارٹی ملک کی بہتری کے لیے بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کو تیار ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے بھی کہا کہ جب ایسے فیصلے ہوتے ہیں جیسے آج ہوا، تو عوام میں عدم اطمینان بڑھتا ہے، لیکن اصلاحات کے ذریعے اسے دور کیا جا سکتا ہے۔
یہ فیصلہ پی ٹی آئی کی جانب سے ایک اہم قدم ہے، جو اب تک حکومت مخالف تحریک چلا رہی تھی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، یہ پیشکش ملک کی سیاسی استحکام اور معاشی بحالی کے لیے ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اصلاحات میں عدالتی نظام، انتخابی قوانین اور معاشی پالیسیاں شامل ہوں گی۔ خاص طور پر خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے عدالتی اصلاحات پر کام جاری ہے، لیکن وکلا برادری نے اس پر شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔ سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحات دراصل لوئر جوڈیشری کو کنٹرول کرنے کی کوشش ہیں۔
دوسری جانب، حکومت کی طرف سے ابھی تک اس پیشکش پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اتحادی جماعتوں جیسے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنماؤں نے ماضی میں پی ٹی آئی کو سیاسی انتقام کا شکار قرار دیا ہے، لیکن محمود اچکزئی جیسے رہنماؤں نے ڈائیلاگ کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ڈائیلاگ کے لیے تیار ہیں، آئیں ایک دوسرے کو معاف کریں۔”
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پی ٹی آئی کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان نے جیل کی حالت پر الزامات لگائے ہیں اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے۔ اگر یہ بات چیت کامیاب ہوئی تو ملک میں سیاسی مفاہمت کی نئی راہ کھل سکتی ہے، ورنہ احتجاج کی لہر مزید تیز ہو سکتی ہے۔
پی ٹی آئی کے اس اعلان سے پارٹی کارکنوں میں جوش پایا جا رہا ہے، جو امید کر رہے ہیں کہ یہ قدم ملک کو بحران سے نکالے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس پیشکش کو قبول کرتی ہے یا نہیں۔