بیجنگ: چین کے شمال مغربی علاقے سنکیانگ ایغور خود مختار خطے میں دنیا کی طویل ترین ایکسپریس وے سرنگ ٹریفک کیلئے کھول دی گئی ہے۔
چین نے 26 دسمبر 2025 کو اپنے شاندار انفراسٹرکچر منصوبوں میں ایک اور اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے دنیا کی طویل ترین ایکسپریس وے سرنگ تیان شان شینگ لی ٹنل عوام کے لیے کھول دی ہے۔
22.13 کلومیٹر طویل اس سرنگ کی بدولت شمالی اور جنوبی سنکیانگ کے درمیان سفر کا وقت کئی گھنٹوں سے کم ہو کر صرف 20 منٹ رہ گیا ہے۔

تیان شان پہاڑی سلسلہ وسطی سنکیانگ میں تقریباً 2,500 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے، جو خطے کو شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ ماضی میں اس پہاڑی سلسلے کو عبور کرنے کے لیے خطرناک اور پیچیدہ پہاڑی راستوں سے گزرنا پڑتا تھا، جو بعض مقامات پر 4,000 میٹر کی بلندی تک پہنچ جاتے تھے۔
موسمِ سرما میں برفباری کے باعث یہ راستے اکثر بند ہو جاتے تھے، جس سے طویل چکر لگانا پڑتا تھا۔ جدید انجینئرنگ ٹیکنالوجی کی بدولت چین نے اس قدرتی رکاوٹ پر قابو پا لیا، 3,000 میٹر کی بلندی پر واقع اس سرنگ کی تعمیر ایک بڑا چیلنج تھی، جہاں سردیوں میں درجہ حرارت منفی 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے، جبکہ یہ علاقہ شدید زلزلہ خیز اور پیچیدہ فالٹ لائنز پر مشتمل ہے۔
چائنا کمیونیکیشنز کنسٹرکشن کمپنی کے انجینئر میاؤ باوڈونگ کے مطابق اس منصوبے میں انتہائی طویل سرنگوں کی سروے اور ڈیزائننگ، جدید تعمیراتی طریقوں اور اسمارٹ ٹیکنالوجی پر مبنی حل استعمال کیے گئے، انہوں نے کہا کہ منصوبے کو مکمل کرنے میں پانچ سال لگے۔
تقریباً 5 ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر کی گئی تیان شان شینگ لی ٹنل، ارومچی اور یی لی کو ملانے والی ایکسپریس وے کا مرکزی حصہ ہے جو نہ صرف شمالی اور جنوبی سنکیانگ کے درمیان رابطے کو بہتر بنائے گی بلکہ چین کی جدید انفراسٹرکچر صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔
یہ منصوبہ ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں چین نے انفراسٹرکچر کے شعبے میں غیر معمولی ترقی حاصل کی ہے۔