لاہور میں مانکی پاکس تیزی سے پھیلنے لگا، پی ایم اے لاہور کا حکومت سے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ
لاہور (محمد منصور ممتاز سے)
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) لاہور کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر واجد علی نے لاہور میں مانکی پاکس کے بڑھتے ہوئے کیسز پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ شہر میں رواں مہینے کے دوران مانکی پاکس کے باعث چار قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جبکہ یہ موذی مرض تیزی سے پھیل رہا ہے، جو ایک نہایت تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
ڈاکٹر واجد علی نے کہا کہ مانکی پاکس ایک وائرل بیماری ہے جو چیچک کے خاندان سے تعلق رکھنے والے وائرس کے باعث ہوتی ہے اور اگرچہ بعض صورتوں میں یہ مرض ہلکا ثابت ہو سکتا ہے، تاہم بچوں، بزرگوں اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد کے لیے یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مانکی پاکس کی عام علامات میں بخار، شدید سر درد، جسم اور پٹھوں میں درد، کمر درد، شدید تھکن اور گردن، بغل یا رانوں میں غدود کا بڑھ جانا شامل ہیں، جبکہ چند دن بعد چہرے سے شروع ہو کر جسم کے مختلف حصوں پر دانے یا چھالے نمودار ہو جاتے ہیں جو بعد ازاں پیپ والے زخموں کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر واجد علی کے مطابق یہ مرض عموماً متاثرہ شخص کے قریبی جسمانی رابطے، دانوں یا زخموں کو چھونے، جسمانی رطوبت، آلودہ کپڑوں، بستر یا تولیے کے استعمال سے پھیلتا ہے، جبکہ طویل قریبی رابطے میں سانس کے ذریعے بھی وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کی صورت میں مانکی پاکس سے جلد کی شدید انفیکشن، نمونیا، آنکھوں کی بیماری، خون میں انفیکشن (سیپسس) جیسی سنگین پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جو بعض مریضوں میں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔
پی ایم اے لاہور کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر واجد علی نے حکومتِ پنجاب اور محکمہ صحت سے مطالبہ کیا کہ مانکی پاکس کی روک تھام کے لیے فوری، مؤثر اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور عوام میں بھرپور آگاہی مہم شروع کی جائے تاکہ لوگ بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں۔
ڈاکٹر واجد علی نے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ بخار یا دانوں کی صورت میں خود کو دوسروں سے الگ رکھیں، متاثرہ افراد سے قریبی رابطے سے گریز کریں، ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں اور ذاتی اشیاء مشترکہ استعمال نہ کریں۔
ڈاکٹر واجد علی نے زور دیا کہ اگر کسی شخص میں مانکی پاکس کی علامات ظاہر ہوں تو وہ فوری طور پر قریبی سرکاری اسپتال یا مستند طبی مرکز سے رجوع کرے اور افواہوں یا غیر مستند سوشل میڈیا معلومات پر عمل کرنے کے بجائے ماہرینِ صحت کے مشورے کو ترجیح دے۔