یہ بھی اک سرمائیہ داروں کی ہے جنگِ زرگری

پاکستان میں جمہوری ہویا آمری حکومت یہاں پرنظام عالمی یہودی ساہوکاروں کا مرتب کردہ ہی رہتا ہے۔چونکہ ہم بحیثیت قوم اپنے دین سے برگشتہ ہیں۔ہم اپنے ملک وقوم کواپنی شناخت کے بجائے عالمی شناخت میں سمونے کی کوشش میں ہیں۔ہم نے ستتر سالوں سے آج تک قوم کی سرکاری شناخت انگلش زبان کوبنایا ہوا ہے اوراپنی تعلیم کوبھی انگلش ہی رکھا ہوا ہے دنیا بھرکی زبانوں میں شاید ہماری ہی قومی اور مادری زبانوں میں انگلش کے زیادہ الفاظ شامل ہیں۔ ہمارے یہاں نظامِ حکومت عالمی جمہوری نظام کا چربہ ہے۔ہم ستتر سالوں سے اسی کے لیے لڑمررہے ہیں۔لیکن چونکہ ہم اسے اپنی جمہورکے لیے نہیں اپنے لیے اپناناچاہتے ہیں۔لہذا بقولِ اقبال ”دیوِ استبدادہے جمہوری قبامیں پائے کوب۔توسمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری۔“اس جمہوری نظام میں جوکم ازکم ہمارے یہاں چل رہا ہے دیوِ استبدادپوری طرح پائے کوب ہے۔ہردورجمہوری میں جتناجمہورکااستحصال ہوتا ہے اتناکسی آمری دورمیں شایدنہیں ہوتایاہوتا ہے تووہاں ایک مجبوری توہوتی ہے ناکہ وہاں جمہورکوحق حاصل نہیں ہوتالیکن جب جمہورکے ذریعے حقِ حکومت حاصل کیا گیا ہوتواگروہاں بھی عوام کو آمریت کی طرح ہی کچلاجارہا ہوتوکیااسے جمہوریت کہا جاسکتا ہے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہمارانظام اپنی قومی اورثقافتی حالات کے برعکس ہے اور ہمارے صاحبانِ اختیاروسیاست اس سے نابلد ہیں کہ ان کی ملکی وقومی ضروریات کیا ہیں اورانہیں کیسے پوراکرنا ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم آج تک خودکوانگریزکے غلام سمجھ رہے ہیں اورہماراخیال ہے کہ ہم اس کے تابع رہ کرہی زندہ رہ سکتے ہیں۔اورمیرے خیال میں یہ دوسری وجہ ہی اصل وجہ ہے کہ ہم ابھی تک غلام ہی ہیں۔غلامی جب کسی قوم کے اندرسماجاتی ہے توپھروہ قوم غلامی کے بغیرزندہ رہنا بھی مشکل سمجھتی ہے۔ہمارے ملک کی ہرقیادت اورقیادت گراس پرمتفق ہیں کہ انگریزکی ہرروش کوجوانہوں نے استعماریت کے لیے اپنارکھی تھیں اس پرعمل کرنے کے بغیرملک وقوم کوراہِ راست پررکھنا ناممکن ہے۔اس لیے ہرقومی لیڈراورریاستی ملازم انگریزوں سے تربیت یافتہ ہونا ضروری ہے۔ان کا تعلیمی نظام بلکہ ان کے تعلیمی اداروں کایہاں ہونا ضروری ہے۔ہراعلیٰ سرکاری ملازم اورہرسیاسی قیادت کوان سے تعلیم وتربیت یافتہ ہونا ضروری ہے۔جس کے لیے پاکستان میں ان کے چندبڑے ادارے اس ملک میں بڑے شہروں میں براجمان ہیں،جواس قوم کوتعلیم وتربیت دینے کے لیے اربوں روپے وصول کررہے ہیں۔دو دہائیاں قبل ان کے مقابل ان کے نام سے موسوم کئی طرح کے پرائیویٹ تعلیمی ادارے کھولنے کی اجازت دی گئی۔اورملک کے چپے چپے پرانگلش سکولزکے نام پرہزاروں اسکولزبن گئے حتیٰ کہ سرکاری تعلیمی ادارے طلباکے بغیرہی باں باں کرتے پڑے رہے۔پاکستان میں دوراوریورپ میں موسم بدلنے کاکسی کونہیں پتاہوتا کہ کب بدل جائے لہذاوہ دورتوبدل گیالیکن وہ عالمی زرگری کاتعلیمی نظام نہ بدل سکا۔آنے والی حکومتوں نے اس نظام کوسرکاری طورپراپنانے کا تہیہ کرلیا اب طلباء کی توجہ حاصل کرنے کے لیے سرکاری تعلیمی اسکولزمیں بھی انگلش نرسری سے لازم کردی گئی۔یعنی ”میر کیا سادے ہیں بیمارہوے جس کے سبب، اسی عطارکے لونڈے سے دوالیتے ہیں“۔اس طرح ملک کولٹتے دیکھ کرعالمی شاطروں نے ملک میں انارکی پھیلانے کاایک نیا منصوبہ بنایا جس میں نئی قیادت کواٹھانا اوراسے نئی پودجوکہ انگلش میں پروان چڑھی تھی اس کی قیادت کاجواپہناناتھا۔میڈیائی پذیرائی دے کراسے بالاخربام عروج تک پہنچادیا،زمامِ اقتدارہاتھ میں تھمادی۔اب نظام کوتبدیل کرکے کبھی چائینہ طرز پرکبھی سعودی طرزپرکبھی انگلش طرزپرلے جانا ہے۔ملک میں پہلی بارحکمران عوام کو مشورے دینے لگے کہ اگرمہنگائی ہے توچائے چینی کے بغیرپیئیں، روٹی دوکے بجائے ایک کھائیں وغیرہ حتیٰ کہ دفاعی بجٹ تک کم کیا گیا،پھرجب تنخواہوں میں ترقیاں رکیں توحالات تبدیل ہوگئے۔آنے والوں نے عالمی معاہدوں کو نبھایا اورعوام کوپہلوں سے بھی زیادہ نچوڑالیکن بقول ان کے ملک دیوالیہ ہونے سے بچالیا۔لیکن حالات بدلنے کے باوجودبھی عوام کواسی طرح کے مشکلات کا سامنا ہے۔حتیٰ کہ اب ملک میں ترقی کے کام ہونے لگے،لیکن ساتھ ہی عوام کوعالمی قوانین سکھانے کے لیے جبرواستبدادسے وہ قوانین نافذکیے جارہے ہیں،جو ان ترقی یافتہ ممالک میں ہیں جہاں عوام کے لیے پہلے ساری سہولتیں مہیا کی گئی ہیں۔لیکن جہاں عوام کو روزگارنہیں،جہاں عوام کوسرچھپانے کی جگہ نہیں،صحت کی سہولیات میسرنہیں،وہاں عوام کوہیلمٹ نہ پہننے کے جرم میں دوہزارروپے جرمانہ،جہاں لوگوں کے پاس سڑک نہیں ان لوگوں کوموٹرسائیکل اپنی لائن میں نہ رکھنے پرجرمانہ،جہاں لوگ روزگارکے لیے رکشہ چلاتے ہوں اورپھروہ بھی کسی سے ادھارلے کران کوبھی ہیلمٹ کے بغیرجرمانہ،جب یہ سب غریب سہہ گیاتوحکومت نے بڑوں کوبھی تربیت کرناچاہی،لیکن چندہی دنوں بعد ٹرانسپورٹ کے مالکوں نے ہڑتال کردی جس کے بعد ان کے جرمانے روک دیئے گئے۔لیکن غریبوں کے نہیں رکے۔اسے کہتے ہیں جرمِ ضعیفی کے سزامرگِ مفاجات،اوریہ وہ جمہوری نظام ہے جس کے بارے میں علامہ نے کہا تھا،”یہ بھی اک سرمائیہ داروں کی ہے جنگِ زرگری“اللہ تعالیٰ پاکستان کے عوام کواسلامی نظام کے سائے میں لاکراس قوم کے محکوم ومجبور غریب عوام پررحم فرمائے آمین وماعلی الاالبلاغ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *