فروری 2026 کی تازہ ترین صورتحال کے مطابق، سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جیل میں سہولیات اور طبی معائنے کے حوالے سے اہم احکامات جاری کیے ہیں۔
طبی معائنہ اور صحت کی رپورٹ
- میڈیکل ٹیم کی تشکیل: سپریم کورٹ نے عمران خان کی آنکھوں کے معائنے (جو کہ ‘ریٹینل وین آکلوژن’ کی تشخیص کے بعد ضروری تھا) کے لیے ایک خصوصی میڈیکل ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔
- رپورٹ کی فراہمی: عدالت کی مداخلت کے بعد، پمز (PIMS) ہسپتال کی تیار کردہ تفصیلی طبی رپورٹ عمران خان کے اہل خانہ کے حوالے کر دی گئی ہے۔
- امیکس کیوری (عدالتی معاون) کا تقرر: عدالت نے وکیل سلمان صفدر کو ‘امیکس کیوری’ مقرر کیا ہے تاکہ وہ اڈیالہ جیل میں عمران خان کی بیرک کا دورہ کریں، ان کی صحت کا جائزہ لیں اور اپنی آزادانہ رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔
فون کالز اور ملاقاتیں
- بیٹوں سے بات چیت: سپریم کورٹ نے جیل انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ عمران خان کی ان کے بیٹوں (قاسم اور سلیمان) کے ساتھ ٹیلیفون یا واٹس ایپ کے ذریعے بات چیت کرائی جائے۔
- ملاقات کے حقوق: عدالت نے پی ٹی آئی کی اس یادداشت کو متعلقہ انتظامی حکام کو بھیج دیا ہے جس میں خاندان، وکلاء اور ڈاکٹروں تک فوری رسائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ قیدیوں کو ان کے قانونی حقوق فراہم کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔
اہم نکات کا خلاصہ
| زمرہ | عدالتی حکم / صورتحال |
| طبی سہولت | پمز ہسپتال کی رپورٹ فراہم کی گئی اور ماہرینِ چشم سے معائنے کا حکم دیا گیا۔ |
| فون رسائی | بیٹوں سے بات کروانے کی خصوصی اجازت دی گئی۔ |
| جیل معائنہ | عدالتی معاون (سلمان صفدر) کو بیرک کا معائنہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔ |
| درخواست مسترد | انسداد دہشت گردی عدالت (ATC) نے ‘ذاتی ڈاکٹروں’ سے علاج کی الگ درخواست مسترد کی، تاہم سپریم کورٹ نے ‘سرکاری میڈیکل بورڈ’ کے ذریعے بہتر علاج یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔ |