سرکاری طور پہ شعبہ طب کی ترقی اور بہتری کیلئے احداف مقرر کرکے بہتر مقام دیا جائے
ملک پاکستان میں صدیوں قدیم سے حالیہ وقت تک عوام الناس کو طبی خدمات مہیا کرنے والا شعبہ طب کی انفرادی نیشنل کونسل فار طب کو تحلیل کرنا یا دوسری کونسل میں ضم کرنا طبی معالجین کو ناقابل قبول ہے۔طبی معالجین تک عوام الناس کی رسائی انتہائی آسان اور وقت کی ضرورت ہے اس کو ختم کر کے عوام الناس کے لیے دوسرے معالجین کے ہزاروں ایڈوانس فیس دے کر گھنٹوں انتظار کی لائنوں میں بیٹھ کر اور پھر لیب ٹیسٹوں اور فارمیسی سٹورز کے ہزاروں قیمتی نسخہ جات لے کر بھی اللہ تعالی سے ہی شفا کی امید رکھی جائے گی۔ہرگز نسخہ کے ساتھ دوسرے معالج ہیلتھ سرٹیفکیٹ نہیں دیں گے تو گویا یہ عوام کی تذلیل کا معاملہ ہے۔طب یونانی انبیاء اور اولیاء اللہ کی میراث اور ورثہ ہے۔شعبہ طب جو صدیوں سے ملک پاکستان میں عوام کی صحت کا بے ضرر قدرتی جڑی بوٹیوں کے نسخوں اور ڈائیٹ پلان یعنی علاج بالغذاء سے علاج کی سستی اور قابل رسائی سہولیات مہیا کرتا آ رہا ہے اس کو ختم کر کے عوام الناس کی صحت حاصل کیلئے تذلیل میں اضافہ کرنا شامل حال ہوگا۔خدارا شعبہ کو اسکا مقام دیا جائے بلکہ اس کی مزید بہتری اور ترقی کیلئے احداف مقرر کیے جائیں جیسے ہمارا پڑوسی ملک ہندوستان اپنے ملک میں شعبہ طب کو ایک مقام دیا ہوا ہے اور وہاں کی عوام شعبہ طب کے ذریعے صحت کی زیادہ بہتر سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ادھر ہمارے ملک میں پہلے ہی شعبہ طب کو لاوارث رکھا ہوا ہے ان دکھ بھرے خیالات کا اظہار مرکزی ممبر مجلسِ عاملہ پاکستان طبی کانفرنس حکیم عبدالمجید شامی کررہے تھے۔
نیشنل کونسل فار طب کی تحلیل یا انضمام نا قابل قبول۔حکیم عبدالمجید شامی