وینزویلا کے صدر مادورو کو فوری رہا کیا جائے، چین کا امریکا سے مطالبہ

چین نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو فوری طور پر رہا کرے اور وینزویلا کے بحران کو طاقت کے بجائے بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔

چینی وزارت خارجہ نے امریکی کارروائی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی ملک کے رہنما کو زبردستی گرفتار کر کے ملک سے باہر لے جانا بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

اتوار کے روز جاری بیان میں چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکا کو نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی ذاتی سلامتی کو یقینی بنانا چاہیے اور انہیں فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں نہ صرف خطے میں عدم استحکام کو بڑھاتی ہیں بلکہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کے منافی بھی ہیں۔

چین کا یہ ردعمل ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا نے ہفتے کے روز وینزویلا پر فوجی حملے کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو گرفتار کر کے نیویارک منتقل کر دیا۔ امریکی حکام کے مطابق دونوں کو حراست میں رکھا گیا ہے، تاہم اس اقدام پر عالمی سطح پر ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کارروائی کے چند گھنٹوں بعد کہا تھا کہ امریکا اس وقت تک وینزویلا کے امور سنبھالے گا جب تک وہاں “محفوظ، مناسب اور دانشمندانہ” اقتدار کی منتقلی ممکن نہیں ہو جاتی۔ اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور مختلف ممالک نے امریکا سے وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ نے زور دیا ہے کہ وینزویلا کے مسئلے کا حل فوجی طاقت نہیں بلکہ سیاسی مکالمہ اور سفارتی کوششیں ہیں، اور عالمی برادری کو اس بحران کے پرامن حل کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *